سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
86. باب في صلاة العتمة
باب: نماز عشاء کو عتمہ کہنا کیسا ہے؟
حدیث نمبر: 4986
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَ: انْطَلَقْتُ أَنَا وَأَبِي إِلَى صِهْرٍ لَنَا مِنْ الْأَنْصَارِ نَعُودُهُ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ، فَقَالَ لِبَعْضِ أَهْلِهِ: يَا جَارِيَةُ، ائْتُونِي بِوَضُوءٍ لَعَلِّي أُصَلِّي فَأَسْتَرِيحَ , قال: فَأَنْكَرْنَا ذَلِكَ عَلَيْهِ، فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" قُمْ يَا بِلَالُ، فَأَرِحْنَا بِالصَّلَاةِ".
عبداللہ بن محمد بن حنفیہ کہتے ہیں میں اور میرے والد انصار میں سے اپنے ایک سسرالی رشتہ دار کے پاس اس کی (عیادت) بیمار پرسی کرنے کے لیے گئے، تو نماز کا وقت ہو گیا، تو اس نے اپنے گھر کی کسی لڑکی سے کہا: اے لڑکی! میرے لیے وضو کا پانی لے آتا کہ میں نماز پڑھ کر راحت پا لوں تو اس پر ہم نے ان کی نکیر کی، تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے ”اے بلال اٹھو اور ہمیں نماز سے آرام پہنچاؤ“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4986]
جناب عبداللہ بن محمد ابن حنفیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں اور میرے والد انصاریوں میں ہمارے سسرالیوں کے ہاں عیادت کے لیے گئے تو نماز کا وقت ہو گیا۔ تو انہوں نے اپنے گھر والوں میں سے کسی کو کہا: ”اے لڑکی! وضو کے لیے پانی لاؤ، شاید میں نماز پڑھ لوں تو راحت پاؤں۔“ تو ہم نے ان کا یہ جملہ پسند نہ کیا۔ تو انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: «يَا بِلَالُ، أَرِحْنَا بِالصَّلَاةِ» ”اے بلال! اٹھو ہمیں نماز کے ساتھ راحت پہنچاؤ۔“ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4986]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15616)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/371) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
الحديث السابق (4985) شاھد له
الحديث السابق (4985) شاھد له
الرواة الحديث:
Sunan Abi Dawud Hadith 4986 in Urdu
عبد الله بن الحنيفة الهاشمي ← اسم مبهم