سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
92. باب ما جاء في المزاح
باب: ہنسی مذاق (مزاح) کا بیان۔
حدیث نمبر: 5000
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ الْفَضْلِ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْعَلَاءِ، عَنْ بُسْرِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي إِدْرِيسَ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ:" أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ وَهُوَ فِي قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ، فَسَلَّمْتُ، فَرَدَّ وَقَالَ: ادْخُلْ , فَقُلْتُ: أَكُلِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ , قال: كُلُّكَ فَدَخَلْتُ".
عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں غزوہ تبوک میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ چمڑے کے ایک خیمے میں قیام پذیر تھے، میں نے آپ کو سلام کیا تو آپ نے جواب دیا، اور فرمایا: ”اندر آ جاؤ“ تو میں نے کہا کہ پورے طور سے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا: ”پورے طور سے“ چنانچہ میں اندر چلا گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5000]
سیدنا عوف بن مالک اشجعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ تبوک کے سفر میں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چمڑے کے ایک خیمے میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ میں نے سلام کہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا اور فرمایا: ”اندر آ جاؤ۔“ میں نے عرض کیا: ”کیا میں سارا ہی آ جاؤں، اے اللہ کے رسول!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سارا ہی آ جاؤ۔“ اور میں اندر حاضر ہو گیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5000]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الجزیة 15 (3176)، سنن ابن ماجہ/الفتن 42 (4042)، (تحفة الأشراف: 19003، 10918)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/22) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3176)
مشكوة المصابيح (4890)
مشكوة المصابيح (4890)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
5000
| ادخل فقلت أكلي يا رسول الله قال كلك فدخلت |
Sunan Abi Dawud Hadith 5000 in Urdu
أبو إدريس الخولاني ← عوف بن مالك الأشجعي