🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
85. باب
باب:۔۔۔۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 4980
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ حُذَيْفَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:"لَا تَقُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ وَشَاءَ فُلَانٌ، وَلَكِنْ قُولُوا: مَا شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ شَاءَ فُلَانٌ".
حذیفہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم یوں نہ کہو: جو اللہ چاہے اور فلاں چاہے ۱؎ بلکہ یوں کہو: جو اللہ چاہے پھر فلاں چاہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4980]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3371)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/384، 394، 398) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کیونکہ اس جملہ میں اللہ کی مشیت کے ساتھ دوسرے کی مشیت شامل ہے جب کہ اللہ چاہے پھر فلاں چاہے میں ایسی بات نہیں ہے، کیونکہ اللہ کے چاہنے کے بعد پھر دوسرے کے چاہنے میں کوئی قباحت نہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4778)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥حذيفة بن اليمان العبسي، أبو عبد اللهصحابي
👤←👥عبد الله بن يسار الجهني
Newعبد الله بن يسار الجهني ← حذيفة بن اليمان العبسي
ثقة
👤←👥منصور بن المعتمر السلمي، أبو عتاب
Newمنصور بن المعتمر السلمي ← عبد الله بن يسار الجهني
ثقة ثبت
👤←👥شعبة بن الحجاج العتكي، أبو بسطام
Newشعبة بن الحجاج العتكي ← منصور بن المعتمر السلمي
ثقة حافظ متقن عابد
👤←👥هشام بن عبد الملك الباهلي، أبو الوليد
Newهشام بن عبد الملك الباهلي ← شعبة بن الحجاج العتكي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
4980
لا تقولوا ما شاء الله وشاء فلان ولكن قولوا ما شاء الله ثم شاء فلان
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4980 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4980
فوائد ومسائل:
پہلے جملےمیں اللہ کی مشیت (چاہنے) میں اوروں کو بھی شریک کرنا ہے۔
جو ناجائز اور حرام ہے، بلکہ وہی ہوتا ہے جو صرف اور صرف اللہ تعالیٰ چاہے، البتہ دوسرے جملے میں فرق کے ساتھ دوسروں کی مشیت کا اظہار کردے، تو جائز ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4980]