سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
95. باب ما جاء في الشعر
باب: شعر کا بیان۔
حدیث نمبر: 5015
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمِصِّيصِيُّ لُوَيْنٌ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُرْوَةَ , وَهِشَامٍ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَضَعُ لِحَسَّانَ مِنْبَرًا فِي الْمَسْجِدِ، فَيَقُومُ عَلَيْهِ يَهْجُو مَنْ قَالَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ رُوحَ الْقُدُسِ مَعَ حَسَّانَ مَا نَافَحَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حسان رضی اللہ عنہ کے لیے مسجد میں منبر رکھتے، وہ اس پر کھڑے ہو کر ان لوگوں کی ہجو کرتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں بے ادبی کرتے تھے، تو (ایک بار) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یقیناً روح القدس (جبرائیل) حسان کے ساتھ ہوتے ہیں جب تک وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے دفاع کرتے ہیں“۔ [سنن ابي داود/كتاب الأدب /حدیث: 5015]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأدب 69 (2846)، (تحفة الأشراف: 17020، 16351)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/فضائل الصحابہ 34 (2485)، مسند احمد (6/72) (حسن)»
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4805)
أخرجه الترمذي (2846 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (4805)
أخرجه الترمذي (2846 وسنده حسن)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
2846
| يضع لحسان منبرا في المسجد يقوم عليه قائما يفاخر عن رسول الله الله يؤيد حسان بروح القدس ما يفاخر عن رسول الله |
سنن أبي داود |
5015
| يضع لحسان منبرا في المسجد فيقوم عليه يهجو من قال في رسول الله روح القدس مع حسان ما نافح عن رسول الله |
المعجم الصغير للطبراني |
589
| اهج المشركين ، اللهم أيده بروح القدس |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 5015 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5015
فوائد ومسائل:
1۔
مسجد میں بصورت اشعار رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پیش کرنا ایک مباح عمل ہے۔
2۔
یہ حضرت حسان کا عظیم شرف تھا کہ ایک اعلیٰ مقصد کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا منبر پیش فرمایا۔
اور تایئد وجبرئیل کی خوشخبری سنائی۔
3۔
اس حدیث کا پس منظر پیش نظر رکھنا چاہیے۔
کہ حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے واقعہ افک میں ملوث ہوگئے تھے۔
اور انہیں حد بھی لگائی گئی تھی۔
بعد ازاں جب کسی نے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سامنے ان کی مذمت کی تو انہوں نے اپنے ذاتی معاملے سے صرف نظر کرتے ہوئے ان کی اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خدمات کا برملا اظہار فرمایا۔
جو اس حدیث میں بیان ہوا ہے۔
1۔
مسجد میں بصورت اشعار رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم پیش کرنا ایک مباح عمل ہے۔
2۔
یہ حضرت حسان کا عظیم شرف تھا کہ ایک اعلیٰ مقصد کے لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا منبر پیش فرمایا۔
اور تایئد وجبرئیل کی خوشخبری سنائی۔
3۔
اس حدیث کا پس منظر پیش نظر رکھنا چاہیے۔
کہ حضرت حسان رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے واقعہ افک میں ملوث ہوگئے تھے۔
اور انہیں حد بھی لگائی گئی تھی۔
بعد ازاں جب کسی نے ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سامنے ان کی مذمت کی تو انہوں نے اپنے ذاتی معاملے سے صرف نظر کرتے ہوئے ان کی اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے خدمات کا برملا اظہار فرمایا۔
جو اس حدیث میں بیان ہوا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5015]
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق