🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
47. باب في لتشديد في ترك الجماعة
باب: جماعت چھوڑنے پر وارد وعید کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 553
حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنْ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ، قَالَ:" يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ الْمَدِينَةَ كَثِيرَةُ الْهَوَامِّ وَالسِّبَاعِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَسْمَعُ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ، فَحَيَّ: هَلًا"، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَذَا رَوَاهُ الْقَاسِمُ الْجَرْمِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، لَيْسَ فِي حَدِيثِهِ: حَيَّ هَلًا.
ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں`: اللہ کے رسول! مدینے میں کیڑے مکوڑے اور درندے بہت ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم «حى على الصلاة» اور «حى على الفلاح» (یعنی اذان) سنتے ہو؟ تو (مسجد) آیا کرو۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسی طرح اسے قاسم جرمی نے سفیان سے روایت کیا ہے، ان کی روایت میں «حى هلا» (آیا کرو) کا ذکر نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 553]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الإمامة 50 (852)، (تحفة الأشراف: 10787) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي (852)
سفيان الثوري عنعن
وحديث مسلم (653) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 33

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن أم مكتوم الأعمىصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري، أبو عيسى
Newعبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري ← عبد الله بن أم مكتوم الأعمى
ثقة
👤←👥عبد الرحمن بن عابس النخعي
Newعبد الرحمن بن عابس النخعي ← عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري
ثقة
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله
Newسفيان الثوري ← عبد الرحمن بن عابس النخعي
ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس
👤←👥زيد بن أبي الزرقاء التغلبي، أبو محمد
Newزيد بن أبي الزرقاء التغلبي ← سفيان الثوري
ثقة
👤←👥هارون بن زيد التغلبي، أبو موسى
Newهارون بن زيد التغلبي ← زيد بن أبي الزرقاء التغلبي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
852
هل تسمع حي على الصلاة حي على الفلاح قال نعم قال فحي هلا ولم يرخص له
سنن أبي داود
553
أتسمع حي على الصلاة حي على الفلاح فحي هلا
سنن أبي داود
552
هل تسمع النداء قال نعم قال لا أجد لك رخصة
سنن ابن ماجه
792
هل تسمع النداء قلت نعم قال ما أجد لك رخصة
المعجم الصغير للطبراني
274
أتسمع النداء قال نعم قال ما أجد لك رخصة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 553 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 553
553۔ اردو حاشیہ:
یہ اور دیگر احادیث واضح دلیل ہیں کہ نماز باجماعت واجب ہے، سب جانتے ہیں کہ خوف کے موقع پر بھی صلاۃ خوف باجماعت ہی مشروع ہے۔ اور اصحاب اعذار کے لئے دلائل سے ثابت ہے کہ جماعت سے پیچھے رہنے کی اجازت ضرور ہے، مگر اس فضیلت سے محروم رہیں گے۔ شاہ ولی اللہ نے حجۃ اللہ البالغہ میں لکھا ہے کہ جناب عبداللہ ابن مکتوم کو رخصت نہ دینے کی وجہ یہ تھی کہ شاید ان کا سوال عزیمت کے متعلق تھا۔ جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کے گھر میں جا کر ان کی جائے نماز کا افتتاح فرمایا تھا۔ اور مذکورہ بالا حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ میں بھی شرعی عذر خوف یا مرض کا استثناء موجود ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 553]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث792
جماعت سے پیچھے رہنے پر سخت وعید کا بیان۔
عبداللہ ابن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: میں بوڑھا اور نابینا ہوں، میرا گھر دور ہے اور مجھے مسجد تک لانے والا میرے مناسب حال کوئی آدمی بھی نہیں ہے، تو کیا آپ میرے لیے (جماعت سے غیر حاضری کی) کوئی رخصت پاتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اذان سنتے ہو؟، میں نے کہا: جی ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں تمہارے لیے کوئی رخصت نہیں پاتا ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب المساجد والجماعات/حدیث: 792]
اردو حاشہ:
(1)
ہمارے فاضل محقق ؒ مذکورہ حدیث کی بابت لکھتے ہیں کہ یہ روایت سنداً ضعیف ہے لیکن صحیح مسلم کی روایت ہے (653)
اس سے کفایت کرتی ہے۔
تفصیل کے لیے حدیث کی تحقیق وتخریج ملاحظہ فرمائیں۔
نیز دیگر محققین نے بھی اسے صحیح قرار دیا ہے۔
تفصیل کے لیے دیکھیے: (الموسوعة الحديثية مسند الإمام أحمد: 255، 244، 243/24)
اس حدیث سے نماز باجماعت کی اہمیت واضح ہوتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابن مکتوم رضی اللہ عنہ کو جماعت کے بغیر نماز پڑھنے کی اجازت نہیں دی حالانکہ ان کے متعدد عذر موجود تھے:

(ا)
وہ معمر تھے۔

(ب)
وہ نابینا تھے۔

(ج)
ان کا گھر دور تھا۔

(د)
ان کے گھر کا کوئی فرد ایسا نہیں تھا جو انھیں مسجد میں لانے کا فرض مستقل طور پر انجام دے سکے۔

(ھ)
جو شخص انھیں مسجد میں لاتا تھا وہ بھی ان کی مرضی کے مطابق خدمت انجام نہیں دیتا تھا بلکہ اپنی سہولت کو زیادہ مد نظر رکھتا تھا۔ (وَلَيْسَ لِي قَائِدٌ يُلَاوِمُنِي)
 کوئی میری مرضی کے مطابق لانے والا نہیں۔
کا یہی مطلب ہے۔

(د)
ان کےگھر اور مسجد کے درمیان نشیبی علاقہ تھا جس میں بارش کے موقع پر پانی جمع ہوجاتا تھا۔
مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ کیجیے:
(صلاة الجماعة، أهمتيها وفضلها، تصنیف:
ڈاکٹر فضل الہی۔)

(3)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابن مکتوم کو جماعت سے پیچھے رہنے کی اجازت نہیں دی تاکہ انھیں زیادہ سے زیادہ ثواب ملے۔
اس کا مقصد ترغیب تھا ورنہ نابینا آدمی اگر مسجد میں آنے میں دشواری محسوس کرے تو اسے گھر میں نماز پڑھنا جائز ہے۔
جیسے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کو اجاذت دےدی تھی۔
دیکھئے: (سنن ابن ماجه حديث: 754)

(4)
رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے اذان کے متعلق پوچھا کہ آواز پہنچتی ہے یا نہیں؟ اس سے اشارہ ملتا ہے کہ جو شخص آبادی سے دور قیام پذیر ہو جہاں عام طور پر اذان کی آواز نہیں پہنچتی وہ وہیں نماز ادا کرسکتا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 792]