سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
86. باب في صلاة العتمة
باب: نماز عشاء کو عتمہ کہنا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 4985
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا مِسْعَرُ بْنُ كِدَامٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ، قَالَ مِسْعَرٌ: أُرَاهُ مِنْ خُزَاعَةَ:" لَيْتَنِي صَلَّيْتُ فَاسْتَرَحْتُ، فَكَأَنَّهُمْ عَابُوا عَلَيْهِ ذَلِكَ، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" يَا بِلَالُ، أَقِمْ الصَّلَاةَ أَرِحْنَا بِهَا".
سالم بن ابی الجعد کہتے ہیں کہ ایک شخص نے کہا: کاش میں نماز پڑھ لیتا تو مجھے سکون مل جاتا، مسعر کہتے ہیں: میرا خیال ہے یہ بنو خزاعہ کا کوئی آدمی تھا، تو لوگوں نے اس پر نکیر کی کہ یہ نماز کو تکلیف کی چیز سمجھتا ہے تو اس نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے، آپ فرما رہے تھے: ”اے بلال نماز کے لیے اقامت کہو اور ہمیں اس سے آرام و سکون پہنچاؤ“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4985]
جناب سالم بن ابی جعد سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے کہا، مسعر کا خیال ہے کہ وہ قبیلہ خزاعہ سے تھا: ”کاش میں نماز پڑھ لیتا تو سکون پاتا۔“ تو دوسرے لوگوں نے گویا اس کے اس انداز پر عیب لگایا، تو اس نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «يَا بِلَالُ، أَقِمِ الصَّلَاةَ، أَرِحْنَا بِهَا» ”بلال! نماز کی اقامت کہو، ہمیں اس سے راحت پہنچاؤ۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4985]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 15576)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/364) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (1253)
صالح بن أبي الجعد برئ من التدليس
مشكوة المصابيح (1253)
صالح بن أبي الجعد برئ من التدليس
الرواة الحديث:
Sunan Abi Dawud Hadith 4985 in Urdu
سالم بن أبي الجعد الأشجعي ← اسم مبهم