🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
175. باب في قتل الحيات
باب: سانپوں کو مارنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 5257
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ الرَّمْلِيُّ , حَدَّثَنَا اللَّيْثُ , عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ , عَنْ صَيْفِيٍّ أَبِي سَعِيدٍ مَوْلَى الْأَنْصَارِ , عَنْ أَبِي السَّائِبِ , قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ , فَبَيْنمَا أَنَا جَالِسٌ عِنْدُهُ , سَمِعْتُ تَحْتَ سَرِيرِهِ تَحْرِيكَ شَيْءٍ , فَنَظَرْتُ فَإِذَا حَيَّةٌ , فَقُمْتُ , فَقَالَ أَبُو سَعِيدٍ: مَا لَكَ؟ قُلْتُ: حَيَّةٌ هَاهُنَا , قَالَ: فَتُرِيدُ مَاذَا؟ قُلْتُ: أَقْتُلُهَا , فَأَشَارَ إِلَى بَيْتٍ فِي دَارِهِ تِلْقَاءَ بَيْتِهِ , فَقَالَ:" إِنَّ ابْنَ عَمٍّ لي كَانَ فِي هَذَا الْبَيْتِ , فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْأَحْزَابِ اسْتَأْذَنَ إِلَى أَهْلِهِ , وَكَانَ حَدِيثَ عَهْدٍ بِعُرْسٍ , فَأَذِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَمَرَهُ أَنْ يَذْهَبَ بِسِلَاحِهِ , فَأَتَى دَارَهُ فَوَجَدَ امْرَأَتَهُ قَائِمَةً عَلَى باب الْبَيْتِ , فَأَشَارَ إِلَيْهَا بِالرُّمْحِ , فَقَالَتْ: لَا تَعْجَلْ حَتَّى تَنْظُرَ مَا أَخْرَجَنِي , فَدَخَلَ الْبَيْتَ فَإِذَا حَيَّةٌ مُنْكَرَةٌ , فَطَعَنَهَا بِالرُّمْحِ , ثُمَّ خَرَجَ بِهَا فِي الرُّمْحِ تَرْتَكِضُ , قَالَ: فَلَا أَدْرِي أَيُّهُمَا كَانَ أَسْرَعَ مَوْتًا الرَّجُلُ أَوِ الْحَيَّةُ , فَأَتَى قَوْمُهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , فَقَالُوا: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَرُدَّ صَاحِبَنَا , فَقَالَ: اسْتَغْفِرُوا لِصَاحِبِكُمْ , ثُمَّ قَالَ: إِنَّ نَفَرًا مِنَ الْجِنِّ أَسْلَمُوا بِالْمَدِينَةِ , فَإِذَا رَأَيْتُمْ أَحَدًا مِنْهُمْ فَحَذِّرُوهُ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ , ثُمَّ إِنْ بَدَا لَكُمْ بَعْدُ أَنْ تَقْتُلُوهُ فَاقْتُلُوهُ بَعْدَ الثَّلَاثِ".
ابوسائب کہتے ہیں کہ میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، اسی دوران کہ میں ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا ان کی چارپائی کے نیچے مجھے کسی چیز کی سر سراہٹ محسوس ہوئی، میں نے (جھانک کر) دیکھا تو (وہاں) سانپ موجود تھا، میں اٹھ کھڑا ہوا، ابوسعید رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ہوا تمہیں؟ (کیوں کھڑے ہو گئے) میں نے کہا: یہاں ایک سانپ ہے، انہوں نے کہا: تمہارا ارادہ کیا ہے؟ میں نے کہا: میں اسے ماروں گا، تو انہوں نے اپنے گھر میں ایک کوٹھری کی طرف اشارہ کیا اور کہا: میرا ایک چچا زاد بھائی اس گھر میں رہتا تھا، غزوہ احزاب کے موقع پر اس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اہل کے پاس جانے کی اجازت مانگی، اس کی ابھی نئی نئی شادی ہوئی تھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اجازت دے دی اور حکم دیا کہ وہ اپنے ہتھیار کے ساتھ جائے، وہ اپنے گھر آیا تو اپنی بیوی کو کمرے کے دروازے پر کھڑا پایا، تو اس کی طرف نیزہ لہرایا (چلو اندر چلو، یہاں کیسے کھڑی ہو) بیوی نے کہا، جلدی نہ کرو، پہلے یہ دیکھو کہ کس چیز نے مجھے باہر آنے پر مجبور کیا، وہ کمرے میں داخل ہوا تو ایک خوفناک سانپ دیکھا تو اسے نیزہ گھونپ دیا، اور نیزے میں چبھوئے ہوئے اسے لے کر باہر آیا، وہ تڑپ رہا تھا، ابوسعید کہتے ہیں، تو میں نہیں جان سکا کہ کون پہلے مرا آدمی یا سانپ؟ (گویا چبھو کر باہر لانے کے دوران سانپ نے اسے ڈس لیا تھا، یا وہ سانپ جن تھا اور جنوں نے انتقاماً اس کا گلا گھونٹ دیا تھا) تو اس کی قوم کے لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، اور آپ سے عرض کیا کہ اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائیے کہ وہ ہمارے آدمی (ساتھی) کو لوٹا دے، (زندہ کر دے) آپ نے فرمایا: اپنے آدمی کے لیے مغفرت کی دعا کرو (اب زندگی ملنے سے رہی) پھر آپ نے فرمایا: مدینہ میں جنوں کی ایک جماعت مسلمان ہوئی ہے، تم ان میں سے جب کسی کو دیکھو (سانپ وغیرہ موذی جانوروں کی صورت میں) تو انہیں تین مرتبہ ڈراؤ کہ اب نہ نکلنا ورنہ مارے جاؤ گے، اس تنبیہ کے باوجود اگر وہ غائب نہ ہو اور تمہیں اس کا مار ڈالنا ہی مناسب معلوم ہو تو تین بار کی تنبیہ کے بعد اسے مار ڈالو۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5257]
سیدنا ابوسائب بیان کرتے ہیں کہ میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی خدمت میں آیا۔ میں ان کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ میں نے ان کی چارپائی کے نیچے کسی چیز کی سرسراہٹ محسوس کی، میں نے دیکھا تو وہ سانپ تھا۔ چنانچہ میں اٹھ کر کھڑا ہو گیا، تو سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے پوچھا: کیا ہے؟ میں نے کہا: یہاں سانپ ہے۔ انہوں نے کہا: تو کیا چاہتے ہو؟ میں نے کہا: اسے مارتا ہوں۔ تو انہوں نے اپنے گھر کے سامنے ایک مکان کی طرف اشارہ کیا اور کہا: بیشک میرا چچا زاد اسی مکان میں رہتا تھا۔ جنگ احزاب کے دن اس نے اپنے گھر آنے کی اجازت مانگی جب کہ اس کی نئی نئی شادی ہوئی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو اجازت دے دی اور فرمایا: مسلح ہو کر جانا۔ وہ اپنے گھر آیا تو دیکھا کہ اس کی بیوی گھر کے دروازے پر کھڑی ہے۔ چنانچہ اس نے نیزے سے اس کی طرف اشارہ کیا (مارنے لگا) تو اس نے کہا: جلدی مت کرو۔ پہلے دیکھ لو کہ مجھے کس چیز نے باہر نکالا ہے؟ (دیکھ لو کہ میں باہر کیوں نکلی ہوں؟) چنانچہ وہ گھر کے اندر گیا تو دیکھا کہ وہاں ایک بدصورت سانپ تھا۔ چنانچہ اس نے اپنا نیزہ اسی میں چبھو دیا اور اسی طرح چبھوئے ہوئے باہر لے آیا اور سانپ نیزے کے ساتھ تڑپ رہا تھا۔ انہوں نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ ان میں سے پہلے کون مرا، وہ آدمی یا سانپ؟ چنانچہ اس کی قوم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئی اور انہوں نے کہا: دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اس آدمی کو واپس (زندہ) کر دے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے ساتھی کے لیے بخشش کی دعا کرو۔ پھر فرمایا: مدینہ میں کچھ جن مسلمان ہوئے ہیں، تو جب تم ان میں سے کسی کو دیکھو تو اسے تین بار خبردار کرو۔ اس کے بعد اگر قتل کرنے کا خیال ہو تو تیسری بار کے بعد قتل کرو۔ [سنن ابي داود/أبواب السلام /حدیث: 5257]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/السلام 37 (2236)، سنن الترمذی/الصید 15 (1484)، موطا امام مالک/الاستئذان 12 (33)، (تحفة الأشراف: 4413)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/41) (حسن صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2236)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥عبد الله بن السائب الأنصاري، أبو السائب
Newعبد الله بن السائب الأنصاري ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥صيفي بن زياد الأنصاري، أبو سعيد، أبو زياد
Newصيفي بن زياد الأنصاري ← عبد الله بن السائب الأنصاري
ثقة
👤←👥محمد بن عجلان القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عجلان القرشي ← صيفي بن زياد الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥الليث بن سعد الفهمي، أبو الحارث
Newالليث بن سعد الفهمي ← محمد بن عجلان القرشي
ثقة ثبت فقيه إمام مشهور
👤←👥يزيد بن خالد الهمداني، أبو خالد
Newيزيد بن خالد الهمداني ← الليث بن سعد الفهمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
صحيح مسلم
5841
بالمدينة نفرا من الجن قد أسلموا فمن رأى شيئا من هذه العوامر فليؤذنه ثلاثا فإن بدا له بعد فليقتله فإنه شيطان
جامع الترمذي
1484
لبيوتكم عمارا فحرجوا عليهن ثلاثا فإن بدا لكم بعد ذلك منهن شيء فاقتلوه
سنن أبي داود
5257
نفرا من الجن أسلموا بالمدينة فإذا رأيتم أحدا منهم فحذروه ثلاث مرات ثم إن بدا لكم بعد أن تقتلوه فاقتلوه بعد الثلاث
سنن أبي داود
5256
الهوام من الجن فمن رأى في بيته شيئا فليحرج عليه ثلاث مرات فإن عاد فليقتله فإنه شيطان
Sunan Abi Dawud Hadith 5257 in Urdu