سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
144. باب كيف السلام
باب: سلام کس طرح کیا جائے؟
حدیث نمبر: 5195
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ , أَخْبَرَنَا جَعْفَرُ بْنُ سُلَيْمَانَ , عَنْ عَوْفٍ , عَنْ أَبِي رَجَاءٍ , عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ , قَالَ:" جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ , فَرَدَّ عَلَيْهِ السَّلَامَ , ثُمَّ جَلَسَ , فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: عَشْرٌ , ثُمَّ جَاءَ آخَرُ , فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ , فَرَدَّ عَلَيْهِ , فَجَلَسَ , فَقَالَ: عِشْرُونَ , ثُمَّ جَاءَ آخَرُ , فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ , فَرَدَّ عَلَيْهِ , فَجَلَسَ , فَقَالَ: ثَلَاثُونَ".
عمران بن حصین رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اس نے ”السلام علیکم“ کہا، آپ نے اسے سلام کا جواب دیا، پھر وہ بیٹھ گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو دس نیکیاں ملیں“ پھر ایک اور شخص آیا، اس نے ”السلام علیکم ورحمتہ اﷲ“ کہا، آپ نے اسے جواب دیا، پھر وہ شخص بھی بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ”اس کو بیس نیکیاں ملیں“ پھر ایک اور شخص آیا اس نے ”السلام علیکم ورحمتہ اﷲ وبرکاتہ“ کہا، آپ نے اسے بھی جواب دیا، پھر وہ بھی بیٹھ گیا، آپ نے فرمایا: ”اسے تیس نیکیاں ملیں“۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5195]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الاستئذان 3 (2689)، (تحفة الأشراف: 10874)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/439، 440)، سنن الدارمی/الاستئذان 12 (2682) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (4644)
أخرجه الترمذي (2689 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (4644)
أخرجه الترمذي (2689 وسنده حسن)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
5195
| جاء رجل إلى النبي قال السلام عليكم فرد ثم جلس قال النبي عشر ثم جاء آخر قال السلام عليكم ورحمة الله فرد عليه فجلس قال عشرون ثم جاء آخر قال السلام عليكم ورحمة الله وبركاته فرد عليه فجلس قال ثلاثون |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 5195 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5195
فوائد ومسائل:
سلام کے ہر کلمہ پر دس نیکیاں ملتی ہیں، کو صرف (السلام علیکم) کہے اسے دس، جو اس پر (و رحمتة اللہ) کا اضافہ کرے اس بیس اور جو (وبرکاته) کا کلمہ بھی ملائے اسے تیس نیکیاں ملتی ہیں۔
سلام کے ہر کلمہ پر دس نیکیاں ملتی ہیں، کو صرف (السلام علیکم) کہے اسے دس، جو اس پر (و رحمتة اللہ) کا اضافہ کرے اس بیس اور جو (وبرکاته) کا کلمہ بھی ملائے اسے تیس نیکیاں ملتی ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5195]
ڈاکٹر محمد جاوید حفظہ الله، فوائد و مسائل، سنن ابوداود : 5195
1۔ سلام کرتے وقت السلام علیکم، السلام علیکم ورحمۃ، السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ کے تینوں کلمات ثابت ہیں جن پہ بالترتیب دس، بیس اور تیس نیکیوں کا وعدہ ہے۔ [سنن ابي داؤد: 5195]
2۔ جواب دینے والے کے لیے مناسب ہے کہ جن الفاظ سے اسے سلام کیا جائے ان سے بہتر یا کم از کم انہی الفاظ سے جواب دے: «وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا۔» [سورۃ النساء: 86]
3۔ اس سے بہتر سے مراد وبرکاتہ تک کے الفاظ ہیں۔ کوئی شخص سلام کرتے ہوئے یہ تینوں کلمات کہہ دے تو پھر اس پہ اضافہ نہیں کرنا چاہیے: سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو ایک شخص نے السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ کے الفاظ سے سلام کیا، انہوں نے فرمایا: «ما ترك لنا فضلًا إن السلام انتهى إلى وبركاته۔» [شعب الایمان: 9096]
4۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اماں جی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو سیدنا جبریل امین علیہ السلام کا سلام پہنچایا تو انہوں نے یوں جواب دیا: «وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ۔» [صحیح بخاری: 3217]
5۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو ایک شخص نے السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ پہ کچھ اضافہ کرتے ہوئے سلام کیا تو فرمایا، سلام کا خاتمہ وبرکاتہ پہ ہو جاتا ہے: «إِنَّ السَّلَامَ انْتَهَى إِلَى الْبَرَكَةِ۔» [موطا امام مالک، الزہری: 2019]
6۔ امام محمد بن حسن الشیبانی رحمہ اللہ یہی اثر نقل کر کے احناف کا موقف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: «وَبِهَذَا نَأْخُذُ، إِذَا قَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ فَلْيَكْفُفْ، فَإِنَّ اتِّبَاعَ السُّنَّةِ أَفْضَلُ۔» [موطا امام محمد: 914]
ہمارا یہی موقف ہے کہ جب کوئی «السلام عليكم ورحمة وبركاته» کہے تو اسی پہ رک جائے کہ سنت کا اتباع افضل ہے۔
7۔ فقہ حنفی کی معروف کتب میں ہے:
«والأفضل للمسلم أن يقول: السلام عليكم ورحمة الله وبركاته والمجيب كذلك يرد، ولا ينبغي أن يزاد على البركات شيء، قال ابن عباس رضي الله عنهما: لكل شيء منتهى، ومنتهى السلام البركات۔» [المحيط 326/5، هندية 325/5]
مسلم کے لیے افضل یہی ہے کہ السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ کہے اور جواب دینے والا بھی یونہی کہے اور وبرکاتہ پہ کسی بھی چیز کا اضافہ مناسب نہیں ہے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہر چیز کا ایک خاتمہ ہوتا ہے اور سلام کا خاتمہ برکات (و برکاتہ) ہے۔
ب. ومغفرتہ کے اضافہ والی روایات:
جن روایات میں ومغفرتہ، ورضوانہ یا دیگر کلمات کا اضافہ ہے ان میں سے اکثر ضعیف ہیں۔
1۔ [سنن ابي داؤد: 5196]
شیخ البانی اور شعیب الارنووط رحمہما اللہ فرماتے ہیں ضعیف ہے۔
2۔ [مسند ابی یعلی الموصلی: 912]
حسین سلیم اسد فرماتے ہیں ضعیف ہے۔
ج. 1۔ خارجہ بن زید بن ثابت، زید بن ثابت کے خط پہ لکھا کرتے تھے: السلام علیک یا امیر المومنین ورحمۃ وبرکاتہ ومغفرتہ وطیب صلوتہ۔ [الادب المفرد: 1001]
شیخ البانی رحمہ اللہ اسے صحیح کہتے ہیں۔
2۔ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمیں سلام کرتے تو ہم جواب میں کہتے: وعلیک ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ومغفرتہ۔ [بخاری، التاریخ الکبیر: 1037]
شیخ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کی سند جید ہے۔ [الصحیحۃ: 1449]
خلاصۃ الکلام:
بخاری رحمہ اللہ کی الادب المفرد اور التاریخ الکبیر کی روایات کو البانی رحمہ اللہ صحیح کہتے ہیں۔
موطا وغیرہ کی روایات میں ممانعت ہے۔
جملہ دلائل کو دیکھتے ہوئے مناسب یہی ہے وبرکاتہ پہ اکتفا کیا جائے اور اسی کی تعلیم دی جائے کہ اضافہ کے کلمات سے ہمارے ہاں خود ساختہ کلمات کی راہیں کھول دی گئی ہیں۔ کوئی ومغفرتہ کا اضافہ کر دے تو اس سے جھگڑا مناسب نہیں۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب۔ ڈاکٹر محمد جاوید۔
2۔ جواب دینے والے کے لیے مناسب ہے کہ جن الفاظ سے اسے سلام کیا جائے ان سے بہتر یا کم از کم انہی الفاظ سے جواب دے: «وَإِذَا حُيِّيتُم بِتَحِيَّةٍ فَحَيُّوا بِأَحْسَنَ مِنْهَا أَوْ رُدُّوهَا۔» [سورۃ النساء: 86]
3۔ اس سے بہتر سے مراد وبرکاتہ تک کے الفاظ ہیں۔ کوئی شخص سلام کرتے ہوئے یہ تینوں کلمات کہہ دے تو پھر اس پہ اضافہ نہیں کرنا چاہیے: سیدنا عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو ایک شخص نے السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ کے الفاظ سے سلام کیا، انہوں نے فرمایا: «ما ترك لنا فضلًا إن السلام انتهى إلى وبركاته۔» [شعب الایمان: 9096]
4۔ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے اماں جی سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو سیدنا جبریل امین علیہ السلام کا سلام پہنچایا تو انہوں نے یوں جواب دیا: «وَعَلَيْهِ السَّلَامُ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ۔» [صحیح بخاری: 3217]
5۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو ایک شخص نے السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ پہ کچھ اضافہ کرتے ہوئے سلام کیا تو فرمایا، سلام کا خاتمہ وبرکاتہ پہ ہو جاتا ہے: «إِنَّ السَّلَامَ انْتَهَى إِلَى الْبَرَكَةِ۔» [موطا امام مالک، الزہری: 2019]
6۔ امام محمد بن حسن الشیبانی رحمہ اللہ یہی اثر نقل کر کے احناف کا موقف بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: «وَبِهَذَا نَأْخُذُ، إِذَا قَالَ السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ فَلْيَكْفُفْ، فَإِنَّ اتِّبَاعَ السُّنَّةِ أَفْضَلُ۔» [موطا امام محمد: 914]
ہمارا یہی موقف ہے کہ جب کوئی «السلام عليكم ورحمة وبركاته» کہے تو اسی پہ رک جائے کہ سنت کا اتباع افضل ہے۔
7۔ فقہ حنفی کی معروف کتب میں ہے:
«والأفضل للمسلم أن يقول: السلام عليكم ورحمة الله وبركاته والمجيب كذلك يرد، ولا ينبغي أن يزاد على البركات شيء، قال ابن عباس رضي الله عنهما: لكل شيء منتهى، ومنتهى السلام البركات۔» [المحيط 326/5، هندية 325/5]
مسلم کے لیے افضل یہی ہے کہ السلام علیکم ورحمۃ وبرکاتہ کہے اور جواب دینے والا بھی یونہی کہے اور وبرکاتہ پہ کسی بھی چیز کا اضافہ مناسب نہیں ہے، سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ہر چیز کا ایک خاتمہ ہوتا ہے اور سلام کا خاتمہ برکات (و برکاتہ) ہے۔
ب. ومغفرتہ کے اضافہ والی روایات:
جن روایات میں ومغفرتہ، ورضوانہ یا دیگر کلمات کا اضافہ ہے ان میں سے اکثر ضعیف ہیں۔
1۔ [سنن ابي داؤد: 5196]
شیخ البانی اور شعیب الارنووط رحمہما اللہ فرماتے ہیں ضعیف ہے۔
2۔ [مسند ابی یعلی الموصلی: 912]
حسین سلیم اسد فرماتے ہیں ضعیف ہے۔
ج. 1۔ خارجہ بن زید بن ثابت، زید بن ثابت کے خط پہ لکھا کرتے تھے: السلام علیک یا امیر المومنین ورحمۃ وبرکاتہ ومغفرتہ وطیب صلوتہ۔ [الادب المفرد: 1001]
شیخ البانی رحمہ اللہ اسے صحیح کہتے ہیں۔
2۔ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمیں سلام کرتے تو ہم جواب میں کہتے: وعلیک ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ومغفرتہ۔ [بخاری، التاریخ الکبیر: 1037]
شیخ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: اس کی سند جید ہے۔ [الصحیحۃ: 1449]
خلاصۃ الکلام:
بخاری رحمہ اللہ کی الادب المفرد اور التاریخ الکبیر کی روایات کو البانی رحمہ اللہ صحیح کہتے ہیں۔
موطا وغیرہ کی روایات میں ممانعت ہے۔
جملہ دلائل کو دیکھتے ہوئے مناسب یہی ہے وبرکاتہ پہ اکتفا کیا جائے اور اسی کی تعلیم دی جائے کہ اضافہ کے کلمات سے ہمارے ہاں خود ساختہ کلمات کی راہیں کھول دی گئی ہیں۔ کوئی ومغفرتہ کا اضافہ کر دے تو اس سے جھگڑا مناسب نہیں۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب۔ ڈاکٹر محمد جاوید۔
[محدث فورم، حدیث/صفحہ نمبر: 999]
عمران بن ملحان العطاردي ← عمران بن حصين الأزدي