صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
728. (495) باب استحباب الدعاء فى نصف الليل الآخر رجاء الإجابة
قبولیت کی امید کے ساتھ رات کے آخری نصف حصّے میں دعا مانگنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 1147
حَدَّثَنَا بَحْرُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَابَقٍ الْخَوْلانِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنِي أَبُو يَحْيَى وَهُوَ سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ ، وَضَمْرَةُ بْنُ حَبِيبٍ ، وَأَبُو طَلْحَةَ هُوَ نُعَيْمُ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ الْبَاهِلِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ عَنْبَسَةَ ، قَالَ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ نَازِلٌ بِعُكَاظَ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَهَلْ مِنْ دَعْوَةٍ أَقْرَبُ مِنْ أُخْرَى، أَوْ سَاعَةٍ؟ قَالَ:" نَعَمْ، إِنَّ أَقْرَبَ مَا يَكُونُ الرَّبُّ مِنَ الْعَبْدِ جَوْفَ اللَّيْلِ الآخِرِ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَكُونَ مِمَّنْ يَذْكُرُ اللَّهَ فِي تِلْكَ السَّاعَةِ فَكُنْ"
سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ بیان کر تے ہیں کہ میں رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عکاظ (کے بازار) میں تشریف فرما تھے۔ پھر مکمّل حدیث بیان کی۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، کیا کوئی دعا دوسری دعا سے یا کوئی گھڑی دوسری گھڑی سے قبولیت میں زیادہ قریب ہوتی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، بلاشبہ رات کے آخری (نصف) حصّے کے وسط میں رب تعالیٰ بندے کے بہت زیادہ قریب ہوتا ہے لہٰذا اگر تم اس گھڑی میں اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والوں میں شامل ہونے کی طاقت رکھو تو اُن میں شامل ہو جاؤ۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: 1147]
تخریج الحدیث: اسناده صحيح
الرواة الحديث:
صدي بن عجلان الباهلي ← عمرو بن عبسة السلمي