صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
646. (413) باب ذكر الخبر الدال على أن أمر الصبيان بالصلاة قبل البلوغ على غير الإيجاب
اس حدیث کے ذکر کا بیان جو اس بات کی دلیل ہے کہ بچوں کو بلوغت سے پہلے نماز کا حُکم دینا واجب نہیں ہے
حدیث نمبر: 1003
نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ ، قَالا: أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: مَرَّ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ بِمَجْنُونَةِ بَنِي فُلانٍ، قَدْ زَنَتْ، أَمَرَ عُمَرُ بِرَجْمِهَا، فَرَجَعَهَا عَلِيٌّ، وَقَالَ لِعُمَرَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ: تَرْجُمُ هَذِهِ؟ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: أَوَمَا تَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلاثٍ: عَنِ الْمَجْنُونِ الْمَغْلُوبِ عَلَى عَقْلِهِ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ" قَالَ صَدَقْتَ، فَخَلَّى عَنْهَا
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فلاں قبیلے کی ایک پاگل عورت کے پاس سے گزرے جبکہ اُس نے زنا کا ارتکا ب کیا تھا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اُسے سنگسار کرنے کا حُکم دے دیا تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اسے واپس لوٹا دیا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے عرض کی کہ اے امیر المؤمنین، آپ اسے رجم کریں گے؟ اُنہوں نے فرمایا کہ ہاں، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا، کیا آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان یاد نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ”تین قسم کے لوگوں سے قلم اٹھا لیا گیا ہے (وہ شریعت کے مکلّف نہیں ہیں۔) 1۔ مجنون جس کی عقل مغلوب ہوگئ ہو۔ 2۔ سویا ہوا شخص حتیٰ کہ بیدار ہو جائے۔ 3۔ بچّہ یہاں تک کہ بالغ ہو جائے۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ تم نے سچ کہا ہے۔ پھر اُس عورت کو آزاد کر دیا۔ [صحيح ابن خزيمه/حدیث: 1003]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1003، 3048، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 143، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 955، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4399، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1423، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2042، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2078، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5169، والدارقطني فى (سننه) برقم: 3267، وأحمد فى (مسنده) برقم: 955»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1003 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1003
فوائد:
➊ یہ حدیث بچوں کی تربیت میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ سات سال کے بچے کو باقاعدگی سے نماز کی تلقین کی جائے تو دس سال کی عمر تک لامحالہ وہ پختہ نمازی بن جائے گا۔
پھر نماز میں کچھ کمی ہو تو دس سال کی عمر میں نماز چھوڑنے پر تادیبی کارروائی سدھار دے گی۔
➋ دس سال کی عمر میں بچوں پر نماز فرض نہیں ہوتی، لیکن اس عمر میں ترک نماز پر بچوں کو مارنا اور انہیں سختی سے نماز کا اہتمام کرانا والدین کی ذمہ داری اور فرض ہے۔
نیز بچوں پر نماز اس وقت فرض ہوتی ہے، جب وہ بالغ ہوں۔
➊ یہ حدیث بچوں کی تربیت میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے، کیونکہ سات سال کے بچے کو باقاعدگی سے نماز کی تلقین کی جائے تو دس سال کی عمر تک لامحالہ وہ پختہ نمازی بن جائے گا۔
پھر نماز میں کچھ کمی ہو تو دس سال کی عمر میں نماز چھوڑنے پر تادیبی کارروائی سدھار دے گی۔
➋ دس سال کی عمر میں بچوں پر نماز فرض نہیں ہوتی، لیکن اس عمر میں ترک نماز پر بچوں کو مارنا اور انہیں سختی سے نماز کا اہتمام کرانا والدین کی ذمہ داری اور فرض ہے۔
نیز بچوں پر نماز اس وقت فرض ہوتی ہے، جب وہ بالغ ہوں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1003]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1003 in Urdu
الحصين بن جندب المذحجي ← عبد الله بن العباس القرشي