صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
718. (485) بَابُ ذِكْرِ الْبَيَانِ عَلَى أَنَّ صَلَاةَ اللَّيْلِ أَفْضَلُ الصَّلَاةِ بَعْدَ صَلَاةِ الْفَرِيضَةِ
اس بات کی دلیل کا بیان کہ رات کی نماز، فرض نماز کے بعد سب نمازوں سے افضل و اعلیٰ ہے
حدیث نمبر: 1134
حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى ، قَالا: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلَكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْتَشِرِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَالَ يُوسُفُ: يَرْفَعُهُ، قَالَ: سُئِلَ أَيُّ صَلاةٍ أَفْضَلُ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ؟ وَأَيُّ الصِّيَامِ أَفْضَلُ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ؟ فَقَالَ: " أَفْضَلُ الصَّلاةِ بَعْدَ الْمَكْتُوبَةِ الصَّلاةُ في جَوْفِ اللَّيْلِ، وَأَفْضَلُ الصِّيَامِ بَعْدَ شَهْرِ رَمَضَانَ شَهْرُ اللَّهِ الْمُحَرَّمُ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مرفوع روایت بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ فرض نماز کے بعد کونسی نماز افضل و اعلیٰ ہے اور رمضان المبارک کے بعد کون سے روزے افضل ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فرض نماز کے بعد افضل ترین نماز رات کے وسط میں نماز ادا کرنا ہے اور رمضان المبارک کے بعد افضل ترین روزے اللہ کے مہینے محرم کے ہیں۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: 1134]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 1163، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1134، 2076، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2563، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1159، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1612، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2429، والترمذي فى (جامعه) برقم: 438، 740، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1742، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4735، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8141»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1134 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1134
فوائد:
تمام علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ رات کے نوافل، دن کے نوافل سے افضل ہیں۔
◈ اس میں ابو اسحاق مروزی کے موقف کی دلیل ہے کہ رات کی نماز مؤکدہ سنتوں سے افضل ہے۔
اور بعض شافعیہ کا موقف ہے کہ مؤکدہ سنتیں رات کی نماز سے افضل ہیں کیونکہ یہ فرض نمازوں کے مشابہ ہیں۔
لیکن پہلا موقف قوی تر اور راجح ہے۔ [شرح النووي: 54/18]
تمام علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ رات کے نوافل، دن کے نوافل سے افضل ہیں۔
◈ اس میں ابو اسحاق مروزی کے موقف کی دلیل ہے کہ رات کی نماز مؤکدہ سنتوں سے افضل ہے۔
اور بعض شافعیہ کا موقف ہے کہ مؤکدہ سنتیں رات کی نماز سے افضل ہیں کیونکہ یہ فرض نمازوں کے مشابہ ہیں۔
لیکن پہلا موقف قوی تر اور راجح ہے۔ [شرح النووي: 54/18]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1134]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1134 in Urdu
حميد بن عبد الرحمن الحميري ← أبو هريرة الدوسي