صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
751. (518) باب استحباب الصلاة وكثرتها وطول القيام فيها يشكر الله لما يولي العبد من نعمته وإحسانه
نفل نماز بکثرت اور لمبے قیام کے ساتھ پڑھنا مستحب ہے تاکہ بندہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں اور احسانات کا شکر ادا کرسکے
حدیث نمبر: 1184
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الأَحْمَسِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُحَارِبِيُّ ، ح وَحَدَّثَنَا أَبُو عَمَّارٍ ، نَا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى جَمِيعًا، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَقُومُ حَتَّى تَرِمَ قَدَمَاهُ، فَقِيلَ لَهُ: أَيْ رَسُولُ اللَّهِ! أَتَصْنَعُ هَذَا وَقَدْ جَاءَكَ مِنَ اللَّهِ أَنْ قَدْ غَفَرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟ قَالَ:" أَفَلا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا" . هَذَا لَفْظُ الْمُحَارِبِيِّ. قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فِي هَذَا دِلالَةٌ عَلَى أَنَّ الشُّكْرَ لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ يَكُونُ بِالْعَمَلِ لَهُ، لأَنَّ الشُّكْرَ كُلَّهُ لِلَّهِ، وَقَدْ يَكُونُ بِاللِّسَانِ قَالَ اللَّهُ اعْمَلُوا آلَ دَاوُدَ شُكْرًا سورة سبأ آية 13، فَأَمَرَهُمْ جَلَّ وَعَلا أَنْ يَعْمَلُوا لَهُ شُكْرًا، فَالشُّكْرُ قَدْ يَكُونُ بِالْقَوْلِ وَالْعَمَلِ جَمِيعًا، لا عَلَى مَا يَتَوَهَّمُ الْعَامَّةُ أَنَّ الشُّكْرَ إِنَّمَا يَكُونُ بِاللِّسَانِ فَقَطْ. وَقَوْلُهُ:" غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ" مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَقُولُ إِنَّهُ جَائِزٌ فِي اللُّغَةِ أَنْ، يُقَالَ: يَكُونُ فِي مَعْنَى كَانَ، لأَنَّ اللَّهَ إِنَّمَا قَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا سورة الفتح آية 1، وَقِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ، فَلَمْ يَرُدَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْقَائِلِ، وَلَمْ يَقُلْ أَيْضًا: وَعَدَنِي أَنْ يَغْفِرَ ؛ لأَنَّهُ قَدْ غَفَرَ
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (اس قدر طویل) قیام کیا کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدم مبارک پھول گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی گئی کہ اے اللہ کے رسول، آپ صلی اللہ علیہ وسلم یہ بہت مشقّت والا کام کرتے ہیں جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اللہ تعالیٰ کی یہ وحی آچکی ہے کہ اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اگلی پچھلی تمام غلطیاں معاف فرمادی ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں شکر گذار بندہ نہ بنوں؟“ یہ محاربی کی حدیث کے الفاظ ہیں۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ تعالیٰ کا شکر کبھی اس کے لئے عمل کے ذریعہ سے ہوتا ہے کیونکہ سارے کا سارا شکر اللہ ہی کے لئے ہے۔ اور کبھی شکر زبان سے ادا ہوتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: «اعْمَلُوا آلَ دَاوُودَ شُكْرًا» [ سورة سبإ: 13 ] ”اے آل داؤد شکرانے کے طور پر (نیک) عمل کرو۔“ لہٰذا اللہ تعالیٰ نے اُنہیں حُکم دیا ہے کہ وہ اس کے شکرانے کے طور پر نیک اعمال کریں۔ چنانچہ شکر کبھی قول اور عمل دونوں کے ساتھ ادا ہوتا ہے۔ اس طرح نہیں جیسا کہ عام لوگوں کا خیال ہے کہ شکر صرف زبان سے ادا ہوتا ہے۔ حدیث کے یہ الفاظ کہ ” اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے پچھلے تمام گناہ معاف فرما دیے ہیں۔“ یہ اس قسم سے ہے جس کے بارے میں، میں کہتا ہوں کہ لغوی طور پر یہ جائز ہے کہ کہا جائے ”یکون“ (ہو گا) ”کان“ (ہوچکا) کے معنی میں بھی آتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا ہے: «إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا» ” بلاشبہ ہم نے آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو فتح مبین عطا کی ہے۔“ اور نبی عليه السلام سے یہ کہا گیا کہ تحقیق اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اگلے پچھلے گناہ معاف فرما دیے ہیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قائل کا رد نہیں کیا اور نہ اسے یہ فرمایا ہے کہ ” میرے رب نے میرے گناہ معاف کرنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ کیونکہ وہ تو معاف کر چکا ہے۔“ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع بالليل/حدیث: 1184]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1184، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1644، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1328، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1420، والبزار فى (مسنده) برقم: 8001»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1184 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1184
فوائد:
➊ قیام اللیل کا اہتمام مشروع و مستحب ہے اور طول قیام کی صورت میں انسان کا مشقت اور تکلیف کا سامنا کرنا بھی جائز ہے، بشرطیکہ انسان اکتاہٹ و ملال کا شکار نہ ہو۔
➋ انسان پر اللہ تعالیٰ کے انعامات و اکرامات جتنے زیادہ ہوں، اسے اسی قدر زیادہ عبادات کا اہتمام کرنا چاہیے، اسی سے انسان کی بخشش و مغفرت ممکن ہے، نیز جنہیں مغفرت کے بارے میں علم نہ ہو انہیں تو عبادات میں خوب دلچسپی لینی چاہیے، لیکن یہ بات ذہن نشین رہے کہ کثرت عبادت کے شوق میں شرعی حدود اور سنن سے تجاوز نہ کیا جائے۔
➌ ◈ امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ بندے کا اللہ کا شکر ادا کرنے سے مقصود، اس کے انعامات کا اعتراف، انعامات پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنا اور نیکی کے کاموں پر مکمل دوام ہے اور اللہ تعالیٰ کا بندوں کے اعمال کی قدر دانی سے مراد، نیک اعمال پر انہیں اچھا بدلہ دینا و ثواب کو بڑھا چڑھا کر دینا اور جو ان پر انعامات کیے ہیں ان پر ان کی تعریف کرنا ہے۔ ** [شرح صحيح مسلم للنووي: 162/17] **
➊ قیام اللیل کا اہتمام مشروع و مستحب ہے اور طول قیام کی صورت میں انسان کا مشقت اور تکلیف کا سامنا کرنا بھی جائز ہے، بشرطیکہ انسان اکتاہٹ و ملال کا شکار نہ ہو۔
➋ انسان پر اللہ تعالیٰ کے انعامات و اکرامات جتنے زیادہ ہوں، اسے اسی قدر زیادہ عبادات کا اہتمام کرنا چاہیے، اسی سے انسان کی بخشش و مغفرت ممکن ہے، نیز جنہیں مغفرت کے بارے میں علم نہ ہو انہیں تو عبادات میں خوب دلچسپی لینی چاہیے، لیکن یہ بات ذہن نشین رہے کہ کثرت عبادت کے شوق میں شرعی حدود اور سنن سے تجاوز نہ کیا جائے۔
➌ ◈ امام نووی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ بندے کا اللہ کا شکر ادا کرنے سے مقصود، اس کے انعامات کا اعتراف، انعامات پر اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کرنا اور نیکی کے کاموں پر مکمل دوام ہے اور اللہ تعالیٰ کا بندوں کے اعمال کی قدر دانی سے مراد، نیک اعمال پر انہیں اچھا بدلہ دینا و ثواب کو بڑھا چڑھا کر دینا اور جو ان پر انعامات کیے ہیں ان پر ان کی تعریف کرنا ہے۔ ** [شرح صحيح مسلم للنووي: 162/17] **
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1184]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1184 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي