🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
143. باب كَيْفَ يَضَعُ رُكْبَتَيْهِ قَبْلَ يَدَيْهِ
باب: آدمی زمین پر ہاتھوں سے پہلے گھٹنے کس طرح رکھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 841
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حَسَنٍ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ فِي صَلَاتِهِ فَيَبْرُكُ كَمَا يَبْرُكُ الْجَمَلُ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا ۱؎ تم میں سے ایک شخص اپنی نماز میں بیٹھنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اس طرح بیٹھتا ہے جیسے اونٹ بیٹھتا ہے؟“۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 841]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(کیا) تم میں سے کوئی ایک اپنی نماز میں اس طرح بیٹھنے کا قصد کرتا ہے جس طرح اونٹ بیٹھتا ہے؟“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 841]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 13866) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: حدیث میں لفظ «یعمد» سے پہلے ہمزۂ استفہام مقدر ہے اسی وجہ سے ترجمہ میں ”کیا“ کا اضافہ کیا گیا ہے اور یہ استفہام انکاری ہے مطلب یہ ہے کہ اس طرح نہ بیٹھا کرو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
أخرجه النسائي (1091 وسنده حسن) وانظر الحديث السابق (840)


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥عبد الرحمن بن هرمز الأعرج، أبو داود
Newعبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت عالم
👤←👥عبد الله بن ذكوان القرشي، أبو عبد الرحمن
Newعبد الله بن ذكوان القرشي ← عبد الرحمن بن هرمز الأعرج
إمام ثقة ثبت
👤←👥محمد بن عبد الله القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عبد الله القرشي ← عبد الله بن ذكوان القرشي
ثقة
👤←👥عبد الله بن نافع المخزومي، أبو محمد
Newعبد الله بن نافع المخزومي ← محمد بن عبد الله القرشي
صدوق حسن الحديث
👤←👥قتيبة بن سعيد الثقفي، أبو رجاء
Newقتيبة بن سعيد الثقفي ← عبد الله بن نافع المخزومي
ثقة ثبت
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
جامع الترمذي
269
يعمد أحدكم فيبرك في صلاته برك الجمل
سنن أبي داود
841
يعمد أحدكم في صلاته فيبرك كما يبرك الجمل
سنن النسائى الصغرى
1091
يعمد أحدكم في صلاته فيبرك كما يبرك الجمل
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 841 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 841
841۔ اردو حاشیہ:
صحیح بخاری میں ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اپنے ہاتھ گھٹنوں سے پہلے رکھا کرتے تھے۔ [كتاب الاذان باب 128]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی ترجیح بھی یہی ہے کہ سجدے میں جاتے ہوئے اونٹ کی مشابہت سے بچتے ہوئے پہلے ہاتھ زمین پر رکھنے چاہئیں۔ اور معلوم حقیقت ہے کہ حیوان کے گھٹنے اس کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں اور اونٹ جب بیٹھنے کے لئے جھکتا ہے، تو پہلے اپنے گھٹنے ہی رکھتا ہے۔ عام محدثین اور حنابلہ اس کے قائل ہیں، مگر احناف اور شوافع حضرت وائل رضی اللہ عنہ والی ضعیف روایت پر عامل ہیں اور پہلے گھٹنے رکھتے ہیں۔ تفصیل کے لئے دیکھیے: [تحفة الاحوذي۔ تمام المنة]
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 841]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 269
سجدے میں ہاتھوں سے پہلے گھٹنے رکھنے سے متعلق ایک اور باب۔
ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی یہ قصد کرتا ہے کہ وہ اپنی نماز میں اونٹ کے بیٹھنے کی طرح بیٹھے“ ۱؎۔ [سنن ترمذي/كتاب الصلاة/حدیث: 269]
اردو حاشہ:
1؎:
یعنی جس طرح اونٹ بیٹھنے میں پہلے اپنے دونوں گھٹنے رکھتا ہے اسی طرح یہ بھی چاہتا ہے کہ رکوع سے اٹھ کر جب سجدہ میں جانے لگے تو پہلے اپنے دونوں گھٹنے زمین پر رکھے،
یہ استفہام انکاری ہے،
مطلب یہ ہے کہ ایسا نہ کرے،
بلکہ اپنے دونوں گھٹنوں سے پہلے اپنے دونوں ہاتھ رکھے مسند احمد،
سنن ابی داؤد اور سنن نسائی میں یہ حدیث اس طرح ہے ((إِذَا سَجَدَ أَحَدُكُمْ فَلَا يَبْرُك كَمَا يَبْرُكُ البَعِيرُ،
 وَلْيَضَعْ يَدَيْهِ قَبْلَ رُكْبَتَيْهِ)) یعنی جب تم میں سے کوئی سجدے میں جائے تو وہ اس طرح نہ بیٹھے جیسے اونٹ بیٹھتا ہے بلکہ اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں گھٹنوں سے پہلے رکھے،
یہ اونٹ کی بیٹھک کے مخالف بیٹھک ہے،
کیونکہ اونٹ جب بیٹھتا ہے تو اپنے گھٹنے زمین پر پہلے رکھتا ہے اور اس کے گھٹنے اس کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں جیسا کہ لسان العرب اور دیگر کتب لغات میں مرقوم ہے،
حافظ ابن حجر نے سند کے اعتبار سے اس روایت کو وائل بن حجر کی روایت جو اس سے پہلے گزری صحیح تر بتایا ہے کیونکہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی ایک روایت جسے ابن خزیمہ نے صحیح کہا ہے اور بخاری نے اسے معلقاً موقوفاً ذکر کیا ہے اس کی شاہد ہے،
اکثر فقہاء عموماً محدّثین اور اسی کے قائل ہیں کہ دونوں گھٹنوں سے پہلے ہاتھ رکھے جائیں،
ان لوگوں نے اسی حدیث سے استدلال کیا ہے،
شوافع اور احناف نے جو پہلے گھٹنوں کے رکھنے کے قائل ہیں اس حدیث کے کئی جوابات دیئے ہیں لیکن سب مخدوش ہیں،
تفصیل کے لیے دیکھئے تحفۃ الاحوذی۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 269]

Sunan Abi Dawud Hadith 841 in Urdu