سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
92. باب ما جاء في المزاح
باب: ہنسی مذاق (مزاح) کا بیان۔
حدیث نمبر: 4998
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ،" أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، احْمِلْنِي , قال النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّا حَامِلُوكَ عَلَى وَلَدِ نَاقَةٍ , قال: وَمَا أَصْنَعُ بِوَلَدِ النَّاقَةِ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: وَهَلْ تَلِدُ الْإِبِلَ إِلَّا النُّوقُ".
انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے سواری عطا فرما دیجئیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہم تو تمہیں اونٹنی کے بچے پر سوار کرائیں گے“ وہ بولا: میں اونٹنی کے بچے کا کیا کروں گا؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آخر ہر اونٹ اونٹنی ہی کا بچہ تو ہوتا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 4998]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/البر والصلة 57 (1991)، (تحفة الأشراف: 655)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/267) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4886)
حميد عنعن لكنه كان يدلس عن ثابت البناني عن أنس رضي الله عنه وثابت البناني ثقة
مشكوة المصابيح (4886)
حميد عنعن لكنه كان يدلس عن ثابت البناني عن أنس رضي الله عنه وثابت البناني ثقة
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
1991
| حاملك على ولد الناقة فقال يا رسول الله ما أصنع بولد الناقة فقال رسول الله وهل تلد الإبل إلا النوق |
سنن أبي داود |
4998
| حاملوك على ولد ناقة قال وما أصنع بولد الناقة فقال النبي وهل تلد الإبل إلا النوق |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 4998 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 4998
فوائد ومسائل:
خوش طبعی اور ہنسی مذاق انسانی طبیعت کا لازمہ ہے، اس سے طبیعت میں بشاشت آجاتی ہے۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس سے موصوف تھے، مگر اس میں حق وصدق کےسوا کچھ نہ ہوتا تھا۔
بخلاف اس کے جو کوئی جھوٹ بول کر ہنسے ہنسائے وہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوتا ہے۔
خوش طبعی اور ہنسی مذاق انسانی طبیعت کا لازمہ ہے، اس سے طبیعت میں بشاشت آجاتی ہے۔
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس سے موصوف تھے، مگر اس میں حق وصدق کےسوا کچھ نہ ہوتا تھا۔
بخلاف اس کے جو کوئی جھوٹ بول کر ہنسے ہنسائے وہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوتا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 4998]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 1991
ہنسی مذاق، خوش طبعی اور دل لگی کا بیان۔
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کی درخواست کی، آپ نے فرمایا: ”میں تمہیں سواری کے لیے اونٹنی کا بچہ دوں گا“، اس آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اونٹنی کا بچہ کیا کروں گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا اونٹ کو اونٹنی کے سوا کوئی اور بھی جنتی ہے؟“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1991]
انس بن مالک رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سواری کی درخواست کی، آپ نے فرمایا: ”میں تمہیں سواری کے لیے اونٹنی کا بچہ دوں گا“، اس آدمی نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں اونٹنی کا بچہ کیا کروں گا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا اونٹ کو اونٹنی کے سوا کوئی اور بھی جنتی ہے؟“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب البر والصلة/حدیث: 1991]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
یعنی اونٹ اونٹنی کا بچہ ہی تو ہے،
ایسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا تھا: (لَا تَدخُلُ الجَنَّةَ عَجُوز) یعنی بوڑھیا جنت میں نہیں جائیں گی،
جس کا مطلب یہ تھا کہ جنت میں داخل ہوتے وقت ہر عورت نوجوان ہوگی،
اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان:
-إني حاملك على ولد الناقة) کا بھی حال ہے،
مفہوم یہ ہے کہ اگر کہنے والے کی بات پر غور کرلیاجائے تو پھر سوال کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔
وضاحت:
1؎:
یعنی اونٹ اونٹنی کا بچہ ہی تو ہے،
ایسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک موقع پر فرمایا تھا: (لَا تَدخُلُ الجَنَّةَ عَجُوز) یعنی بوڑھیا جنت میں نہیں جائیں گی،
جس کا مطلب یہ تھا کہ جنت میں داخل ہوتے وقت ہر عورت نوجوان ہوگی،
اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان:
-إني حاملك على ولد الناقة) کا بھی حال ہے،
مفہوم یہ ہے کہ اگر کہنے والے کی بات پر غور کرلیاجائے تو پھر سوال کی ضرورت ہی پیش نہیں آئے گی۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 1991]
حميد بن أبي حميد الطويل ← أنس بن مالك الأنصاري