علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
70. باب الرجلين يؤم أحدهما صاحبه كيف يقومان
باب: جب دو آدمیوں میں سے ایک امامت کرے تو دونوں کیسے کھڑے ہوں؟
حدیث نمبر: 608
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ،" أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أُمِّ حَرَامٍ فَأَتَوْهُ بِسَمْنٍ وَتَمْرٍ، فَقَالَ: رُدُّوا هَذَا فِي وِعَائِهِ وَهَذَا فِي سِقَائِهِ فَإِنِّي صَائِمٌ، ثُمَّ قَامَ فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ تَطَوُّعًا، فَقَامَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ، وَأُمُّ حَرَامٍ خَلْفَنَا، قَالَ ثَابِتٌ: وَلَا أَعْلَمُهُ إِلَّا قَالَ: أَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ عَلَى بِسَاطٍ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ام حرام رضی اللہ عنہا کے پاس آئے تو ان کے گھر والوں نے گھی اور کھجور پیش کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے (کھجور کو) اس کی تھیلی میں اور اسے (گھی کو) اس کے برتن میں لوٹا دو کیونکہ میں روزے سے ہوں“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہمیں دو رکعت نفل نماز پڑھائی تو ام سلیم (انس رضی اللہ عنہ کی والدہ) اور ام حرام رضی اللہ عنہا ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں۔ ثابت کہتے ہیں: میں تو یہی جانتا ہوں کہ انس رضی اللہ عنہ نے کہا کہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی داہنی طرف چٹائی پر کھڑا کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 608]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (ان کی خالہ) ام حرام رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کو گھی اور کھجوریں پیش کیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کھجوروں کو ان کے برتن میں اور گھی کو اس کے مشکیزے میں ڈال دو۔ میں روزے سے ہوں۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور ہمیں دو رکعت نفل پڑھائے تو ام سلیم رضی اللہ عنہا (سیدنا انس کی والدہ) ام حرام رضی اللہ عنہا ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں۔ ثابت رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ”میں یہی سمجھتا ہوں کہ انس رضی اللہ عنہ نے کہا تھا: ”آپ نے مجھے اپنی دائیں جانب چٹائی پر کھڑا کیا تھا۔“” [سنن ابي داود/كتاب الصلاة/حدیث: 608]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 375)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأذان 78 (727)، صحیح مسلم/المساجد 48 (1499)، سنن النسائی/الإمامة 20 (804)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 45 (975)، مسند احمد (3/160، 184، 204، 239، 242، 248) (صحیح)»
وضاحت: بعض اوقات نفل نماز کی جماعت ہو سکتی ہے۔ اور ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برکت رسانی کے ارادے سے نماز پڑھائی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز کی تعلیم کے لیے ایسے کیا ہو تاکہ عورتیں بھی قریب سے آپ کی نماز کا مشاہدہ کر لیں (نووی)۔ جماعت میں دو مرد ہوں تو دونوں کی ایک صف ہو گی۔ امام بائیں جانب اور مقتدی اس سے دائیں جانب کھڑا ہو گا۔ اور عورت خواہ اکیلی ہو یا زیادہ ان کی علیحدہ صف ہو گی۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← ثابت بن أسلم البناني | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥موسى بن إسماعيل التبوذكي، أبو سلمة موسى بن إسماعيل التبوذكي ← حماد بن سلمة البصري | ثقة ثبت |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
صحيح البخاري |
1982
| أعيدوا سمنكم في سقائه وتمركم في وعائه فإني صائم ثم قام إلى ناحية من البيت فصلى غير المكتوبة فدعا لأم سليم وأهل بيتها فقالت أم سليم يا رسول الله إن لي خويصة قال ما هي قالت خادمك أنس فما ترك خير آخرة ولا دنيا إلا دعا لي به قال اللهم ارزقه مالا وولدا |
سنن أبي داود |
608
| ردوا هذا في وعائه وهذا في سقائه فإني صائم ثم قام فصلى بنا ركعتين تطوعا فقامت أم سليم وأم حرام خلفنا قال ثابت ولا أعلمه إلا قال أقامني عن يمينه على بساط |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 608 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 608
608۔ اردو حاشیہ:
➊ بعض اوقات نفل نماز کی جماعت ہو سکتی ہے اور ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برکت رسانی کے ارادے سے نماز پڑھائی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز کی تعلیم کے لئے ایسے کیا ہو تاکہ عورتیں بھی قریب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا مشاہدہ کر لیں۔ (نووی)
➋ جماعت میں دو مرد ہوں تو دونوں کی ایک صف ہو گی، امام بایئں جانب اور مقتدی اس سے دایئں جانب کھڑا ہو گا اور عورت خواہ اکیلی ہو یا زیادہ ان کی صف علیحدہ ہو گی۔
➊ بعض اوقات نفل نماز کی جماعت ہو سکتی ہے اور ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے برکت رسانی کے ارادے سے نماز پڑھائی ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز کی تعلیم کے لئے ایسے کیا ہو تاکہ عورتیں بھی قریب سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا مشاہدہ کر لیں۔ (نووی)
➋ جماعت میں دو مرد ہوں تو دونوں کی ایک صف ہو گی، امام بایئں جانب اور مقتدی اس سے دایئں جانب کھڑا ہو گا اور عورت خواہ اکیلی ہو یا زیادہ ان کی صف علیحدہ ہو گی۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 608]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1982
1982. حضرت انس ؓ سے روایت ہے انھوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام سلیم ؓ کے پاس تشریف لے گئے تو انھوں نے آپ کو کھجوریں اور گھی پیش کیا۔ آپ نے فرمایا: ”اپنا گھی مشکیزے میں اور کھجوریں برتن میں واپس ڈال دو کیونکہ میں روزے سے ہوں۔“ پھر آپ نے گھر کے ایک گوشے میں کھڑے ہوکر فرض نماز کے علاوہ کوئی نماز ادا کی۔ پھر آپ نے حضرت ام سلیم ؓ اور دیگر اہل خانہ کے لیے دعا فرمائی۔ حضرت ام سلیم ؓ نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم میرا ایک عزیزہے (اس کے لیے بھی) آپ نے فرمایا: ”وہ کون ہے؟“ انھوں نے عرض کیا: آپ کاخادم انس ؓ۔ پھرآ پ نے دنیا وآخرت کی کوئی بھلائی نہیں چھوڑی جس کی میرے کے لیے دعا نہ کی ہو۔ آپ نے فرمایا: ”اے اللہ!اسے مال واولاد عطا فرما اور اسے خیروبرکت سے ہمکنار کر۔“ (حضرت انس ؓ کہتے ہیں کہ دیکھ لو) میں تمام انصار سے زیادہ مالدار ہوں اور مجھ سے میری بیٹی اُمینہ نے بیان۔۔۔۔ (مکمل حدیث اس نمبر پر پڑھیے۔) [صحيح بخاري، حديث نمبر:1982]
حدیث حاشیہ:
پچھلی حدیث میں حجاج کا ذکر ہے جو بصرہ میں75ھ میں آیا تھا۔
اس وقت حضرت انس ؓ کی عمر کچھ اوپر اسی برس کی تھی، 93ھ کے قریب آپ کا انتقال ہوا۔
ایک سو سال کے قریب ان کی عمر ہوئی۔
یہ سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت تھی۔
ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے خاص اپنی صلب کے 125بچے دفن کئے پھر دیگر لواحقین کا اندازہ کرنا چاہئے۔
اس حدیث سے مقصد باب یوں ثابت ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم ؓ کے گھر روزہ کی حالت میں تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاں کھانا واپس فرما دیا۔
اور روزہ نہیں توڑا۔
ثابت ہوا کہ کوئی شخص ایسا بھی کرے تو جائز درست بلکہ سنت نبوی کے مطابق ہے۔
یہ سب حالات پر منحصر ہے۔
بعض مواقع ایسے بھی آسکتے ہیں کہ وہاں روزہ کھول دینا جائز ہے۔
بعض ایسے کہ رکھنا بھی جائز ہے۔
یہ ہر شخص کے خود دل میں فیصلہ کرنے اور حالت کو سمجھنے کی باتیں ہیں۔
إنما الأعمالُ بالنیاتِ
پچھلی حدیث میں حجاج کا ذکر ہے جو بصرہ میں75ھ میں آیا تھا۔
اس وقت حضرت انس ؓ کی عمر کچھ اوپر اسی برس کی تھی، 93ھ کے قریب آپ کا انتقال ہوا۔
ایک سو سال کے قریب ان کی عمر ہوئی۔
یہ سب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا کی برکت تھی۔
ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے خاص اپنی صلب کے 125بچے دفن کئے پھر دیگر لواحقین کا اندازہ کرنا چاہئے۔
اس حدیث سے مقصد باب یوں ثابت ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ام سلیم ؓ کے گھر روزہ کی حالت میں تشریف لے گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے ہاں کھانا واپس فرما دیا۔
اور روزہ نہیں توڑا۔
ثابت ہوا کہ کوئی شخص ایسا بھی کرے تو جائز درست بلکہ سنت نبوی کے مطابق ہے۔
یہ سب حالات پر منحصر ہے۔
بعض مواقع ایسے بھی آسکتے ہیں کہ وہاں روزہ کھول دینا جائز ہے۔
بعض ایسے کہ رکھنا بھی جائز ہے۔
یہ ہر شخص کے خود دل میں فیصلہ کرنے اور حالت کو سمجھنے کی باتیں ہیں۔
إنما الأعمالُ بالنیاتِ
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1982]
Sunan Abi Dawud Hadith 608 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري