علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن ٹیکسٹ کی صورت میں حاصل کریں۔ مزید تفصیل کے لیے رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
188. باب الإشارة في التشهد
باب: تشہد میں انگلی سے اشارہ کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 991
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، حَدَّثَنَا عِصَامُ بْنُ قُدَامَةَ مِنْ بَنِي بَجِيلَةَ، عَنْ مَالِكِ بْنِ نُمَيْرٍ الْخُزَاعِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" وَاضِعًا ذِرَاعَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، رَافِعًا إِصْبَعَهُ السَّبَّابَةَ قَدْ حَنَاهَا شَيْئًا".
نمیر خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنا داہنا ہاتھ اپنی داہنی ران پر رکھے ہوئے اور شہادت کی انگلی کو اٹھائے ہوئے دیکھا، آپ نے اسے تھوڑا سا جھکا رکھا تھا۔ [سنن ابي داود/أبواب تفريع استفتاح الصلاة /حدیث: 991]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/السھو 36 (1272)، سنن ابن ماجہ/إقامة الصلاة 27 (911)، (تحفة الأشراف: 11710)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/471) (ضعیف)» (اس کے راوی مالک لین الحدیث ہیں)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه النسائي (1272 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (715، 716 وسندھما حسن) مالك بن نمير وثقه ابن حبان وابن خزيمة بتصحيح حديثه فھو حسن الحديث
أخرجه النسائي (1272 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (715، 716 وسندھما حسن) مالك بن نمير وثقه ابن حبان وابن خزيمة بتصحيح حديثه فھو حسن الحديث
الرواة الحديث:
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
سنن النسائى الصغرى |
1272
| واضعا يده اليمنى على فخذه اليمنى في الصلاة يشير بأصبعه |
سنن النسائى الصغرى |
1275
| قاعدا في الصلاة واضعا ذراعه اليمنى على فخذه اليمنى رافعا أصبعه السبابة قد أحناها شيئا وهو يدعو |
سنن أبي داود |
991
| واضعا ذراعه اليمنى على فخذه اليمنى رافعا إصبعه السبابة قد حناها شيئا |
سنن ابن ماجه |
911
| واضعا يده اليمنى على فخذه اليمنى في الصلاة يشير بإصبعه |
سنن ابوداود کی حدیث نمبر 991 کے فوائد و مسائل
الشيخ عمر فاروق سعيدي حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن ابي داود 991
991۔ اردو حاشیہ:
شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے، اس لئے انگلی کو خم دینے کی بجائے اسے سیدھا کھڑا رکھا جائے (یعنی تشہد میں)۔
شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس حدیث کو ضعیف کہا ہے، اس لئے انگلی کو خم دینے کی بجائے اسے سیدھا کھڑا رکھا جائے (یعنی تشہد میں)۔
[سنن ابی داود شرح از الشیخ عمر فاروق سعیدی، حدیث/صفحہ نمبر: 991]
تخریج الحدیث کے تحت دیگر کتب سے حدیث کے فوائد و مسائل
الشيخ ابو يحييٰ نورپوري حفظ الله، فوائد و مسائل، تحت الحديث سنن نسائي 1272
تشہد میں انگلی سے اشارہ کرنا
«. . . عَنْ مَالِكٍ وَهُوَ ابْنُ نُمَيْرٍ الْخُزَاعِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى فِي الصَّلَاةِ وَيُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ . . .»
”. . . نمیر خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز میں اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھے ہوئے تھے، اور اپنی انگلی سے اشارہ کر رہے تھے . . .“ [سنن نسائي/كتاب السهو/بَابُ: الإِشَارَةِ بِالأُصْبُعِ فِي التَّشَهُّدِ: 1272]
«. . . عَنْ مَالِكٍ وَهُوَ ابْنُ نُمَيْرٍ الْخُزَاعِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاضِعًا يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى فِي الصَّلَاةِ وَيُشِيرُ بِأُصْبُعِهِ . . .»
”. . . نمیر خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز میں اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھے ہوئے تھے، اور اپنی انگلی سے اشارہ کر رہے تھے . . .“ [سنن نسائي/كتاب السهو/بَابُ: الإِشَارَةِ بِالأُصْبُعِ فِي التَّشَهُّدِ: 1272]
تشریح:
↰ اس حدیث کا راوی مالک بن نمیر خزاعی ”حسن الحدیث“ ہے۔
امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے [الثقات: 386/5] میں ذکر کیا ہے۔
اور امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ [715] نے اس کی بیان کردہ حدیث کی ”تصحیح“ کر کے اس کے توثیق کی ہے۔
↰ اس حدیث کا راوی مالک بن نمیر خزاعی ”حسن الحدیث“ ہے۔
امام ابن حبان رحمہ اللہ نے اسے [الثقات: 386/5] میں ذکر کیا ہے۔
اور امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ [715] نے اس کی بیان کردہ حدیث کی ”تصحیح“ کر کے اس کے توثیق کی ہے۔
[ماہنامہ السنہ جہلم، شمارہ 61-66، حدیث/صفحہ نمبر: 47]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1272
تشہد میں انگلی سے اشارہ کرنے کا بیان۔
نمیر خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز میں اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھے ہوئے تھے، اور اپنی انگلی سے اشارہ کر رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1272]
نمیر خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نماز میں اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھے ہوئے تھے، اور اپنی انگلی سے اشارہ کر رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1272]
1272۔ اردو حاشیہ: تشہد (پہلا ہو یا آخری اس) میں دایاں ہاتھ شروع ہی سے اس طرح رکھا جاتا ہے کہ تین انگلیاں اور انگوٹھا بند اور انگشت شہادت کھلی ہوتی ہے۔ اور یہ کیفیت تکبیر یا سلام تک قائم رہتی ہے۔ انگشت شہادت کو شروع تشہد سے آخر تک بغیر خم کے اشارے کے انداز میں سیدھا کھڑا بھی کرسکتے ہیں اور مسلسل حرکت بھی دے سکتے ہیں۔ دونوں طریقے جائز اور ثابت ہیں۔ بلکہ حرکت الگ چیز ہے اور اشارہ الگ، لہٰذا اکثر اشارہ (کیونکہ زیادہ روایات میں اشارے کا ذکر ہے) اور کبھی کبھار مسلسل حرکت دے لینی چاہیے جیسا کہ تفصیل پیچھے گزر چکی ہے۔ دیکھیے، حدیث: 890 کے فوائد و مسائل
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1272]
فوائد ومسائل از الشيخ حافظ محمد امين حفظ الله، سنن نسائي، تحت الحديث 1275
اشارہ میں شہادت کی انگلی کو جھکانے کا بیان۔
نمیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں بیٹھے ہوئے دیکھا، اس حال میں کہ آپ اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھے ہوئے تھے، اور اپنی شہادت کی انگلی اٹھائے ہوئے تھے، اور آپ نے اسے کچھ جھکا رکھا تھا، اور آپ دعا کر رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1275]
نمیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز میں بیٹھے ہوئے دیکھا، اس حال میں کہ آپ اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر رکھے ہوئے تھے، اور اپنی شہادت کی انگلی اٹھائے ہوئے تھے، اور آپ نے اسے کچھ جھکا رکھا تھا، اور آپ دعا کر رہے تھے۔ [سنن نسائي/كتاب السهو/حدیث: 1275]
1275۔ اردو حاشیہ: محقق کتاب نے اس روایت کو سنداً حسن کہا ہے جبکہ دیگر محققین نے «قَدْ أَحْنَاهَا شَيْئًا» کے علاوہ باقی روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔ شیخ البانی رحمہ اللہ نے ان الفاظ کو منکر کہا ہے اور موسوعۃ الحدیثیۃ کے محققین نے ان الفاظ کے علاوہ باقی روایت کو صحیح لغیرہ قرار دیا ہے۔ بنابریں مذکورہ روایت ان الفاظ کے علاوہ قابل عمل ہے۔ واللہ أعلم، مزید تفصیل کے لیے دیکھیے: [ضعیف سنن أبي داود (مفصل): 9/371، رقم: 176، والموسوعة الحدیثیة مسند الإمام أحمد: 25/200-201، رقم: 15866]
[سنن نسائی ترجمہ و فوائد از الشیخ حافظ محمد امین حفظ اللہ، حدیث/صفحہ نمبر: 1275]
مولانا عطا الله ساجد حفظ الله، فوائد و مسائل، سنن ابن ماجه، تحت الحديث911
تشہد کے دوران انگلی سے اشارہ کرنے کا بیان۔
نمیر خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے دائیں ہاتھ کو دائیں ران پر نماز میں رکھے ہوئے تھے، اور اپنی انگلی سے اشارہ کر رہے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 911]
نمیر خزاعی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ اپنے دائیں ہاتھ کو دائیں ران پر نماز میں رکھے ہوئے تھے، اور اپنی انگلی سے اشارہ کر رہے تھے ۱؎۔ [سنن ابن ماجه/كتاب إقامة الصلاة والسنة/حدیث: 911]
اردو حاشہ:
فوائدومسائل:
(1)
تشہد میں انگلی سے اشارہ کرنا سنت ہے۔
(2)
اشارہ صرف دایئں ہاتھ کی انگلی سے کرنا چاہیے۔ (دیکھئے: حدیث: 913)
(3)
اشارہ کرتے وقت ہاتھ کی کیفیت کا ذکر اگلی حدیثوں میں آرہا ہے۔
فوائدومسائل:
(1)
تشہد میں انگلی سے اشارہ کرنا سنت ہے۔
(2)
اشارہ صرف دایئں ہاتھ کی انگلی سے کرنا چاہیے۔ (دیکھئے: حدیث: 913)
(3)
اشارہ کرتے وقت ہاتھ کی کیفیت کا ذکر اگلی حدیثوں میں آرہا ہے۔
[سنن ابن ماجہ شرح از مولانا عطا الله ساجد، حدیث/صفحہ نمبر: 911]
Sunan Abi Dawud Hadith 991 in Urdu
مالك بن نمير الخزاعي ← نمير الخزاعي