سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
108. باب الصلاة إلى المتحدثين والنيام
باب: بات کرنے والوں اور سونے والوں کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 694
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ الْقَعْنَبِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَيْمَنَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَاقَ، عَمَّنْ حَدَّثَهُ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ يَعْنِي لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبَّاسٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" لَا تُصَلُّوا خَلْفَ النَّائِمِ وَلَا الْمُتَحَدِّثِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم لوگ سوئے ہوئے شخص کے پیچھے نماز نہ پڑھو، اور نہ بات کرنے والے کے پیچھے“۔ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 694]
جناب محمد بن کعب قرظی رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ میں نے ان سے یعنی عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ سے کہا کہ مجھ سے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ سونے والے کے پیچھے (کھڑے ہو کر) نماز پڑھو اور نہ باتوں میں مشغول شخص کے پیچھے۔“ [سنن ابي داود/تفرح أبواب السترة /حدیث: 694]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 40 (959)، (تحفة الأشراف: 6448) (حسن)» (اس حدیث میں عبدالملک و عبداللہ بن یعقوب دونوں مجہول، اور عبداللہ کے شیخ مبہم ہیں، لیکن شواہد کے بناء پر حسن ہے، ملاحظہ ہو: ارواء الغلیل حدیث نمبر: 375، وصحیح ابی داود: 3؍691)
قال الشيخ الألباني: حسن
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
وللحديث طريق حسن عند الطبراني في الأوسط (5242)
وللحديث طريق حسن عند الطبراني في الأوسط (5242)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
694
| لا تصلوا خلف النائم المتحدث |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 694 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 694
694۔ اردو حاشیہ:
صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور (بعض اوقات) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سوئی ہوتی تھیں۔ دیکھیے: [صحيح بخار ي، حديث: 382 وصحيح مسلم، حديث: 512]
معلوم ہوا کہ یہ جائز ہے اور جہاں کہیں لوگ باتوں میں مشغول ہوں اور قبلہ رخ ہوں تو بظاہر نمازی کو اس سے تشویش ہو سکتی ہے اور اس کے خشوع میں خلل آئے گا، لہٰذا ایسی صورتوں میں بھی احتیاط کرنا اچھا ہے۔
صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور (بعض اوقات) حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سوئی ہوتی تھیں۔ دیکھیے: [صحيح بخار ي، حديث: 382 وصحيح مسلم، حديث: 512]
معلوم ہوا کہ یہ جائز ہے اور جہاں کہیں لوگ باتوں میں مشغول ہوں اور قبلہ رخ ہوں تو بظاہر نمازی کو اس سے تشویش ہو سکتی ہے اور اس کے خشوع میں خلل آئے گا، لہٰذا ایسی صورتوں میں بھی احتیاط کرنا اچھا ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 694]
Sunan Abi Dawud Hadith 694 in Urdu
محمد بن كعب القرظي ← عبد الله بن العباس القرشي