🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

New یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
129. باب في تخفيف الصلاة
باب: نماز ہلکی پڑھنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 792
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ زَائِدَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِرَجُلٍ:" كَيْفَ تَقُولُ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: أَتَشَهَّدُ، وَأَقُولُ: اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ، أَمَا إِنِّي لَا أُحْسِنُ دَنْدَنَتَكَ وَلَا دَنْدَنَةَ مُعَاذٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: حَوْلَهَا نُدَنْدِنُ".
ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی سے پوچھا: تم نماز میں کون سی دعا پڑھتے ہو؟، اس نے کہا: میں تشہد پڑھتا ہوں اور کہتا ہوں: «اللهم إني أسألك الجنة وأعوذ بك من النار» اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا طالب ہوں اور جہنم سے تیری پناہ چاہتا ہوں، البتہ آپ اور معاذ کیا گنگناتے ۱؎ ہیں اس کا مجھے صحیح ادراک نہیں ہوتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم بھی اسی ۲؎ (جنت کی طلب اور جہنم سے پناہ) کے اردگرد پھرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 792]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے پوچھا: تم نماز میں کیا کہتے ہو؟ اس نے کہا: میں تشہد پڑھتا ہوں، پھر یوں کہتا ہوں: «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ، وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ النَّارِ» اے اللہ! میں تجھ سے جنت کا سوال کرتا اور جہنم سے پناہ مانگتا ہوں، اور میں آپ کی اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی گنگناہٹ کو اچھی طرح نہیں سمجھتا (یعنی آپ اور معاذ کیا دعا مانگتے ہیں؟ آواز تو سنتا ہوں، لیکن واضح الفاظ سمجھ میں نہیں آتے)۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم بھی ان (جنت اور دوزخ) کے گرد ہی گنگناتے ہیں۔ (یعنی جنت کا سوال اور دوزخ سے پناہ مانگتے ہیں)۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 792]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، مسند احمد 3/474، (تحفة الأشراف: 15565)، وقد أخرجہ: سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 26 (910) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: حدیث میں «دندنہ» کا لفظ آیا ہے، یعنی انسان کی آواز کی گنگناہٹ سنائی دے لیکن اس کے معنی و مطلب سمجھ میں نہ آئیں۔ وضاحت: «حولها» میں «ها» کی ضمیر اس آدمی کے قول کی طرف لوٹتی ہے، یعنی ہمارا اور معاذ کا کلام بھی تمہارے ہی کلام جیسا ہے، ان کا ماحصل بھی جنت کی طلب اور جہنم سے پناہ مانگنا ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (910)
الأعمش مدلس وعنعن
وللحديث شاھد ضعيف عند ابن خزيمة (725) والحديث الآتي (الأصل: 793) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 41

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥اسم مبهم0
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← اسم مبهم
ثقة ثبت
👤←👥سليمان بن مهران الأعمش، أبو محمد
Newسليمان بن مهران الأعمش ← أبو صالح السمان
ثقة حافظ
👤←👥زائدة بن قدامة الثقفي، أبو الصلت
Newزائدة بن قدامة الثقفي ← سليمان بن مهران الأعمش
ثقة ثبت
👤←👥الحسين بن علي الجعفي، أبو محمد، أبو عبد الله
Newالحسين بن علي الجعفي ← زائدة بن قدامة الثقفي
ثقة متقن
👤←👥عثمان بن أبي شيبة العبسي، أبو الحسن
Newعثمان بن أبي شيبة العبسي ← الحسين بن علي الجعفي
وله أوهام، ثقة حافظ شهير
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
792
كيف تقول في الصلاة قال أتشهد وأقول اللهم إني أسألك الجنة وأعوذ بك من النار أما إني لا أحسن دندنتك ولا دندنة معاذ فقال النبي حولها ندندن
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 792 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 792
792۔ اردو حاشیہ:
➊ یہ صحابی مختصر نماز اور دعائیں کرتے تھے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی توثیق و تایئد فرمائی۔ اور اللہ تعالیٰ کسی کو اس کی ہمت سے بڑھ کر مکلف نہیں ٹھراتا۔
➋ لفظ حدیث «دَنْدَنَةَ» کا مفہوم یہ ہے کہ آواز کی گنگناہٹ تو محسوس ہو، مگر الفاظ واضح نہ ہوں۔
➌ خطیب بغدادی نے لکھا ہے کہ یہ صحابی رضی اللہ عنہ جن سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دریافت فرمایا تھا، ان کانام سلیم انصاری ہے۔ [منذري]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 792]

Sunan Abi Dawud Hadith 792 in Urdu