صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
663. (430) باب ذكر البيان أن المصلي إذا قام من الثنتين فاستوى قائما،
اس بات کا بیان کہ نمازی جب دو رکعتوں کے بعد سیدھا کھڑا ہو جائے،
حدیث نمبر: 1032
نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، وَزِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، قَالا: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ " أَنَّهُ نَهَضَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، فَسَبَّحُوا بِهِ، فَاسْتَتَمَّ، ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ حِينَ انْصَرَفَ، ثُمَّ قَالَ: أَكُنْتُمْ تَرَوْنِي أَجْلِسُ، إِنَّمَا صَنَعْتُ كَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ" . هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ ابْنِ مَنِيعٍ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: لا أَظُنُّ أَبَا مُعَاوِيَةَ إِلا وَهِمَ فِي لَفْظِ هَذَا الإِسْنَادِ
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ دو رکعتوں میں (تشہد میں بیٹھنے کی بجائے) کھڑے ہو گئے تو مقتدیوں نے ”سُبْحَانَ اللَٰه“ کہہ کر انہیں متوجہ کیا۔ تو انہوں نے نماز مکمّل کی پھر نماز ختم کرتے وقت دو سجدے کرلیے، اور فرمایا، تمھارا کیا خیال تھا کہ میں بیٹھ جاؤں گا، بلاشبہ میں نے اسی طرح کیا ہے جیسے میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ یہ ابن منیع کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ امام ابوبکر رحمه الله کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ ابومعاویہ کو اس سند میں وہم ہوا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب السهو فى الصلاة/حدیث: 1032]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1032، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1209، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3921، وأخرجه ابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 4527»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1032 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1032
فوائد:
➊ احادیثِ باب دلیل ہیں کہ اگر امام دوسری رکعت میں تشہد بیٹھنا بھول جائے اور تیسری رکعت کے لیے برابر کھڑا ہونے سے قبل بھول کا احساس نہ ہو تو نمازیوں کی یاد دہانی کے باوجود بیٹھنا ناجائز ہے اور اگر مکمل کھڑا ہونے سے قبل یاد آ جائے تو بیٹھنا مشروع ہے۔
❀ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«إِذَا قَامَ الإِمَامُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، فَإِنْ ذَكَرَ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوِىَ قَائِمًا فَلْيَجْلِسْ، فَإِنِ اسْتَوَى قَائِمًا فَلَا يَجْلِسْ، وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ»
”جب امام دو رکعت میں تشہد کے بغیر کھڑا ہوا پھر اگر برابر کھڑا ہونے سے قبل اسے یاد دہانی کرائی جائے تو وہ بیٹھ جائے اور اگر وہ برابر کھڑا ہو چکا ہو تو (تشہد کے لیے) نہ بیٹھے اور سہو کے دو سجدے کرے۔“ [سنن ابن ماجه: 1208، سنن أبي داود: 1031]
➋ تشہدِ اول چھوٹنے کی صورت میں سہو کے دو سجدے لازم آتے ہیں۔
اس سے تشہد کی کمی کا ازالہ ہو جاتا ہے۔
➌ اگر امام دو رکعتوں کے بعد سیدھا کھڑا ہو چکا ہو تو نمازیوں کی یاد دہانی کے باوجود اسے تیسری رکعت جاری رکھنی چاہیے اور تشہد کے لیے واپس تشہد میں نہیں بیٹھنا چاہیے۔
بلکہ امام کی اتباع میں مقتدی بھی کھڑے ہو کر تیسری رکعت شروع کر دیں۔
➍ غلطی پر امام کو تنبیہ کے لیے مرد حضرات «سُبْحَانَ اللّٰهِ» کہیں، اس کے علاوہ تنبیہ کے لیے کوئی اور کلمہ مشروع نہیں ہے۔
➊ احادیثِ باب دلیل ہیں کہ اگر امام دوسری رکعت میں تشہد بیٹھنا بھول جائے اور تیسری رکعت کے لیے برابر کھڑا ہونے سے قبل بھول کا احساس نہ ہو تو نمازیوں کی یاد دہانی کے باوجود بیٹھنا ناجائز ہے اور اگر مکمل کھڑا ہونے سے قبل یاد آ جائے تو بیٹھنا مشروع ہے۔
❀ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«إِذَا قَامَ الإِمَامُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ، فَإِنْ ذَكَرَ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوِىَ قَائِمًا فَلْيَجْلِسْ، فَإِنِ اسْتَوَى قَائِمًا فَلَا يَجْلِسْ، وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ»
”جب امام دو رکعت میں تشہد کے بغیر کھڑا ہوا پھر اگر برابر کھڑا ہونے سے قبل اسے یاد دہانی کرائی جائے تو وہ بیٹھ جائے اور اگر وہ برابر کھڑا ہو چکا ہو تو (تشہد کے لیے) نہ بیٹھے اور سہو کے دو سجدے کرے۔“ [سنن ابن ماجه: 1208، سنن أبي داود: 1031]
➋ تشہدِ اول چھوٹنے کی صورت میں سہو کے دو سجدے لازم آتے ہیں۔
اس سے تشہد کی کمی کا ازالہ ہو جاتا ہے۔
➌ اگر امام دو رکعتوں کے بعد سیدھا کھڑا ہو چکا ہو تو نمازیوں کی یاد دہانی کے باوجود اسے تیسری رکعت جاری رکھنی چاہیے اور تشہد کے لیے واپس تشہد میں نہیں بیٹھنا چاہیے۔
بلکہ امام کی اتباع میں مقتدی بھی کھڑے ہو کر تیسری رکعت شروع کر دیں۔
➍ غلطی پر امام کو تنبیہ کے لیے مرد حضرات «سُبْحَانَ اللّٰهِ» کہیں، اس کے علاوہ تنبیہ کے لیے کوئی اور کلمہ مشروع نہیں ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1032]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1032 in Urdu
قيس بن أبي حازم البجلي ← سعد بن أبي وقاص الزهري