سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
133. باب قدر القراءة في صلاة الظهر والعصر
باب: ظہر اور عصر میں پڑھی جانے والی سورتوں کا بیان۔
حدیث نمبر: 808
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ مُوسَى بْنِ سَالِمٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فِي شَبَابٍ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ، فَقُلْنَا لِشَابٍّ مِنَّا: سَلْ ابْنَ عَبَّاسٍ" أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ؟ فَقَالَ: لَا، لَا. فَقِيلَ لَهُ: فَلَعَلَّهُ كَانَ يَقْرَأُ فِي نَفْسِهِ، فَقَالَ: خَمْشًا هَذِهِ شَرٌّ مِنَ الْأُولَى كَانَ عَبْدًا مَأْمُورًا، بَلَّغَ مَا أُرْسِلَ بِهِ، وَمَا اخْتَصَّنَا دُونَ النَّاسِ بِشَيْءٍ إِلَّا بِثَلَاثِ خِصَالٍ:" أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوءَ، وَأَنْ لَا نَأْكُلَ الصَّدَقَةَ، وَأَنْ لَا نُنْزِيَ الْحِمَارَ عَلَى الْفَرَسِ".
عبداللہ بن عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں بنی ہاشم کے کچھ نوجوانوں کے ہمراہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوا تو ہم نے اپنے میں سے ایک نوجوان سے کہا: تم ابن عباس سے پوچھو کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں قرآت کرتے تھے؟ ابن عباس نے کہا: نہیں، نہیں، تو ان سے کہا گیا: شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے جی میں قرآت کرتے رہے ہوں، اس پر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: اللہ تمہارے چہرے یا چمڑے میں خراش کرے! یہ پہلی سے بھی بری ہے ۱؎، آپ ایک مامور (حکم کے پابند) بندے تھے، آپ کو جو حکم ملتا وہی لوگوں کو پہنچاتے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم (بنی ہاشم) کو کوئی مخصوص حکم نہیں دیا سوائے تین باتوں کے: ایک یہ کہ ہم کامل وضو کریں دوسرے یہ کہ صدقہ نہ کھائیں، تیسرے یہ کہ گدھے کو گھوڑی پر نہ چڑھائیں۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 808]
جناب عبداللہ بن عبیداللہ کہتے ہیں کہ میں بنی ہاشم کے چند جوانوں کی معیت میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ہاں گیا، ہم نے اپنے ایک ساتھی سے کہا کہ ”ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھو کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر میں قرآت کرتے تھے؟“ انہوں نے فرمایا: ”نہیں۔“ انہیں کہا گیا: ”شاید آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دل میں پڑھتے تھے۔“ انہوں نے کہا: ”تیرا بھلا ہو! یہ صورت پہلی سے بھی بدتر ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم (اللہ کے) مامور بندے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جس چیز کے ساتھ بھیجا گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پہنچا دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں لوگوں سے الگ کسی چیز کے ساتھ خاص نہیں کیا، سوائے تین باتوں کے: یہ کہ وضو کامل کریں، صدقہ نہ کھائیں اور گدھے کو گھوڑی سے جفتی نہ کرائیں۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 808]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الجہاد 23 (1701)، سنن النسائی/الطھارة 106 (141)، والخیل 9 (3611)، سنن ابن ماجہ/الطھارة 49 (426)، (تحفة الأشراف: 5791)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/232، 235، 249) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کا وہم ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ظہر اور عصر کی پہلی دونوں رکعتوں میں سورہ فاتحہ اور دوسری سورت کا پڑھنا ثابت ہے، اوپر ابوقتادہ رضی اللہ عنہ اور خباب رضی اللہ عنہ کی روایتیں گزر چکی ہیں جو صریح طور سے اس پر دلالت کرتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه النسائي (141 وسنده حسن) وقول ابن عباس ھذا منسوخ لأنه ثبت أنه قال: ’’إقرأ خلف الإمام بفاتحة الكتاب‘‘ رواه ابن المنذر في الأوسط (3/109 وسنده صحيح)، قلت: وإذا المأموم مأمور بالقرأة فكيف الإمام؟
أخرجه النسائي (141 وسنده حسن) وقول ابن عباس ھذا منسوخ لأنه ثبت أنه قال: ’’إقرأ خلف الإمام بفاتحة الكتاب‘‘ رواه ابن المنذر في الأوسط (3/109 وسنده صحيح)، قلت: وإذا المأموم مأمور بالقرأة فكيف الإمام؟
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
141
| نسبغ الوضوء ولا نأكل الصدقة ولا ننزي الحمر على الخيل |
سنن النسائى الصغرى |
3611
| نسبغ الوضوء وأن لا نأكل الصدقة ولا ننزي الحمر على الخيل |
جامع الترمذي |
1701
| نسبغ الوضوء وأن لا نأكل الصدقة وأن لا ننزي حمارا على فرس |
سنن أبي داود |
808
| نسبغ الوضوء وأن لا نأكل الصدقة وأن لا ننزي الحمار على الفرس |
سنن ابن ماجه |
426
| أمرنا رسول الله بإسباغ الوضوء |
سنن الدارمي |
723
| أمرنا بإسباغ الوضوء |
سنن أبي داود |
809
| لا ادري اكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا في الظهر والعصر ام لا |
مسند اسحاق بن راهويه |
19
| لا ادري اكان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرا في الظهر والعصر ام لا |
Sunan Abi Dawud Hadith 808 in Urdu
عبد الله بن عبيد الله الهاشمي ← عبد الله بن العباس القرشي