🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
180. باب النهى عن الكلام، في الصلاة
باب: نماز میں بات چیت منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 949
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ الْحَارِثِ بْنِ شُبَيْلٍ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ، قَالَ: كَانَ أَحَدُنَا يُكَلِّمُ الرَّجُلَ إِلَى جَنْبِهِ فِي الصَّلَاةِ، فَنَزَلَتْ: وَقُومُوا لِلَّهِ قَانِتِينَ سورة البقرة آية 238" فَأُمِرْنَا بِالسُّكُوتِ وَنُهِينَا عَنِ الْكَلَامِ".
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم میں سے جو چاہتا نماز میں اپنے بغل والے سے باتیں کرتا تھا تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی «وقوموا لله قانتين» اللہ کے لیے چپ چاپ کھڑے رہو (سورۃ البقرہ: ۲۳۸) تو ہمیں نماز میں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور بات کرنے سے روک دیا گیا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 949]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/العمل في الصلاة 2 (1200)، وتفسیر البقرة 42 (4534)، صحیح مسلم/المساجد 7 (539)، سنن الترمذی/الصلاة 185 (405)، وتفسیر البقرة (2986)، سنن النسائی/السھو 20 (1220)، (تحفة الأشراف: 3661)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/368) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1200) صحيح مسلم (539)

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥زيد بن أرقم الأنصاري، أبو سعيد، أبو عمارة، أبو أنيسة، أبو عامر، أبو عمروصحابي
👤←👥سعد بن إياس الشيباني، أبو عمرو
Newسعد بن إياس الشيباني ← زيد بن أرقم الأنصاري
ثقة
👤←👥الحارث بن شبيل الأحمسي، أبو الطفيل
Newالحارث بن شبيل الأحمسي ← سعد بن إياس الشيباني
ثقة
👤←👥إسماعيل بن أبي خالد البجلي، أبو عبد الله
Newإسماعيل بن أبي خالد البجلي ← الحارث بن شبيل الأحمسي
ثقة ثبت
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية
Newهشيم بن بشير السلمي ← إسماعيل بن أبي خالد البجلي
ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي
👤←👥محمد بن عيسى البغدادي، أبو جعفر
Newمحمد بن عيسى البغدادي ← هشيم بن بشير السلمي
ثقة
تخريج الحديث:
کتاب
نمبر
مختصر عربی متن
سنن النسائى الصغرى
1220
الرجل يكلم صاحبه في الصلاة بالحاجة على عهد رسول الله حتى نزلت هذه الآية حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وقوموا لله قانتين فأمرنا بالسكوت
صحيح البخاري
1200
كنا لنتكلم في الصلاة على عهد النبي يكلم أحدنا صاحبه بحاجته حتى نزلت حافظوا على الصلوات فأمرنا بالسكوت
صحيح مسلم
1203
كنا نتكلم في الصلاة يكلم الرجل صاحبه وهو إلى جنبه في الصلاة حتى نزلت وقوموا لله قانتين فأمرنا بالسكوت ونهينا عن الكلام
جامع الترمذي
405
حتى نزلت وقوموا لله قانتين
جامع الترمذي
2986
كنا نتكلم على عهد رسول الله في الصلاة فنزلت وقوموا لله قانتين
سنن أبي داود
949
أمرنا بالسكوت ونهينا عن الكلام
بلوغ المرام
173
يكلم احدنا صاحبه بحاجته حتى نزلت
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 949 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 949
949۔ اردو حاشیہ:
نماز میں گفتگو حرام ہے۔ الا یہ کہ خطا اور نسیان سے کوئی لفظ زبان سے نکل جائے تو معاف ہے۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 949]

تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
علامه صفي الرحمن مبارك پوري رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث بلوغ المرام 173
نماز میں ہر قسم کی گفتگو اور بات چیت ممنوع ہے
«. . . وعن زيد بن ارقم انه قال: إن كنا لنتكلم في الصلاة على عهد رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم يكلم احدنا صاحبه بحاجته حتى نزلت (حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وقوموا لله قانتين) فامرنا بالسكوت ونهينا عن الكلام . . .»
. . . سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ عہد رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم میں دوران نماز ہم ایک دوسرے سے بات چیت کر لیا کرتے اور اپنی ضرورت و حاجت ایک دوسرے سے بیان کر دیتے تھے تاآنکہ «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وقوموا لله قانتين» آیت نازل ہوئی تو ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور نماز میں گفتگو اور کلام کرنے سے منع کر دیا گیا . . . [بلوغ المرام/كتاب الصلاة: 173]
لغوی تشریح:
«إِنْ كُنَّا» یہ «إِنْ» مخففہ من المثقلہ ہے، یعنی «إِنَّ» سے «إِنْ» بنایا گیا ہے۔ اور اس کا اسم محذوف ہے، یعنی «إِنَّا» یا «إِنَّهُ» ۔ اور «كُنَّا» اس کی خبر ہے۔
«وَالصَّلَاةِ الْوُسْطٰي» واؤ اس جگہ تخصیص کے لیے ہے، یعنی خاص طور پر صلاۃ وسطی کی حفاظت کرو۔ اور صحیح ترین قول کے مطابق اس سے نماز عصر مراد ہے۔
«قَانِتِينَ» ڈرتے، سہمے اور خاموش رہتے ہویے۔ قنوت کے متعدد معانی ہیں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس سے سکوت کے معنی لیے ہیں۔ انہوں نے یہ معنی قراین کی بنا پر اخذ کیے ہیں یا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی تفسیر کی روشنی میں۔

فوائد و مسائل:
➊ اس حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ نماز میں ہر قسم کی گفتگو اور بات چیت ممنوع ہے۔
➋ آغاز اسلام میں کلام کی اجازت تھی جسے بعد میں ممنوع قرار دے دیا گیا۔

راویٔ حدیث:
(زید بن ارقم رضی اللہ عنہ) انصار کے قبیلۂ خزرج میں سے ہیں، اس لیے انصاری خزرجی کہلائے۔ ان کی کنیت ابوعمرو ہے۔ پہلی مرتبہ غزوہ خندق میں شامل ہوئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سترہ غزوات میں شریک ہوئے۔ معرکہ صفین کے موقع پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے طرف داروں میں سے تھے بلکہ ان کے مخصوص اصحاب میں شامل تھے۔ کوفہ میں سکونت اختیار کی اور 66 ہجری میں فوت ہوئے۔
[بلوغ المرام شرح از صفی الرحمن مبارکپوری، حدیث/صفحہ نمبر: 173]

فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1220
نماز میں بات کرنے کا بیان۔
زید بن ارقم رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں (شروع میں) آدمی نماز میں اپنے ساتھ والے سے ضرورت کی باتیں کر لیا کرتا تھا، یہاں تک کہ آیت کریمہ: «حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى وقوموا لله قانتين» محافظت کرو نمازوں کی، اور بیچ والی نماز کی، اور اللہ کے لیے خاموش کھڑے رہو نازل ہوئی تو (اس کے بعد سے) ہمیں خاموش رہنے کا حکم دے دیا گیا (البقرہ: ۲۳۸)۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1220]
1220۔ اردو حاشیہ:
ضرورت کی بات مثلاً: سلام کا جواب، چھینک پر دعا، نماز سے متعلقہ وضاحت وغیرہ، نہ کہ گھریلو باتیں یا کاروباری باتیں۔
افضل نماز حدیث: 473 میں گزر چکا ہے کہ اس سے مراد عصر کی نماز ہے۔ اس کے متعلق اور اقوال بھی ہیں مگر راجح قول یہی ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے: [ذخیرة العقبیٰ شرح سنن النسائي: 6/157-162، حدیث: 473]
خاموش رہنے کا حکم یعنی اپنے ساتھی سے باتیں کرنے سے، نہ کہ مطلقاً کہ اذکار و اور ادیا قرأت فاتحہ بھی ممنوع ہو جائیں۔ ایسی تو کوئی نماز ہی نہیں جس میں کچھ نہ پڑھا جائے اور مکمل خاموشی ہو۔ ہاں! جماعت کی صورت میں جہر سے روکا گیا ہے۔
➍ شریعت میں نسخ ثابت ہے۔
➎ کلام کسی بھی قسم کا ہو اس سے نماز باطل ہو جاتی ہے۔
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1220]

الشیخ ڈاکٹر عبد الرحمٰن فریوائی حفظ اللہ، فوائد و مسائل، سنن ترمذی، تحت الحديث 405
نماز میں بات چیت کے منسوخ ہونے کا بیان۔
زید بن ارقم رضی الله عنہ کہتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کے پیچھے نماز میں بات چیت کر لیا کرتے تھے، آدمی اپنے ساتھ والے سے بات کر لیا کرتا تھا، یہاں تک کہ آیت کریمہ: «‏وقوموا لله قانتين» اللہ کے لیے با ادب کھڑے رہا کرو نازل ہوئی تو ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا اور بات کرنے سے روک دیا گیا۔ [سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 405]
اردو حاشہ:
1؎:
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق مومن سے بھول چوک معاف ہے،
بعض لوگوں نے یہ شرط لگائی ہے کہ بشرطیکہ تھوڑی ہو ہم کہتے ہیں ایسی حالت میں آدمی تھوڑی بات ہی کر پاتا ہے کہ اسے یاد آ جاتا ہے۔
[سنن ترمذي مجلس علمي دار الدعوة، نئى دهلى، حدیث/صفحہ نمبر: 405]

مولانا داود راز رحمه الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري: 1200
1200. حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں دوران نماز میں ایک دوسرے سے بات چیت کر لیتے تھے اور اپنی ضرورت و حاجت کو بھی ایک دوسرے سے بیان کر دیتے تھے حتی کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ﴾ تمام نمازوں (بالخصوص درمیانی نماز) کی حفاظت کرو۔ اس کے بعد ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا (اور دوان نماز میں گفتگو کرنے سے بھی ہمیں منع کر دیا گیا)۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1200]
حدیث حاشیہ:
آیت کا ترجمہ یہ ہے:
نمازون کا خیال رکھو اوربیچ والی نماز کا اور اللہ کے سامنے ادب سے چپکے کھڑے رہو۔
(سورۃ بقرة)
درمیانی نماز سے عصر کی نماز مراد ہے۔
آیت سے ظاہر ہوا کہ نماز میں کوئی بھی دنیاوی بات کرنا قطعا منع ہے۔
[صحیح بخاری شرح از مولانا داود راز، حدیث/صفحہ نمبر: 1200]

الشيخ حافط عبدالستار الحماد حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث صحيح بخاري:1200
1200. حضرت زید بن ارقم ؓ سے روایت ہے کہ ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں دوران نماز میں ایک دوسرے سے بات چیت کر لیتے تھے اور اپنی ضرورت و حاجت کو بھی ایک دوسرے سے بیان کر دیتے تھے حتی کہ یہ آیت نازل ہوئی: ﴿حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ﴾ تمام نمازوں (بالخصوص درمیانی نماز) کی حفاظت کرو۔ اس کے بعد ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا (اور دوان نماز میں گفتگو کرنے سے بھی ہمیں منع کر دیا گیا)۔ [صحيح بخاري، حديث نمبر:1200]
حدیث حاشیہ:
(1)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ دوران نماز گفتگو کرنے کی ممانعت مدینہ طیبہ میں ہوئی کیونکہ حضرت زید بن ارقم ؓ انصاری ہیں اور وہ مدینہ منورہ میں مسلمان ہوئے تھے۔
اس حدیث میں جس آیت کا حوالہ ہے وہ بھی مدنی ہے۔
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ بھی مدینہ منورہ ہی میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے اور سلام عرض کیا تھا جبکہ آپ نماز پڑھ رہے تھے۔
ان سے مروی ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
نماز میں اللہ کا ذکر ہونا چاہیے، اس لیے اللہ کے حضور ادب سے کھڑے ہوا کرو۔
اس کے بعد ہمیں خاموش رہنے کا حکم دیا گیا۔
اس روایت سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ دوران نماز میں گفتگو کرنے کی حرمت اس آیت کریمہ سے ہوئی جو سورۂ بقرہ میں ہے۔
(فتح الباري: 97/3) (2)
بھول کر یا عدم علم کی بنا پر دوران نماز میں گفتگو کرنا نماز کو باطل نہیں کرتا کیونکہ حدیث میں ہے:
اللہ تعالیٰ نے میری امت سے غلطی یا بھول کر کیے ہوئے گناہوں کو معاف کر دیا ہے۔
(سنن ابن ماجة، الطلاق، حدیث: 2043)
نیز حضرت معاویہ بن حکم ؓ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ نماز پڑھ رہا تھا کہ اچانک ایک آدمی کو دوران نماز میں چھینک آئی تو میں نے نماز ہی میں يرحمك الله کہہ دیا۔
اس پر لوگوں نے مجھے گھور گھور کر دیکھنا شروع کر دیا۔
میں نے کہا:
ہائے! میری ماں مجھے گم پائے، کیا بات ہے؟ تم مجھے غصے سے کیوں دیکھ رہے ہو؟ اس پر انہوں نے اپنی رانوں پر ہاتھ مارنا شروع کر دیے جس سے میں نے محسوس کیا کہ وہ مجھے خاموش کرانا چاہتے ہیں تو میں خاموش ہو گیا۔
جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں! میں نے آپ سے پہلے اور آپ کے بعد کوئی ایسا معلم نہیں دیکھا جو تعلیم دینے میں آپ سے بہتر ہو، اللہ کی قسم! آپ نے مجھے ڈانٹا، نہ مارا اور نہ کرخت لہجہ ہی اختیار کیا بلکہ آپ نے نرمی سے فرمایا:
نماز میں انسانی گفتگو کی گنجائش نہیں بلکہ اس میں تو صرف تسبیح، تکبیر اور تلاوت قرآن ہونی چاہیے۔
(صحیح مسلم، المساجد، حدیث: 1199(537)
اس حدیث سے واضح طور پر معلوم ہوا کہ جہالت کی وجہ سے اگر دوران نماز میں گفتگو ہو جائے تو اس سے نماز باطل نہیں ہوتی۔
اگر ایسا ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس شخص کو دوبارہ نماز پڑھنے کا حکم دیتے لیکن آپ نے اسے صرف اس حکم سے آگاہ کرنے پر اکتفا کیا۔
واللہ أعلم۔
[هداية القاري شرح صحيح بخاري، اردو، حدیث/صفحہ نمبر: 1200]