الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
170. باب الرخصة في ذلك
باب: گردن موڑے بغیر نماز میں کنکھیوں سے دیکھنے کی رخصت کا بیان۔
حدیث نمبر: 916
حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ يَعْنِي ابْنَ سَلَّامٍ، عَنْ زَيْدٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا سَلَّامٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي السَّلُولِيُّ هُوَ أَبُو كَبْشَةَ، عَنْ سَهْلِ ابْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ، قَالَ: ثُوِّبَ بِالصَّلَاةِ، يَعْنِي صَلَاةَ الصُّبْحِ، فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي وَهُوَ يَلْتَفِتُ إِلَى الشِّعْبِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَكَانَ أَرْسَلَ فَارِسًا إِلَى الشِّعْبِ مِنَ اللَّيْلِ يَحْرُسُ.
سہل بن حنظلیہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نماز یعنی فجر کے لیے تکبیر کہی گئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھنے لگے اور آپ گھاٹی کی طرف کنکھیوں سے دیکھتے جاتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: آپ نے رات میں نگرانی کے لیے ایک گھڑ سوار گھاٹی کی طرف بھیج رکھا تھا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 916]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود،(تحفة الأشراف: 4651) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
صححه ابن خزيمة (487 وسنده حسن)
صححه ابن خزيمة (487 وسنده حسن)
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن أبي داود |
916
| يصلي وهو يلتفت إلى الشعب |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 916 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 916
916۔ اردو حاشیہ:
یہ حدیث اور دیگر وہ احادیث جن میں التفات سے منع کیا گیا ہے، ان کے درمیان تطبیق یوں دی گئی ہے کہ گردن موڑے بغیر اشد ضرورت سے دیکھنا جائز ہے ورنہ ممنوع۔
یہ حدیث اور دیگر وہ احادیث جن میں التفات سے منع کیا گیا ہے، ان کے درمیان تطبیق یوں دی گئی ہے کہ گردن موڑے بغیر اشد ضرورت سے دیکھنا جائز ہے ورنہ ممنوع۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 916]
أبو كبشة السلولي ← سهل بن الحنظلية الأنصاري