سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
122. باب في العصبية
باب: عصبیت (تعصب) کا بیان۔
حدیث نمبر: 5122
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ , حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ مِخْرَاقٍ، عَنْ أَبِي كِنَانَةَ، عَنْ أَبِي مُوسَى، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" ابْنُ أُخْتِ الْقَوْمِ مِنْهُمْ".
ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قوم کی بہن کا لڑکا یعنی بھانجا اسی قوم کا ایک فرد ہے“۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5122]
سیدنا ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قوم کی بہن کا بیٹا (بھانجا) قوم کا فرد ہوتا ہے۔“ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5122]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 9151)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/396) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
وله شواھد عند البخاري (3828) ومسلم (1059) وغيرھما
وله شواھد عند البخاري (3828) ومسلم (1059) وغيرھما
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
5122
| ابن أخت القوم منهم |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 5122 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5122
فوائد ومسائل:
بہن یا بیٹی اگر کسی دوسری دور کی قوم میں بیاہی جائے تو ا س سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اب ان سے کوئی رشتہ ناطہ نہیں رہا۔
بلکہ رشتے اور برادری کا حلقہ اور مزید وسیع ہوا۔
اور ان کے ساتھ صلہ رحمی کے حقوق وروابط بالکل اسی طرح ہونے چاہیں جیسے اپنی قوم وبرادری میں ہوتےہیں۔
حق اور خیر میں ان سے تعاون کرنا ضروری ہے۔
بہن یا بیٹی اگر کسی دوسری دور کی قوم میں بیاہی جائے تو ا س سے یہ نہ سمجھا جائے کہ اب ان سے کوئی رشتہ ناطہ نہیں رہا۔
بلکہ رشتے اور برادری کا حلقہ اور مزید وسیع ہوا۔
اور ان کے ساتھ صلہ رحمی کے حقوق وروابط بالکل اسی طرح ہونے چاہیں جیسے اپنی قوم وبرادری میں ہوتےہیں۔
حق اور خیر میں ان سے تعاون کرنا ضروری ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5122]
Sunan Abi Dawud Hadith 5122 in Urdu
أبو كنانة القرشي ← عبد الله بن قيس الأشعري