🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
43. باب أيصلي الرجل وهو حاقن
باب: کیا آدمی پیشاب و پاخانہ روک کر نماز پڑھ سکتا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 89
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَنْبَلٍ، وَمُسَدَّدٌ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْمَعْنَى، قَالُوا: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي حَزْرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ ابْنُ عِيسَى فِي حَدِيثِهِ: ابْنُ أَبِي بَكْرٍ، ثُمَّ اتَّفَقُوا أَخُو الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: كُنَّا عِنْدَ عَائِشَةَ فَجِيءَ بِطَعَامِهَا، فَقَامَ الْقَاسِمُ يُصَلِّي، فَقَالَتْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" لَا يُصَلَّى بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ وَلَا وَهُوَ يُدَافِعُهُ الْأَخْبَثَانِ".
عبداللہ بن محمد بن ابی بکر کا بیان ہے کہ ہم لوگ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھے، اتنے میں آپ کا کھانا لایا گیا تو قاسم (قاسم بن محمد) کھڑے ہو کر نماز پڑھنے لگے، یہ دیکھ کر وہ بولیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: کھانا موجود ہو تو نماز نہ پڑھی جائے اور نہ اس حال میں پڑھی جائے جب دونوں ناپسندیدہ چیزیں (پاخانہ و پیشاب) اسے زور سے لگے ہوئے ہوں۔ [سنن ابي داود/كتاب الطهارة/حدیث: 89]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/المساجد 16 (560)، (تحفة الأشراف: 16269، 16288)، مسند احمد (6/43، 54) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (560)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد اللهصحابي
👤←👥عبد الله بن محمد التيمي
Newعبد الله بن محمد التيمي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة
👤←👥يعقوب بن مجاهد المخزومي، أبو يوسف
Newيعقوب بن مجاهد المخزومي ← عبد الله بن محمد التيمي
ثقة
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← يعقوب بن مجاهد المخزومي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥محمد بن عيسى البغدادي، أبو جعفر
Newمحمد بن عيسى البغدادي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← محمد بن عيسى البغدادي
ثقة حافظ
👤←👥أحمد بن حنبل الشيباني، أبو عبد الله
Newأحمد بن حنبل الشيباني ← مسدد بن مسرهد الأسدي
ثقة حافظ فقيه حجة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن أبي داود
89
لا يصلى بحضرة الطعام ولا وهو يدافعه الأخبثان
صحيح مسلم
1246
لا صلاة بحضرة الطعام ولا هو يدافعه الأخبثان
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 89 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 89
فوائد و مسائل:
➊ اس روایت کا ایک پس منظر ہے کہ جناب قاسم بن محمد کی والدہ ام ولد (لونڈی) تھیں اور اس کی تربیت کے اثر سے جناب قاسم کے عربی تکلم میں قدرے لحن تھا۔ اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں تادیب کی تو وہ کچھ خفا ہو گئے اور کھانا چھوڑ کر نماز پڑھنے لگے۔ اس پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں یہ حدیث سنائی اور امر بالمعروف کا فریضہ ادا کیا۔
➋ خیال رہے کہ بھوک اور قضائے حاجت ایسے فطری امور ہیں جو انسان کے اپنے کنٹرول میں نہیں ہوتے۔ شریعت نے خصوصی طور پر ان سے فراغت حاصل کر لینے کا حکم دیا ہے، مگر ایسے اعمال جو انسان کے اپنے بس میں ہوں مثلاً کوئی کام ادھورا رہا ہو یا ویسے ہی ذہن پر سوار ہو تو دینی تقاضا یہ ہے کہ انسان ان امور سے اپنے آپ کو خالی الذہن کر کے نماز کی طرف متوجہ ہو اور اپنے کام یا تو قبل از نماز نمٹا لے یا بعد از نماز مکمل کرے، مثلاً سفر میں جمع بین الصلوٰتین کی رخصت موجود ہے۔ ماں کو بچہ پریشان کر رہا ہو، تو اجازت ہے کہ اسے اٹھا کر نماز پڑھ لے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 89]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ الحديث مولانا عبدالعزيز علوي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث ، صحيح مسلم: 1246
حضرت ابن ابی عتیق سے روایت ہے کہ میں نے اور قاسم نے عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس ایک گفتگو کی اور قاسم گفتگو میں اعرابی غلطی بہت کرتے تھے کیونکہ وہ لونڈی کے بیٹے تھے، عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے اسے کہا، کیا بات ہے تم میرے اس بھتیجے کی طرح گفتگو نہیں کرتے ہو؟ ہاں، میں جانتی ہوں تم میں یہ بات کہاں سے آئی ہے، اس کو اس کی ماں نے ادب سکھایا (تعلیم دی) اور تجھے تیری ماں نے ادب سکھایا، اس پر قاسم ناراض ہو گیا اور حسد و کینہ کا اظہار... (مکمل حدیث اس نمبر پر دیکھیں) [صحيح مسلم، حديث نمبر:1246]
حدیث حاشیہ:
مفردات الحدیث:
(1)
لَحَّانَةً:
اعراب میں بہت غلطی کرنے والا۔
(2)
مِنْ اَيْنَ اَتَيْتَ:
تجھ میں یہ اعرابی غلطی کہاں سے آئی۔
(3)
اَضَبَّ:
ضب (حسد و کینہ)
سے ماخوذ ہے،
طیش اورغصہ کا اظہار کیا۔
(4)
غُدَرُ:
یعنی اےبےوفا۔
(5)
اَلْاَخْبَثَان:
پیشاب وپاخانہ۔
(6)
يُدَافِعُ:
ہٹانا،
دور کرنا مراد ان کو روکنا ہے۔
[تحفۃ المسلم شرح صحیح مسلم، حدیث/صفحہ نمبر: 1246]

Sunan Abi Dawud Hadith 89 in Urdu