صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
686. (453) باب ذكر الخبر المفسر للفظتين المجملتين اللتين ذكرتهما فى البابين المقدمين،
گزشتہ دو ابواب میں مذکورہ مجمل روایات کی تفسیر کرنے والی حدیث کا بیان
حدیث نمبر: 1086
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، ح وَحَدَّثَنَا عَلِيٌّ ، أَيْضًا أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ إِدْرِيسَ ، ح وَحَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ جَمِيعًا عَنِ الأَعْمَشِ ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قَالا: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، نَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سُلَيْمَانَ وَهُوَ الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ خَافَ مِنْكُمْ أَنْ لا يَسْتَيْقِظَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ، فَلْيُوتِرْ مِنْ أَوَّلِهِ، وَلْيَرْقُدْ، وَمَنْ طَمِعَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَيْقِظَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ فَلْيُوتِرْ مِنْ آخِرِهِ ؛ فَإِنَّ صَلاةَ آخِرِ اللَّيْلِ مَحْضُورَةٌ، فَذَلِكَ أَفْضَلُ" هَذَا حَدِيثُ عِيسَى وَفِي حَدِيثِ جَرِيرٍ، وَأَبِي عَوَانَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
سیدنا جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے جس شخص کو یہ ڈر ہو کہ وہ رات کے آخری حصّے میں بیدار نہیں ہو سکے گا تو وہ رات کے شروع میں وتر پڑھ لے اور سو جائے، اور تم میں جس شخص کو رات کے آخری حصّے میں بیدار ہونے کا طمع ہو تو وہ آخری پہر میں وتر ادا کرے، بیشک رات کے آخری حصّے کی نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل ہے۔“ یہ جناب عیسیٰ کی روایت ہے۔ جناب جریر اور ابوعوانہ کی روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سنا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن/حدیث: 1086]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 755، وابن الجارود فى "المنتقى"، 297، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1086، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2565، والترمذي فى (جامعه) برقم: 455 م، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1187، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4914، 4915، وأحمد فى (مسنده) برقم: 14427»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1086 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1086
فوائد:
یہ احادیث دلیل ہیں کہ جو شخص رات کے پچھلے پہر بیدار ہونے پر قادر ہو، اس کے لیے رات کے پچھلے پہر وتر پڑھنا افضل ہے۔
اور جو شخص پچھلے پہر بیدار ہونے سے قاصر ہو، اس کے لیے رات کے اول حصے میں وتر پڑھنا افضل ہے۔
اس بارے میں مطلق روایات کو اسی مفہوم پر محمول کیا جائے گا۔
اس رخصت کے باوجود رات کے پچھلے پہر نمازِ وتر ادا کرنا افضل ہے کیونکہ اس وقت رحمت کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ نمازِ وتر کا افضل وقت ہے۔ [شرح صحيح مسلم للنووي: 34/6]
یہ احادیث دلیل ہیں کہ جو شخص رات کے پچھلے پہر بیدار ہونے پر قادر ہو، اس کے لیے رات کے پچھلے پہر وتر پڑھنا افضل ہے۔
اور جو شخص پچھلے پہر بیدار ہونے سے قاصر ہو، اس کے لیے رات کے اول حصے میں وتر پڑھنا افضل ہے۔
اس بارے میں مطلق روایات کو اسی مفہوم پر محمول کیا جائے گا۔
اس رخصت کے باوجود رات کے پچھلے پہر نمازِ وتر ادا کرنا افضل ہے کیونکہ اس وقت رحمت کے فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ نمازِ وتر کا افضل وقت ہے۔ [شرح صحيح مسلم للنووي: 34/6]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1086]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1086 in Urdu
طلحة بن نافع القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري