صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
660. (427) باب الأمر بتحسين ركوع هذه الركعة وسجودها التى يصليها لتمام صلاته أو نافلته
اس رکعت کے رکوع اور سجود کو خوب اچھی طرح ادا کرنے کا بیان جسے وہ اپنی نماز کی تکمیل یا بطور نفل پڑھے گا۔
حدیث نمبر: 1026
نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أُوَيْسٍ ، حَدَّثَنِي أَخِي ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، أَيْضًا حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدٍ وَهُوَ ابْنُ زَيْدٍ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَلا يَدْرِي كَمْ صَلَّى، ثَلاثًا أَمْ أَرْبَعًا، فَلْيَرْكَعْ رَكْعَةً يُحْسِنُ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا، وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ" قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى: وَجَدْتُ هَذَا الْخَبَرَ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ فِي كِتَابَ أَيُّوبُ مَوْقُوفًا. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ هُوَ ابْنُ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَخُو عَاصِمٍ، وَوَاقِدٍ، وَهُوَ أَكْبَرُهُمْ. قَالَ: سَمِعْتُ أَحْمَدَ بْنَ سَعِيدٍ الدَّارِمِيَّ، يَقُولُ: عَاصِمٌ، وَعُمَرُ، وَزِيدٌ، وَوَاقِدٌ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَفَرْقَدٌ، هَؤُلاءِ كُلُّهُمْ إِخْوَةٌ، وَعَاصِمٌ وَهُوَ ابْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَالَ لَنَا الدَّارِمِيُّ هَذَا فِي عَقِبِ خَبَرِهِ
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی شخص نماز پڑھے اور اسے یہ پتہ نہ چلے کہ اس نے کتنی نماز پڑھی ہے، تین رکعات یا چار؟ تو اسے چاہیے کہ ایک رکعت پڑھ لے، اس کے رکوع و سجود خوب سنوار کر ادا کرے اور (آخر میں) دو سجدے کر لے۔“ محمد بن یحییٰ بیان کرتے ہیں کہ میں نے یہ روایت ایوب کی کتاب میں ایک اور جگہ پر موقوف بھی دیکھی ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ عمر بن محمد، وہ زید بن عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا بیٹا ہے اور عاصم اور واقد کا بڑا بھائی ہے۔“ وہ فرماتے ہیں کہ میں نے احمد بن سعید الداری رحمه الله کو فرماتے ہوئے سنا کہ عاصم، عمر، زید، واقد، ابوبکر اور فرقد یہ سب بھائی ہیں۔ اور عاصم وہ محمد بن زید بن عبداللہ بن عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا بیٹا ہے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ امام درامی نے ہمیں یہ بات اپنی روایت کے بعد بیان کی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب السهو فى الصلاة/حدیث: 1026]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1026، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 965، 1207، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3880»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1026 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1026
فوائد:
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ نماز میں شک واقع ہونے کی صورت میں چھوٹے عدد پر بنا رکھی جائے۔
➋ یہی یقینی صورت ہے۔
➌ پھر چھوٹے عدد پر بنا کے بعد اگلی رکعت اچھے طریقے سے ادا کی جائے۔
➍ اس کے قیام اور رکوع و سجود میں جلد بازی کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔
➊ یہ حدیث دلیل ہے کہ نماز میں شک واقع ہونے کی صورت میں چھوٹے عدد پر بنا رکھی جائے۔
➋ یہی یقینی صورت ہے۔
➌ پھر چھوٹے عدد پر بنا کے بعد اگلی رکعت اچھے طریقے سے ادا کی جائے۔
➍ اس کے قیام اور رکوع و سجود میں جلد بازی کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1026]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1026 in Urdu
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي