علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
138. باب كيف الاستئذان
باب: گھر میں داخل ہونے کے لیے اجازت کس طرح طلب کی جائے؟
حدیث نمبر: 5176
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ. ح وحَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ، حَدَّثَنَا رَوْحٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي سُفْيَانَ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ أَخْبَرَهُ، عَنْ كَلَدَةَ بْنِ حَنْبَلٍ،" أَنَّ صَفْوَانَ بْنَ أُمَيَّةَ بَعَثَهُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلَبَنٍ وَجَدَايَةٍ وَضَغَابِيسَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِأَعْلَى مَكَّةَ، فَدَخَلْتُ وَلَمْ أُسَلِّمْ، فَقَالَ: ارْجِعْ، فَقُلْ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ" , وَذَلِكَ بَعْدَ مَا أَسْلَمَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ، قَالَ عَمْرٌو: وَأَخْبَرَنِي ابْنُ صَفْوَانَ بِهَذَا أَجْمَعَ، عَنْ كَلَدَةَ بْنِ حَنْبَلٍ وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُهُ مِنْهُ، قَالَ أَبُو دَاوُدَ: قَالَ يَحْيَى بْنُ حَبِيبٍ أُمَيَّةُ بْنُ صَفْوَانَ , وَلَمْ يَقُلْ سَمِعْتُهُ مِنْ كَلَدَةَ بْنِ حَنْبَلٍ، وقَالَ يَحْيَى أَيْضًا: عَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَفْوَانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ كَلَدَةَ بْنَ الْحَنْبَلِ أَخْبَرَهُ.
کلدہ بن حنبل سے روایت ہے کہ صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ نے انہیں دودھ، ہرن کا بچہ اور چھوٹی چھوٹی ککڑیاں دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، اس وقت آپ مکہ کے اونچائی والے حصہ میں تھے، میں آپ کے پاس گیا، اور آپ کو سلام نہیں کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوٹ کر (باہر) جاؤ اور (پھر سے آ کر) السلام علیکم کہو، یہ واقعہ صفوان بن امیہ کے اسلام قبول کر لینے کے بعد کا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5176]
سیدنا کلدہ بن حنبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ نے اس کو دودھ، ہرن کا بچہ اور ککڑیاں دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی بالائی جانب میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ کلدہ کہتے ہیں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں جا داخل ہوا اور سلام نہ کہا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پیچھے ہٹو اور کہو: «السَّلَامُ عَلَيْكُمْ» ”السلام علیکم“۔“ یہ واقعہ صفوان بن امیہ کے مسلمان ہو جانے کے بعد کا ہے۔ عمرو (عمرو بن ابوسفیان) نے کہا: ”مجھے یہ سب (امیہ) ابن صفوان نے کلدہ بن حنبل کے واسطے سے بیان کیا اور اس میں سماع کا ذکر نہیں کیا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا کہ یحییٰ بن حبیب نے (ابن امیہ کی صراحت کی اور) امیہ بن صفوان کہا اور کلدہ بن حنبل سے سماع کی صراحت نہیں کی اور یحییٰ بن حبیب نے یہ بھی کہا کہ عمرو بن عبداللہ بن صفوان نے بصیغہ اخبار روایت کیا۔ [سنن ابي داود/أبواب النوم /حدیث: 5176]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الاستئذان 18 (2710)، (تحفة الأشراف: 11167)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/414) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4671)
أخرجه الترمذي (2710 وسنده حسن)
َدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ
مشكوة المصابيح (4671)
أخرجه الترمذي (2710 وسنده حسن)
َدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
5176
| ارجع فقل السلام عليكم |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 5176 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5176
فوائد ومسائل:
1: مجلس میں جانے کا ادب اور اجازت کے لئے اسلام علیکم کہنا ضروری ہے۔
2: اور جو شخص اس کی خلاف ورزی کرے اسے عملا ادب سکھایا جائے۔
مجلس میں جانے کا ادب اور اجازت کے لئے اسلام علیکم کہنا ضروری ہے۔
1: مجلس میں جانے کا ادب اور اجازت کے لئے اسلام علیکم کہنا ضروری ہے۔
2: اور جو شخص اس کی خلاف ورزی کرے اسے عملا ادب سکھایا جائے۔
مجلس میں جانے کا ادب اور اجازت کے لئے اسلام علیکم کہنا ضروری ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5176]
Sunan Abi Dawud Hadith 5176 in Urdu
كلدة بن الحنبل الجمحي ← أمية بن صفوان الأصغر