سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
96. باب تَسْوِيَةِ الصُّفُوفِ
باب: صفوں کو درست اور برابر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 672
حَدَّثَنَا ابْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو عَاصِمٍ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ يَحْيَى بْنِ ثَوْبَانَ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمِّي عُمَارَةُ بْنُ ثَوْبَانَ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" خِيَارُكُمْ أَلْيَنُكُمْ مَنَاكِبَ فِي الصَّلَاةِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: جَعْفَرُ بْنُ يَحْيَى مِنْ أَهْلِ مَكَّةَ.
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جو نماز میں اپنے مونڈھوں کو نرم رکھنے والے ہیں ۱؎“۔ ابوداؤد کہتے ہیں: جعفر بن یحییٰ کا تعلق اہل مکہ سے ہے۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 672]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں بہترین لوگ وہ ہیں جن کے کندھے نماز میں نرم ہوں۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ راویِ حدیث جعفر بن یحییٰ اہل مکہ میں سے ہیں۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب الصفوف /حدیث: 672]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ ابو داود، (تحفة الأشراف: 5936) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی صفیں درست کرنے کے لئے مصلیوں کو اگر کوئی آگے بڑھاتا ہے تو آگے بڑھ جاتے ہیں، اور پیچھے ہٹاتا ہے تو پیچھے ہٹ جاتے ہیں، یا نماز میں سکون و اطمینان کا پورا خیال کرتے ہیں، ادھر ادھر نہیں دیکھتے، اور نہ کندھے سے کندھا رگڑتے ہیں، بعض لوگوں نے اس کا مطلب یہ بیان کیاہے کہ صفوں کے درمیان شگاف کو بند کرنے کے لئے یا جگہ کی تنگی کی وجہ سے صف کے بیچ میں آ کر کوئی داخل ہونا چاہتا ہے تو اسے داخل ہو جانے دیتے ہیں اس سے مزاحمت نہیں کرتے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (1099)
صححه ابن خزيمة (1566) وللحديث شواھد
مشكوة المصابيح (1099)
صححه ابن خزيمة (1566) وللحديث شواھد
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
672
| خياركم ألينكم مناكب في الصلاة |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 672 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 672
672۔ اردو حاشیہ:
: یعنی صفیں برابر کرانے والوں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں یا صف اپنے ساتھ کھڑے ہونے والے کے ساتھ کندھے نہیں بھڑاتے بلکہ نرم خوئی کا اظہار کرتے ہیں یا یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی کے لیے جگہ بنانی پڑے تو جگہ بنا دیتے ہیں۔
: یعنی صفیں برابر کرانے والوں کے ساتھ تعاون کرتے ہیں یا صف اپنے ساتھ کھڑے ہونے والے کے ساتھ کندھے نہیں بھڑاتے بلکہ نرم خوئی کا اظہار کرتے ہیں یا یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر کسی کے لیے جگہ بنانی پڑے تو جگہ بنا دیتے ہیں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 672]
Sunan Abi Dawud Hadith 672 in Urdu
عطاء بن أبي رباح القرشي ← عبد الله بن العباس القرشي