🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
51. باب ما جاء في الهدي في المشي إلى الصلاة
باب: نماز کی طرف چلنے کے طریقے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 563
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ عَبَّادٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ يَعْلَى بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ مَعْبَدِ بْنِ هُرْمُزَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ: حَضَرَ رَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ الْمَوْتُ، فَقَالَ: إِنِّي مُحَدِّثُكُمْ حَدِيثًا مَا أُحَدِّثُكُمُوهُ إِلَّا احْتِسَابًا، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" إِذَا تَوَضَّأَ أَحَدُكُمْ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ لَمْ يَرْفَعْ قَدَمَهُ الْيُمْنَى، إِلَّا كَتَبَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ حَسَنَةً، وَلَمْ يَضَعْ قَدَمَهُ الْيُسْرَى، إِلَّا حَطَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَنْهُ سَيِّئَةً، فَلْيُقَرِّبْ أَحَدُكُمْ أَوْ لِيُبَعِّدْ، فَإِنْ أَتَى الْمَسْجِدَ فَصَلَّى فِي جَمَاعَةٍ غُفِرَ لَهُ، فَإِنْ أَتَى الْمَسْجِدَ وَقَدْ صَلَّوْا بَعْضًا وَبَقِيَ بَعْضٌ صَلَّى مَا أَدْرَكَ وَأَتَمَّ مَا بَقِيَ كَانَ كَذَلِكَ، فَإِنْ أَتَى الْمَسْجِدَ وَقَدْ صَلَّوْا فَأَتَمَّ الصَّلَاةَ كَانَ كَذَلِكَ".
سعید بن مسیب کہتے ہیں ایک انصاری کی وفات کا وقت قریب ہوا تو انہوں نے کہا: میں تم لوگوں کو ایک حدیث بیان کرتا ہوں اور اسے صرف ثواب کی نیت سے بیان کر رہا ہوں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جب تم میں سے کوئی وضو کرے اور اچھی طرح وضو کرے پھر نماز کے لیے نکلے تو وہ جب بھی اپنا داہنا قدم اٹھاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک نیکی لکھتا ہے، اور جب بھی اپنا بایاں قدم رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی ایک برائی مٹا دیتا ہے لہٰذا تم میں سے جس کا جی چاہے مسجد سے قریب رہے اور جس کا جی چاہے مسجد سے دور رہے، اگر وہ مسجد میں آیا اور اس نے جماعت سے نماز پڑھی تو اسے بخش دیا جائے گا اور اگر وہ مسجد میں اس وقت آیا جب کہ (جماعت شروع ہو چکی تھی اور) کچھ رکعتیں لوگوں نے پڑھ لی تھیں اور کچھ باقی تھیں پھر اس نے جماعت کے ساتھ جتنی رکعتیں پائیں پڑھیں اور جو رہ گئی تھیں بعد میں پوری کیں تو وہ بھی اسی طرح (اجر و ثواب کا مستحق) ہو گا، اور اگر وہ مسجد میں اس وقت پہنچا جب کہ نماز ختم ہو چکی تھی اور اس نے اکیلے پوری نماز پڑھی تو وہ بھی اسی طرح ہو گا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 563]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد به أبو داود،(تحفة الأشراف: 15583) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
معبد بن ھرمز مجهول الحال،وثقه ابن حبان وحده
والحديث الآتي (الأصل : 564) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 34

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥اسم مبهم0
👤←👥سعيد بن المسيب القرشي، أبو محمد
Newسعيد بن المسيب القرشي ← اسم مبهم
أحد العلماء الأثبات الفقهاء الكبار
👤←👥معبد بن هرمز الحجازي
Newمعبد بن هرمز الحجازي ← سعيد بن المسيب القرشي
مقبول
👤←👥يعلى بن عطاء العامري
Newيعلى بن عطاء العامري ← معبد بن هرمز الحجازي
ثقة
👤←👥الوضاح بن عبد الله اليشكري، أبو عوانة
Newالوضاح بن عبد الله اليشكري ← يعلى بن عطاء العامري
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن معاذ العنبري
Newمحمد بن معاذ العنبري ← الوضاح بن عبد الله اليشكري
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
563
إذا توضأ أحدكم فأحسن الوضوء ثم خرج إلى الصلاة لم يرفع قدمه اليمنى إلا كتب الله له حسنة ولم يضع قدمه اليسرى إلا حط الله عنه سيئة فليقرب أحدكم أو ليبعد فإن أتى المسجد فصلى في جماعة غفر له فإن أتى المسجد وقد صلوا بعضا وبقي بعض صلى ما أدرك وأتم
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 563 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 563
563۔ اردو حاشیہ:
اس انداز کی کئی احادیث ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین نے انہیں آخری اوقات میں فرمایا ہے۔ اور واضح کیا ہے کہ کہیں ہمیں علم چھپانے کا گناہ نہ ہو۔ دراصل ان احادیث میں اللہ تعالیٰ کی رحمت عامہ اور اعمال خیر پر انتہائی اجر عظیم کا ذکر آیا ہے۔ جس سے عام لوگوں کے لئے یہ اندیشہ ہوتا ہے کہ چند ایک بار کے عمل پر تکیہ کر بیٹھیں گے اور پھر بے عمل ہو جایئں گے۔ اس لئے ان صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین نے ان کو کھلے عام بیان نہیں فرمایا بلکہ اپنے آخری اوقات میں کتمان علم (علم چھپانے) کے گناہ کے خوف سے بیان کیا۔ لہٰذا علماء اور وعاظ کو بھی ایسی احادیث خاص علمی حلقات اور دانا لوگوں کی مجالس ہی میں بیان کرنی چاہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 563]

Sunan Abi Dawud Hadith 563 in Urdu