صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
726. (493) بَابُ فَضْلِ قِرَاءَةِ أَلْفِ آيَةٍ فِي لَيْلَةٍ إِنْ صَحَّ الْخَبَرُ،
رات میں ایک ہزار آیات تلاوت کرنے کی فضیلت کا بیان،
حدیث نمبر: Q1144
فَإِنِّي لَا أَعْرِفُ أَبَا سَوِيَّةَ بِعَدَالَةٍ وَلَا جَرْحٍ
اگر اس بارے میں مروی روایت صحیح ہو، کیونکہ مجھے ابو سویہ کی تعدیل یا جرح معلوم نہیں ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: Q1144]
حدیث نمبر: 1144
حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ أَبَا سَوِيَّةَ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ ابْنَ حُجَيْرَةَ يُخْبِرُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ : عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ: " مَنْ قَامَ بِعَشْرِ آيَاتٍ لَمْ يُكْتَبْ مِنَ الْغَافِلِينَ، وَمَنْ قَامَ بِمِائَةِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْقَانِتِينَ، وَمَنَ قَرَأَ بِأَلْفِ آيَةٍ كُتِبَ مِنَ الْمُقَنْطِرِينَ"
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس شخص نے قیام اللّیل میں دس آیات تلاوت کیں وہ غافلوں میں نہیں لکھا جاتا، اور جس نے سو آیات تلاوت کر کے قیام کیا وہ فرنبرداروں میں لکھا جاتا ہے اور جس نے ایک ہزار آیات پڑھ کر نماز پڑھی تو وہ عظیم خیر و برکت حاصل کرنے والوں میں لکھ دیا جاتا ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: 1144]
تخریج الحدیث: «اسناده جيد، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1144، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2572، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1398، والطبراني فى(الكبير) برقم: 14727»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1144 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1144
فوائد:
اس حدیث میں قیام اللیل کا اہتمام کرنے کی فضیلت کا بیان ہے کہ جو شخص دس آیات کی تلاوت کرتا ہے، وہ غافلین میں شمار نہیں ہوتا۔
سو آیات کی تلاوت کرنے والا قانتین کے زمرے میں آتا ہے اور ہزار آیات کی تلاوت کرنے والے کو بہت زیادہ اجر و ثواب سے نوازا جاتا ہے۔
اس لیے قیام اللیل میں زیادہ تلاوت کا اہتمام کیا جائے۔
اس حدیث میں قیام اللیل کا اہتمام کرنے کی فضیلت کا بیان ہے کہ جو شخص دس آیات کی تلاوت کرتا ہے، وہ غافلین میں شمار نہیں ہوتا۔
سو آیات کی تلاوت کرنے والا قانتین کے زمرے میں آتا ہے اور ہزار آیات کی تلاوت کرنے والے کو بہت زیادہ اجر و ثواب سے نوازا جاتا ہے۔
اس لیے قیام اللیل میں زیادہ تلاوت کا اہتمام کیا جائے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1144]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1144 in Urdu
عبد الرحمن بن حجيرة الخولاني ← عبد الله بن عمرو السهمي