صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
689. (456) باب النائم عن الوتر أو الناسي له يصبح قبل أن يوتر
اس شخص کا بیان جو وتر سے سو یا رہ جائے یا بھول جائے اور وتر پڑھںے سے پہلے اسے صبح ہوجائے
حدیث نمبر: 1091
نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الْقُطَعِيُّ ، وَأَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، قَالا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ ، حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: قَالَ ابْنُ جُرَيْجٍ: حَدَّثَنِي أَيْضًا سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا نَافِعٌ ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ ، كَانَ يَقُولُ: مَنْ صَلَّى مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَجْعَلْ آخِرَ صَلاتِهِ وِتْرًا ؛ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمْرَ بِذَلِكَ، فَإِذَا كَانَ الْفَجْرُ فَقَدْ ذَهَبَتْ كُلُّ صَلاةِ اللَّيْلِ وَالْوِتْرُ ؛ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْوِتْرُ قَبْلَ الْفَجْرِ" هَذَا حَدِيثُ الْقُطَعِيِّ. وَقَالَ الآخَرُونَ: فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَوْتِرُوا قَبْلَ الْفَجْرِ". وَقَالَ الرَّمَادِيُّ: فَقَدْ ذَهَبَتْ صَلاةُ اللَّيْلِ وَالْوِتْرُ
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے تھے کہ جو شخص رات کو نماز پڑھے تو اُسے چاہیے کہ اپنی آخری نماز وتر بنائے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا حُکم دیا ہے، پھر جب فجر ہو جائے تو پھر رات کی ہر نماز اور وتر کا وقت ختم ہوجاتا ہے۔ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وتر کی نماز فجر سے پہلے ہے۔“ یہ جناب محمد بن یحییٰ قطعی کی روایت ہے۔ دوسرے راویوں نے یہ کہا ہے کہ بیشک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فجر سے پہلے وتر پڑھو۔“ اور الرمادی نے کہا کہ ”(طلوع فجر ہوگئی) تو رات کی نماز اور وتر کا وقت ختم ہوگیا۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن/حدیث: 1091]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 472، 473، 990، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 749، ومالك فى (الموطأ) برقم: 399، وابن الجارود فى "المنتقى"، 295، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1072، 1073، 1082، 1091، 1110، 1112، 1210، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2426، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1130، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1665، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1295، والترمذي فى (جامعه) برقم: 437، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1144، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4588، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1546، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2882»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1091 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1091
فوائد:
اس حدیث کی وضاحت حدیث 5500 کے تحت بیان ہوئی ہے۔
اس حدیث کی وضاحت حدیث 5500 کے تحت بیان ہوئی ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1091]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1091 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي