سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
135. باب مَنْ رَأَى التَّخْفِيفَ فِيهَا
باب: ان لوگوں کا ذکر جن کے نزدیک مغرب میں ہلکی سورتیں پڑھنی چاہئے۔
حدیث نمبر: 814
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ السَّرْخَسِيُّ، حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْحَاقَ، يُحَدِّثُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ،عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّهُ قَالَ:" مَا مِنْ الْمُفَصَّلِ سُورَةٌ صَغِيرَةٌ وَلَا كَبِيرَةٌ إِلَّا وَقَدْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَؤُمُّ النَّاسَ بِهَا فِي الصَّلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ".
عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں مفصل ۱؎ کی چھوٹی بڑی کوئی سورت ایسی نہیں جسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرض نماز میں لوگوں کی امامت کرتے ہوئے نہ سنا ہو۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 814]
سیدنا عمرو بن شعیب رحمہ اللہ اپنے والد (شعیب رحمہ اللہ) سے اور وہ اپنے دادا رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ”جزوِ مفصل کی کوئی چھوٹی بڑی سورت نہیں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ سنی ہو، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے فرض نمازوں کی امامت کراتے ہوئے پڑھتے تھے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 814]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 8788) (ضعیف)» (ابن اسحاق مدلس ہیں اور یہاں انہوں نے عنعنہ سے روایت کیا ہے)
وضاحت: ۱؎: صحیح قول کی رو سے سورۃ ”ق“ سے اخیر قرآن تک کی سورتیں ”مفصل“ کہلاتی ہیں۔
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
محمد بن إسحاق عنعن
ولحديثه شاهد ضعيف،انظر مجمع الزوائد (2/ 114)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 42
ضعيف
محمد بن إسحاق عنعن
ولحديثه شاهد ضعيف،انظر مجمع الزوائد (2/ 114)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 42
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
814
| ما من المفصل سورة صغيرة ولا كبيرة إلا وقد سمعت رسول الله يؤم الناس بها في الصلاة المكتوبة |
Sunan Abi Dawud Hadith 814 in Urdu
شعيب بن محمد السهمي ← عبد الله بن عمرو السهمي