🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
691. (458) باب ذكر الدليل على أن النبى صلى الله عليه وسلم إنما أوتر هذه الليلة التى بات ابن عباس فيها عنده بعد طلوع الفجر الذى يكون بعد طلوعه ليل لا نهار،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ جو رات سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر گزاری تھی، اُس رات آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی فجر کے طلوع کے بعد وتر ادا کیے تھے، اس فجر کے بعد رات ہوتی ہے، دن نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1100
نَا نَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُرَادِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَبْدِ الْقَارِئِ، وَكَانَ فِي عَهْدِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَرْقَمَ عَلَى بَيْتِ الْمَالِ، أَنَّ عُمَرَ، خَرَجَ لَيْلَةً فِي رَمَضَانَ فَخَرَجَ مَعَهُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْقَارِئِ، فَطَافَ بِالْمَسْجِدِ وَأَهْلُ الْمَسْجِدِ أَوْزَاعٌ مُتَفَرِّقُونَ، يُصَلِّي الرَّجُلُ لِنَفْسِهِ، وَيُصَلِّي الرَّجُلُ فَيُصَلِّي بِصَلاتِهِ الرَّهْطُ، فَقَالَ عُمَرُ: وَاللَّهِ إِنِّي أَظُنُّ لَوْ جَمَعْنَا هَؤُلاءِ عَلَى قَارِئٍ وَاحِدٍ لَكَانَ أَمْثَلَ، ثُمَّ عَزَمَ عُمَرُ عَلَى ذَلِكَ وَأَمَرَ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ أَنْ يَقُومَ لَهُمْ فِي رَمَضَانَ، فَخَرَجَ عُمَرُ عَلَيْهِمْ، وَالنَّاسُ يُصَلُّونَ بِصَلاةِ قَارِئِهِمْ، فَقَالَ عُمَرُ:" نِعْمَ الْبِدْعَةُ هِيَ، وَالَّتِي تَنَامُونَ عَنْهَا أَفْضَلُ مِنَ الَّتِي تَقُومُونَ، يُرِيدُ آخِرَ اللَّيْلِ، فَكَانَ النَّاسُ يَقُومُونَ أَوَّلَهُ، وَكَانُوا يَلْعَنُونَ الْكَفَرَةَ فِي النِّصْفِ: اللَّهُمَّ قَاتِلِ الْكَفَرَةَ الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِكَ وَيُكَذِّبُونَ رُسُلَكَ، وَلا يُؤْمِنُونَ بِوَعْدِكَ، وَخَالِفْ بَيْنَ كَلِمَتِهِمْ، وَأَلْقِ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ، وَأَلْقِ عَلَيْهِمْ رِجْزَكَ وَعَذَابَكَ، إِلَهَ الْحَقِّ، ثُمَّ يُصَلِّي عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَيَدْعُو لِلْمُسْلِمِينَ بِمَا اسْتَطَاعَ مِنْ خَيْرٍ، ثُمَّ يَسْتَغْفِرُ لِلْمُؤْمِنِينَ، قَالَ: وَكَانَ يَقُولُ إِذَا فَرَغَ مِنْ لَعْنَةِ الْكَفَرَةِ، وَصَلاتِهِ عَلَى النَّبِيِّ، وَاسْتِغْفَارِهِ لِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ، وَمَسْأَلَتِهِ: اللَّهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ، وَلَكَ نُصَلِّي وَنَسْجُدُ، وَإِلَيْكَ نَسْعَى وَنَحْفِدُ، وَنَرْجُو رَحْمَتَكَ رَبَّنَا، وَنَخَافُ عَذَابَكَ الْجِدَّ، إِنَّ عَذَابَكَ لِمَنْ عَادَيْتَ مُلْحِقٌ، ثُمَّ يُكَبِّرُ وَيَهْوِي سَاجِدًا"
سیدنا عروہ بن زبیر بیان کر تے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب کے دور خلافت میں عبدالرحمان بن قاری، عبد اللہ بن ارقم کے ساتھ بیت المال کے گورنر تھے۔ (وہ بیان کر تے ہیں کہ) سیدنا عمر بن خطاب رضی اﷲ عنہ رمضان المبارک کی ایک رات گھر سے باہر تشریف لائے تو عبدالرحمان بن عبدالقاری بھی اُن کے ساتھ چل دیے۔ اُنہوں نے مسجد کا ایک چکّر لگایا جبکہ اہل مسجد مختلف گروہوں کی شکل میں نماز پڑھ رہے تھے، کوئی شخص اکیلا ہی نماز پڑھ رہا تھا، اور کسی شخص کے ساتھ کچھ لوگ مل کر نماز ادا کر رہے تھے، چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اللہ کی قسم، بیشک میرا خیال ہے کہ اگر ہم ان سب کہ ایک ہی قاری کے ساتھ جمع کریں تو یہ بہت اچھا ہو گا، پھر سیدنا عمر رضی ﷲ عنہ نے اس بات کا پختہ ارادہ فرمایا۔ اور سیدنا ابی بن کعب رضی ﷲ عنہ کو حُکم دیا کہ وہ انہیں رمضان المبارک میں نفل نماز پڑھایا کریں۔ پھر ایک روز سیدنا عمر رضی اﷲ عنہ ان کے پاس تشریف لائے جب کہ وہ اپنے قاری کے ساتھ (نفل) نماز پڑھ رہے تھے، تو سیدنا عمررضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ یہ نیا کام کتنا اچھا ہے۔ رات کے جس حصّے سے تم سوجاؤ گے وہ اس حصّے سے افصل ہے جس میں تم نماز پڑھ رہے ہو۔ آپ کی مراد رات کا آخری حصّہ تھا۔ تو لوگ ابتدائی رات میں قیام کرتے تھے، اور نصف رمضان المبارک کے بعد کفار پر (ان الفاظ میں) لعنت بھیجتے تھے۔ (دعائے قنوت پڑھتے تھے) «‏‏‏‏اللّٰهُمَّ قَاتِلِ الْكَفَرَةَ الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِكَ وَيُكَذِّبُونَ رُسُلَكَ، وَلَا يُؤْمِنُونَ بِوَعْدِكَ، وَخَالِفْ بَيْنَ كَلِمَتِهِمْ، وَأَلْقِ فِي قُلُوبِهِمُ الرُّعْبَ، وَأَلْقِ عَلَيْهِمْ رِجْزَكَ وَعَذَابَكَ، إِلٰهَ الْحَقِّ» ‏‏‏‏ اے اللہ، ان کافروں کو تباہ و برباد کر دے، جو تیرے راستے سے روکتے ہیں، اور تیرے رسولوں کو جھٹلاتے ہیں، اور تیرے وعدے پر ایمان نہیں لاتے، اور ان کے اتحاد کو پارہ پارہ کر دے، ان کے دلوں میں رعب ڈال دے، اے معبود برحق، ان پر اپنا عذاب مسلط کر دے۔ پھر (قاری اور امام) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتا اور مسلمانوں کے لئے حسب استطاعت خیر و بھلائی کی دعائیں مانگتا پھر مومنوں کے لئے بخشش کی دعائیں کرتا۔ راوی کا بیان ہے کہ امام جب کفار پر لعنت بھیجنے سے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے اور مومن مردوں اور عورتوں کے لئے بخشش کی دعا کرنے سے فارغ ہوتا تو یہ دعا بھی مانگتا «‏‏‏‏اللّٰهُمَّ إِيَّاكَ نَعْبُدُ، وَلَكَ نُصَلِّي وَنَسْجُدُ وَإِلَيْكَ نَسْعٰى وَنَحْفِدُ، وَنَرْجُو رَحْمَتَكَ رَبَّنَا، وَنَخَافُ عَذَابَكَ الْجِدّ، إِنَّ عَذَابَكَ لِمَنْ عَادَيْتَ مُلْحِقٌ» ‏‏‏‏ اے اللہ، ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں، ہم تیرے لئے ہی نماز پڑھتے اور سجدے کر تے ہیں اور تیری طرف ہی جستجو اور جدو جہد کرتے ہیں۔ اے ہمارے رب ہم تیری رحمت کی اُمید کر تے ہیں اور تیرے سخت عذاب سے ڈرتے ہیں بیشک تیرا عذاب تیرے دشمنوں پر مسلط ہو کر رہے گا۔، پھر امام اللهُ أَكْبَرُ کہہ کر سجدے کے لیے جُھک جاتا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الوتر وما فيه من السنن/حدیث: 1100]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2010، ومالك فى (الموطأ) برقم: 378، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1100، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4677، 4678، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 7723، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 6205، 7785، 7788، 7790»


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥عروة بن الزبير الأسدي، أبو عبد الله
Newعروة بن الزبير الأسدي ← عمر بن الخطاب العدوي
ثقة فقيه مشهور
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر
Newمحمد بن شهاب الزهري ← عروة بن الزبير الأسدي
الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه
👤←👥يونس بن يزيد الأيلي، أبو يزيد، أبو بكر
Newيونس بن يزيد الأيلي ← محمد بن شهاب الزهري
ثقة
👤←👥عبد الله بن وهب القرشي، أبو محمد
Newعبد الله بن وهب القرشي ← يونس بن يزيد الأيلي
ثقة حافظ
👤←👥الربيع بن سليمان المرادي، أبو محمد
Newالربيع بن سليمان المرادي ← عبد الله بن وهب القرشي
ثقة
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1100 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1100
فوائد:
➊ نماز تراویح میں رمضان کے آخری پندرہ دنوں میں مذکورہ دعا کا اہتمام کرنا مسنون و جائز ہے، لیکن اس سے یہ استدلال کرنا کہ دعائے قنوت صرف رمضان کے آخری پندرہ دنوں میں ثابت ہے باطل ہے۔
➋ بعض لوگ ◈ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے قول «نعم البدعة» سے بدعت حسنہ کو ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ درست نہیں ہے۔
➌ یہاں پر بدعت کا لغوی معنی مراد ہے اصطلاحی نہیں۔
➍ کیونکہ یہ بات ❀ صحیح احادیث سے ثابت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی 3 دن تک تراویح کی نماز کروائی تھی۔
➎ لیکن بعد میں فرض ہو جانے کے ڈر کی وجہ سے جماعت ترک کر دی تھی اور جو کام نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا ہو وہ بدعت نہیں ہوتا بلکہ سنت ہوتا ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1100]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1100 in Urdu