علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
162. باب قبلة الرجل
باب: پیر چومنے (قدم بوسی) کا بیان۔
حدیث نمبر: 5225
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنُ الطَّبَّاعِ , حَدَّثَنَا مَطَرُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَعْنَقُ , حَدَّثَتْنِي أُمُّ أَبَانَ بِنْتُ الْوَازِعِ بْنِ زَارِعٍ , عَنْ جِدِّهَا زَارِعٍ , وَكَانَ فِي وَفْدِ عَبْدِ الْقَيْسِ , قَالَ:" لَمَّا قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ , فَجَعَلْنَا نَتَبَادَرُ مِنْ رَوَاحِلِنَا , فَنُقَبِّلُ يَدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرِجْلَهُ , قَالَ: وَانْتَظَرَ الْمُنْذِرُ الْأَشَجُّ حَتَّى أَتَى عَيْبَتَهُ , فَلَبِسَ ثَوْبَيْهِ , ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالَ لَهُ: إِنَّ فِيكَ خَلَّتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ: الْحِلْمُ وَالْأَنَاةُ , قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ , أَنَا أَتَخَلَّقُ بِهِمَا أَمْ اللَّهُ جَبَلَنِي عَلَيْهِمَا؟ قَالَ: بَلِ اللَّهُ جَبَلَكَ عَلَيْهِمَا , قَالَ: الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَبَلَنِي عَلَى خَلَّتَيْنِ يُحِبُّهُمَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ".
زارع سے روایت ہے، وہ وفد عبدالقیس میں تھے وہ کہتے ہیں جب ہم مدینہ پہنچے تو اپنے اونٹوں سے جلدی جلدی اترنے لگے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں اور پیروں کا بوسہ لینے لگے، اور منذر اشج انتظار میں رہے یہاں تک کہ وہ اپنے کپڑے کے صندوق کے پاس آئے اور دو کپڑے نکال کر پہن لیے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو آپ نے ان سے فرمایا: ”تم میں دو خصلتیں ہیں جو اللہ کو محبوب ہیں: ایک بردباری اور دوسری وقار و متانت“ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! کیا یہ دونوں خصلتیں جو مجھ میں ہیں میں نے اختیار کیا ہے؟ (کسبی ہیں) (یا وہبی) اللہ نے مجھ میں پیدائش سے یہ خصلتیں رکھی ہیں، آپ نے فرمایا: بلکہ اللہ نے پیدائش سے ہی تم میں یہ خصلتیں رکھی ہیں، اس پر انہوں نے کہا: اللہ تیرا شکر ہے جس نے مجھے دو ایسی خصلتوں کے ساتھ پیدا کیا جن دونوں کو اللہ اور اس کے رسول پسند فرماتے ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5225]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 3617)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/206) (صحیح)» (البانی صاحب نے پہلے فقرے کی تحسین کی ہے، اور ہاتھ اور پاؤں چومنے کو ضعیف کہا ہے، بقیہ بعد کی حدیث کی تصحیح کی ہے، یعنی شواہد کے بناء پر، ملاحظہ ہو: صحیح ابی داود: 3؍ 282)
قال الشيخ الألباني: حسن دون ذكر الرجلين
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
أم أبان لم أجد من وثقھا فھي : مجهولة كما في التحرير(8700) وللهيثمي كلام مشوش في المجمع (390/9)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 181
إسناده ضعيف
أم أبان لم أجد من وثقھا فھي : مجهولة كما في التحرير(8700) وللهيثمي كلام مشوش في المجمع (390/9)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 181
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥زارع بن عامر العبدي، أبو الوازع | صحابي | |
👤←👥هند بنت الوزاع، أم أبان هند بنت الوزاع ← زارع بن عامر العبدي | مقبول | |
👤←👥مطر بن عبد الرحمن العنزي، أبو عبد الرحمن مطر بن عبد الرحمن العنزي ← هند بنت الوزاع | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥محمد بن عيسى البغدادي، أبو جعفر محمد بن عيسى البغدادي ← مطر بن عبد الرحمن العنزي | ثقة |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
5225
| فيك خلتين يحبهما الله الحلم والأناة قال يا رسول الله أنا أتخلق بهما أم الله جبلني عليهما قال بل الله جبلك عليهما قال الحمد لله الذي جبلني على خلتين يحبهما الله ورسوله |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 5225 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابي داود ، تحت الحديث 5225
فوائد ومسائل:
1- یہ روایت ضعیف ہے اور شیخ البانی ؒ کے نزدیک اس میں پاوں کا ذکر صحیح نہیں۔
گویا ہاتھوں کو بوسہ دینا جائز ہے۔
2: حوصلہ مند اور باوقاررہنا انسان کے شرف کو دوبالا کردیتا ہے جبکہ جلد بازی باوقارانسان کو زیب نہیں دیتی۔
3: اچھی عادتیں فطری ہوں تو عزوجل کی حمد کرنی چاہیے اور ان پر کاربند رہنا چاہیے۔
اگر فطری نہ ہوں تو انسان کو اپنی عادتیں اچھی بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
1- یہ روایت ضعیف ہے اور شیخ البانی ؒ کے نزدیک اس میں پاوں کا ذکر صحیح نہیں۔
گویا ہاتھوں کو بوسہ دینا جائز ہے۔
2: حوصلہ مند اور باوقاررہنا انسان کے شرف کو دوبالا کردیتا ہے جبکہ جلد بازی باوقارانسان کو زیب نہیں دیتی۔
3: اچھی عادتیں فطری ہوں تو عزوجل کی حمد کرنی چاہیے اور ان پر کاربند رہنا چاہیے۔
اگر فطری نہ ہوں تو انسان کو اپنی عادتیں اچھی بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 5225]
Sunan Abi Dawud Hadith 5225 in Urdu
هند بنت الوزاع ← زارع بن عامر العبدي