🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
183. باب من ذكر التورك في الرابعة
باب: چوتھی رکعت میں تورک (سرین پر بیٹھنے) کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 966
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا أَبُو بَدْرٍ، حَدَّثَنِي زُهَيْرٌ أَبُو خَيْثَمَةَ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ عَبَّاسٍ أَوْ عَيَّاشِ بْنِ سَهْلٍ السَّاعِدِيِّ، أَنَّهُ كَانَ فِي مَجْلِسٍ فِيهِ أَبُوهُ، فَذَكَرَ فِيهِ، قَالَ:" فَسَجَدَ فَانْتَصَبَ عَلَى كَفَّيْهِ وَرُكْبَتَيْهِ وَصُدُورِ قَدَمَيْهِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَتَوَرَّكَ وَنَصَبَ قَدَمَهُ الْأُخْرَى، ثُمَّ كَبَّرَ فَسَجَدَ، ثُمَّ كَبَّرَ فَقَامَ وَلَمْ يَتَوَرَّكْ، ثُمَّ عَادَ فَرَكَعَ الرَّكْعَةَ الْأُخْرَى فَكَبَّرَ كَذَلِكَ، ثُمَّ جَلَسَ بَعْدَ الرَّكْعَتَيْنِ حَتَّى إِذَا هُوَ أَرَادَ أَنْ يَنْهَضَ لِلْقِيَامِ قَامَ بِتَكْبِيرٍ، ثُمَّ رَكَعَ الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ فَلَمَّا سَلَّمَ سَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ". قَالَ أَبُو دَاوُد: لَمْ يَذْكُرْ فِي حَدِيثِهِ مَا ذَكَرَ عَبْدُ الْحَمِيدِ فِي التَّوَرُّكِ وَالرَّفْعِ إِذَا قَامَ مِنْ ثِنْتَيْنِ.
عباس بن سہل یا عیاش بن سہل ساعدی سے روایت ہے کہ وہ ایک مجلس میں تھے، جس میں ان کے والد سہل ساعدی رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے تو اس مجلس میں انہوں نے ذکر کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدہ کیا تو اپنی دونوں ہتھیلیوں پر اور اپنے دونوں گھٹنوں اور دونوں پاؤں کے سروں پر سہارا کیا، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم (سجدے سے سر اٹھا کر) بیٹھے تو تورک کیا یعنی سرین پر بیٹھے اور اپنے دوسرے قدم کو کھڑا رکھا پھر «الله أكبر» کہا اور سجدہ کیا، پھر «الله أكبر» کہہ کر کھڑے ہوئے اور تورک نہیں کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹے اور دوسری رکعت پڑھی تو اسی طرح «الله أكبر» کہا، پھر دو رکعت کے بعد بیٹھے یہاں تک کہ جب قیام کے لیے اٹھنے کا ارادہ کرنے لگے تو «الله أكبر» کہہ کر اٹھے، پھر آخری دونوں رکعتیں پڑھیں، پھر جب سلام پھیرا تو اپنی دائیں جانب اور بائیں جانب پھیرا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: عیسیٰ بن عبداللہ نے اپنی روایت میں تورک اور دو رکعت پڑھ کر اٹھتے وقت ہاتھ اٹھانے کا ذکر نہیں کیا ہے، جس کا ذکر عبدالحمید نے کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 966]
جناب عباس یا عیاش (عیاش بن سہل ساعدی) بن سہل ساعدی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ وہ بھی اس مجلس میں موجود تھے جس میں ان کے والد رضی اللہ عنہ حاضر تھے۔ اس میں بیان کیا کہ: پس سجدہ کیا اور جب اٹھے تو اپنی دونوں ہتھیلیوں، گھٹنوں اور اپنے پاؤں کے پنجوں پر اٹھے، دراں حالیکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تورک کیا (یعنی اپنی سرین پر بیٹھے) اور دوسرے پاؤں کو کھڑا کر لیا۔ پھر تکبیر کہی اور سجدہ کیا۔ پھر تکبیر کہی اور کھڑے ہو گئے اور تورک نہ کیا۔ اور دوسری رکعت پڑھی اور اسی طرح تکبیر کہی، پھر بیٹھ گئے۔ دو رکعتوں کے بعد حتیٰ کہ جب کھڑے ہونے کا ارادہ کیا تو تکبیر کہہ کر کھڑے ہو گئے اور پھر دوسری دو رکعتیں پڑھیں اور جب سلام کیا تو اپنی دائیں اور بائیں جانب سلام کیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: عیسیٰ بن عبداللہ نے وہ کچھ ذکر نہیں کیا جو کچھ کہ عبدالحمید نے تورک اور دو رکعتوں سے اٹھتے وقت رفع یدین کا ذکر کیا ہے۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 966]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظرحدیث رقم: 733، (تحفة الأشراف: 11892) (ضعیف)» ‏‏‏‏ (اس کے راوی عیسیٰ لین الحدیث ہیں اور ان کی یہ روایت سابقہ صحیح روایت کے خلاف ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 47

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥العباس بن سهل الأنصاريثقة
👤←👥عيسى بن عبد الله العمري
Newعيسى بن عبد الله العمري ← العباس بن سهل الأنصاري
صدوق حسن الحديث
👤←👥الحسن بن الحر النخعي، أبو محمد، أبو الحكم
Newالحسن بن الحر النخعي ← عيسى بن عبد الله العمري
ثقة فاضل
👤←👥زهير بن معاوية الجعفي، أبو خيثمة
Newزهير بن معاوية الجعفي ← الحسن بن الحر النخعي
ثقة ثبت
👤←👥شجاع بن الوليد السكوني، أبو بدر
Newشجاع بن الوليد السكوني ← زهير بن معاوية الجعفي
ثقة
👤←👥علي بن إشكاب العامري، أبو الحسن
Newعلي بن إشكاب العامري ← شجاع بن الوليد السكوني
ثقة
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 966 کے فوائد و مسائل
حافظ زبير على زئي رحمه الله، فوائد و مسائل، ابوداود 966
(3)ابو داود کی جس حدیث میں «لم يتورك» آپ نے تورک نہیں کیا، آیا ہے (اس میں چند الفاظ پہلے «فتورك» پس آپ نے تورک کیا کے الفاظ ہیں) [145/1 ح 966، 113/1 ح 733, 966]
اگر یہ روایت صحیح ثابت ہوتی ہے تو اس کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ آپ نے دوسرے سجدے کے بعد تورک نہیں کیا یعنی اپنی ران پر نہیں بیٹھے۔ یہ حدیث جلسہ استراحت کی مخالف نہیں ہے کیونکہ جلسہ استراحت میں بغیر تورک بیٹھا جاتا ہے۔ جو لوگ اس حدیث سے صحیح بخاری کے مخالف استدلال کرتے ہیں، انہیں چاہیے کہ سجدہ اولیٰ کے بعد تو رک کریں۔ معانی الآثار 620/1 وغیرہ میں اس حدیث لم يتورك میں رکوع سے پہلے اور بعد والا رفع یدین موجود ہے آدھی حدیث سے استدلال اور آدھی کا ینکار کیا معنی رکھتا ہے؟

تنبیہ:
ابو داود (733، 966) والی اس حدیث کی سند ضعیف ہے۔ اس کا راوی عیسیٰ بن عبد اللہ بن مالک مجہول الحال ہے۔ اسے ابن حبان کے علاوہ کسی دوسرے محدث نے ثقہ و صدوق قرار نہیں دیا۔

(4)نصب الرایہ 289/1، الجوہر النقی 125/2 وغیرہما میں مخالفین جلسہ استراحت نے جو آثار نقل کیے ہیں، ان میں سے کوئی بھی صحیح صریح نہیں ہے۔ بیہقی کی جس روایت میں رمقت ابن مسعود ہے سفیان کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے۔ اسے عن ابن مسعود صحيح کہنا صحیح نہیں ہے۔ دوسرے یہ کہ حدیث مرفوع کے مقابلے میں اپنی مرضی کے آثار پیش کرنا انتہائی غلط کام ہے۔
اصل مصمون ماخذ:
شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب ہدیۃ المسلمین نماز کے اہم مسائل مع مکمل نماز نبوی صلی اللہ علیہ وسلم
[ماہنامہ الحدیث حضرو، حدیث/صفحہ نمبر: 999]

Sunan Abi Dawud Hadith 966 in Urdu