سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
94. باب ما جاء في المتشدق في الكلام
باب: ٹر ٹر باتیں کرنے والے کا بیان۔
حدیث نمبر: 5005
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْبَاهِلِيُّ , وَكَانَ يَنْزِلُ الْعَوَقَةَ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ بِشْرِ بْنِ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، قال أبو داود: هُوَ ابْنُ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبْغِضُ الْبَلِيغَ مِنَ الرِّجَالِ الَّذِي يَتَخَلَّلُ بِلِسَانِهِ تَخَلُّلَ الْبَاقِرَةِ بِلِسَانِهَا".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ دشمنی رکھتا ہے تڑتڑ بولنے والے ایسے لوگوں سے جو اپنی زبان کو ایسے پھراتے ہیں جیسے گائے (گھاس کھانے میں) چپڑ چپڑ کرتی ہے، یعنی بے سوچے سمجھے جو جی میں آتا ہے بکے جاتا ہے“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5005]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأدب 72 (2853)، (تحفة الأشراف: 8833)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/165، 187) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4800)
أخرجه الترمذي (2853 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (4800)
أخرجه الترمذي (2853 وسنده حسن)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2853
| الله يبغض البليغ من الرجال الذي يتخلل بلسانه كما تتخلل البقرة |
سنن أبي داود |
5005
| الله يبغض البليغ من الرجال الذي يتخلل بلسانه تخلل الباقرة بلسانها |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 5005 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5005
فوائد ومسائل:
فصاحت وبلاغت اصحاب علم وفضل میں ایک عمدہ صفت ہے، مگر اس میں تصنع بناوٹ اور دھاڑنےکی کیفیت کسی طرح بھی اخلاقا یا شرعا پسندیدہ نہیں بالخصوص جب خلاف حقیقت باتیں بنائی جائیں۔
فصاحت وبلاغت اصحاب علم وفضل میں ایک عمدہ صفت ہے، مگر اس میں تصنع بناوٹ اور دھاڑنےکی کیفیت کسی طرح بھی اخلاقا یا شرعا پسندیدہ نہیں بالخصوص جب خلاف حقیقت باتیں بنائی جائیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5005]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 2853
فصاحت و بیان کا بیان۔
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ایسے مبالغہ کرنے والے شخص کو ناپسند کرتا ہے جو اپنی زبان ایسے چلاتا ہے جیسے گائے چلاتی ہے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2853]
عبداللہ بن عمرو رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ ایسے مبالغہ کرنے والے شخص کو ناپسند کرتا ہے جو اپنی زبان ایسے چلاتا ہے جیسے گائے چلاتی ہے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الأدب/حدیث: 2853]
اردو حاشہ:
وضاحت:
1؎:
جیسے گائے چارے کو اپنی زبان سے لپیٹ لپیٹ کر اپنی خوراک بناتی ہے اسی طرح چرب زبان آدمی بات کو لپیٹ لپیٹ کر بیان کرتا چلا جاتا ہے،
یہ صورت خاص کر غلط باتوں کے سلسلے ہی میں ہو تی ہے،
ایسی فصاحت وبلاغت ناپسندیدہ ہے۔
وضاحت:
1؎:
جیسے گائے چارے کو اپنی زبان سے لپیٹ لپیٹ کر اپنی خوراک بناتی ہے اسی طرح چرب زبان آدمی بات کو لپیٹ لپیٹ کر بیان کرتا چلا جاتا ہے،
یہ صورت خاص کر غلط باتوں کے سلسلے ہی میں ہو تی ہے،
ایسی فصاحت وبلاغت ناپسندیدہ ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 2853]
عاصم بن سفيان الثقفي ← عبد الله بن عمرو السهمي