سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
162. باب في التخصر والإقعاء
باب: کمر پر ہاتھ رکھنے اور اقعاء کرنے کے حکم کا بیان۔
حدیث نمبر: 903
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ وَكِيعٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ زِيَادٍ، عَنْ زِيَادِ بْنِ صَبِيحٍ الْحَنَفِيِّ، قَالَ: صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ ابْنِ عُمَرَ" فَوَضَعْتُ يَدَيَّ عَلَى خَاصِرَتَيَّ، فَلَمَّا صَلَّى، قَالَ: هَذَا الصَّلْبُ فِي الصَّلَاةِ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْهُ".
زیاد بن صبیح حنفی کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کے بغل میں نماز پڑھی، اور اپنے دونوں ہاتھ کمر پر رکھ لیے، جب آپ نماز پڑھ چکے تو کہا: یہ (کمر پر ہاتھ رکھنا) نماز میں صلیب (سولی) کی شکل ہے ۱؎، اس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منع فرماتے تھے ۲؎۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 903]
جناب زیاد بن صبیح حنفی بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ کھڑے ہو کر نماز پڑھی، میں نے اس دوران میں اپنے ہاتھ اپنے پہلوؤں (کوکھوں) پر رکھ لیے۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے فرمایا: ”یہ کیفیت نماز میں صلیب ( «مصلوب») سے مشابہت ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے منع فرمایا کرتے تھے۔“ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 903]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/الافتتاح 12 (890)، (تحفة الأشراف: 6724)، وقد أخرجہ: حم(2/30، 106) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: کیونکہ جسے سولی دی جاتی ہے اس کے ہاتھ سولی دیتے وقت اسی طرح رکھے جاتے ہیں۔ ۲؎: مؤلف نے ترجمۃ الباب میں الاقعاء کا ذکر کیا ہے لیکن اس سے متعلق کوئی روایت یہاں درج نہیں کی ہے، ابن عباس رضی اللہ عنہما کی «إقعاء» والی روایت اس سے پہلے «الإقعاء بين السجدتين» باب (۱۴۳) کے تحت گزری۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه النسائي (892 وسنده صحيح)
أخرجه النسائي (892 وسنده صحيح)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
892
| هذا الصلب وإن رسول الله نهانا عنه |
سنن أبي داود |
903
| هذا الصلب في الصلاة وكان رسول الله ينهى عنه |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 903 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 903
903۔ اردو حاشیہ:
➊ اثنائے نماز میں کوکھ (یا کولہوں) پر ہاتھ رکھنا ناجائز ہے، اس کی کئی وجوہات بیان کی گئی ہیں، ایک تو یہی مشابہت جو ذکر ہوئی ہے کہ سولی دیے جانے والے کو لکڑی پر اسی انداز میں کھڑا کرتے تھے کہ اس کے ہاتھ اس کے پہلوؤں سے دور ہوتے تھے۔ دیگر اقوال یہ ہیں، اس میں شیطان سے مشابہت ہوتی ہے یا یہود سے مشابہت ہوتی ہے یا یہ دوزخیوں کے آرام کی کیفیت ہو گی، یا متکبرین اسی طرح کھڑے ہوتے ہیں یا غم و اندوہ میں بھی لوگ اسی انداز میں کھڑے ہوتے ہیں۔ وغیرہ [عون المعبود] الغرض وجہ کوئی بھی ہو یہ عمل ممنوع ہے۔
➋ «اقعاءعلي القدمين» کی وضاحت اس طرح ہے کہ «اقاء» ایڑیوں پر بیٹھنے کو کہتے ہیں اور دو سجدوں کے درمیان کبھی کبھار اس طرح بیٹھنا جائز ہے۔ تفصیل کے لیے سنن ابوداود حدیث [845] کے فوائد ملاحظہ ہوں۔
➊ اثنائے نماز میں کوکھ (یا کولہوں) پر ہاتھ رکھنا ناجائز ہے، اس کی کئی وجوہات بیان کی گئی ہیں، ایک تو یہی مشابہت جو ذکر ہوئی ہے کہ سولی دیے جانے والے کو لکڑی پر اسی انداز میں کھڑا کرتے تھے کہ اس کے ہاتھ اس کے پہلوؤں سے دور ہوتے تھے۔ دیگر اقوال یہ ہیں، اس میں شیطان سے مشابہت ہوتی ہے یا یہود سے مشابہت ہوتی ہے یا یہ دوزخیوں کے آرام کی کیفیت ہو گی، یا متکبرین اسی طرح کھڑے ہوتے ہیں یا غم و اندوہ میں بھی لوگ اسی انداز میں کھڑے ہوتے ہیں۔ وغیرہ [عون المعبود] الغرض وجہ کوئی بھی ہو یہ عمل ممنوع ہے۔
➋ «اقعاءعلي القدمين» کی وضاحت اس طرح ہے کہ «اقاء» ایڑیوں پر بیٹھنے کو کہتے ہیں اور دو سجدوں کے درمیان کبھی کبھار اس طرح بیٹھنا جائز ہے۔ تفصیل کے لیے سنن ابوداود حدیث [845] کے فوائد ملاحظہ ہوں۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 903]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله سنن نسائي تحت الحديث 892
نماز میں کوکھ (کمر) پر ہاتھ رکھنے کی ممانعت کا بیان۔
زیاد بن صبیح کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہم کے بغل میں نماز پڑھی تو میں نے اپنا ہاتھ اپنی کوکھ (کمر) پر رکھ لیا، تو انہوں نے اس طرح اپنے ہاتھ سے مارا، جب میں نے نماز پڑھ لی تو ایک شخص سے (پوچھا) یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم ہیں، میں نے ان سے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! میری کیا چیز آپ کو ناگوار لگی؟ تو انہوں نے کہا: یہ صلیب کی ہیئت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے روکا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 892]
زیاد بن صبیح کہتے ہیں کہ میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہم کے بغل میں نماز پڑھی تو میں نے اپنا ہاتھ اپنی کوکھ (کمر) پر رکھ لیا، تو انہوں نے اس طرح اپنے ہاتھ سے مارا، جب میں نے نماز پڑھ لی تو ایک شخص سے (پوچھا) یہ کون ہیں؟ انہوں نے کہا: عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم ہیں، میں نے ان سے پوچھا: ابوعبدالرحمٰن! میری کیا چیز آپ کو ناگوار لگی؟ تو انہوں نے کہا: یہ صلیب کی ہیئت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس سے روکا ہے۔ [سنن نسائي/كتاب الافتتاح/حدیث: 892]
892 ۔ اردو حاشیہ:
➊ کمر (کوکھ) پر ہاتھ رکھنے والے شخص کی کہنیاں باہر کو نکلی ہوتی ہیں اور سولی پر لٹکے ہوئے شخص کے ہاتھ باہر کو نکلے ہوئے ہوتے ہیں، لہٰذا کندھوں سے کہنیوں تک کی حالت دونوں کی ایک جیسی ہوتی ہے اور یہ قبیح حالت ہے۔ صلیب ویسے بھی عیسائیوں کا مذہبی نشان ہے۔ مذہبی شعار میں مشابہت قطعاً جائز نہیں۔
➋ اس حدیث مبارکہ سے بھی معلوم ہوا کہ اگر نماز میں کوئی خلاف سنت عمل کیا جا رہا ہو تو اس کی اصلاح کر دینی چاہیے، اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔
➊ کمر (کوکھ) پر ہاتھ رکھنے والے شخص کی کہنیاں باہر کو نکلی ہوتی ہیں اور سولی پر لٹکے ہوئے شخص کے ہاتھ باہر کو نکلے ہوئے ہوتے ہیں، لہٰذا کندھوں سے کہنیوں تک کی حالت دونوں کی ایک جیسی ہوتی ہے اور یہ قبیح حالت ہے۔ صلیب ویسے بھی عیسائیوں کا مذہبی نشان ہے۔ مذہبی شعار میں مشابہت قطعاً جائز نہیں۔
➋ اس حدیث مبارکہ سے بھی معلوم ہوا کہ اگر نماز میں کوئی خلاف سنت عمل کیا جا رہا ہو تو اس کی اصلاح کر دینی چاہیے، اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 892]
Sunan Abi Dawud Hadith 903 in Urdu
زياد بن صبيح الحنفي ← عبد الله بن عمر العدوي