علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب ذكر الدليل على أن الله- عز وجل- إنما أوجب الوضوء على بعض القائمين إلى الصلاة لا على كل قائم إلى الصلاة
اس بات کی دلیل کا بیان کہ اللہ تعالیٰ نے نماز کے لیے کھڑے ہونے والے کچھ لوگوں پر وضو فرض کیا ہے (یعنی جن کا وضو ٹوٹ چکا ہو) نہ کہ ہر نماز پڑھنے والے پر
حدیث نمبر: Q12
فِي قَوْلِهِ: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ} [المائدة: ٦] الْآيَةَ، إِذِ اللَّهُ جَلَّ وَعَلَا وَلَّى نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيَانَ مَا أَنْزَلَ عَلَيْهِ خَاصًّا وَعَامًّا، فَبَيَّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِسُنَّتِهِ أَنَّ اللَّهَ إِنَّمَا أَمَرَ بِالْوُضُوءِ بَعْضَ الْقَائِمِينَ إِلَى الصَّلَاةِ، لَا كُلَّهُمْ، كَمَا بَيَّنَ عَلَيْهِ السَّلَامُ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَرَادَ بِقَوْلِهِ: {خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً} [التوبة: ١٠٣] بَعْضَ الْأَمْوَالِ لَا كُلَّهَا، وَكَمَا بَيَّنَ بِقِسْمَةِ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَى ِ بَيْنَ بَنِي هَاشِمٍ، وَبَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنَّ اللَّهَ أَرَادَ بِقَوْلِهِ: {ذِي الْقُرْبَى} [النساء: ٣٦] بَعْضَ قَرَابَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دُونَ جَمِيعِهِمْ، وَكَمَا بَيَّنَ أَنَّ اللَّهَ أَرَادَ بِقَوْلِهِ: {وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا} [المائدة: ٣٨] بَعْضَ السُّرَّاقِ دُونَ جَمِيعِهِمْ، إِذْ سَارِقُ دِرْهَمٍ فَمَا دُونَهُ يَقَعُ عَلَيْهِ اسْمُ سَارِقٍ، فَبَيَّنَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِهِ: «الْقَطْعُ فِي رُبْعِ دِينَارٍ فَصَاعِدًا» ، أَنَّ اللَّهَ إِنَّمَا أَرَادَ بَعْضَ السُّرَّاقِ دُونَ بَعْضٍ بِقَوْلِهِ: {وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا} [المائدة: ٣٨] الْآيَةَ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لِنَبِيِّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {وَأَنْزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ للِنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ} [النحل: ٤٤]
اپنے اس ارشاد گرامی میں «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ» [ سورة المائدة ] ”ایمان والو، جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اپنے چہرے اور اپنے ہاتھوں کو کہنیوں سمیت دھولو، اپنے سروں کا مسح کرو اور اپنے پاؤں ٹخنوں سمیت دھولو۔۔۔“ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اُن پر نازل کردہ ہر خاص و عام حکم کو بیان کرنے والا بنایا ہے لہٰذا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سنّت سے بیان فرما دیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نماز پڑھنے والے کو وضو کا حکم نہیں دیا کچھ لوگوں کو حکم دیا ہے (جن کا وضو ٹوٹ چکا ہو) جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت «خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً» [ سورة التوبة ] (ان کے اموال سے صدقہ لیجیے) کی تفسیر کرتے ہوئے بیان فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ مال بطور صدقہ (زکٰوۃ) لینے کا حکم دیا ہے سارا نہیں۔ (یعنی زکٰوۃ کی مقررہ مقدار) اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت سے قرابت داروں کا حصّہ بنی ہاشم اور بنی عبد المطلب میں تقسیم کر کے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان «وَذِي الْقُرْبَىٰ» [ سورة البقرة ] ”اور قرابت داروں کو دو“ کی وضاحت کردی کہ قرابت داروں سے مراد آپ کے بعض رشتہ دار ہیں، سارے نہیں، اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان ہو «وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا» [ سورة المائدة ] ”چور مرد اور چور عورت کے ہاتھ کاٹ دو“ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے اللہ تعالیٰ کا مقصود بعض چور ہیں نہ کہ سب چور۔ کیونکہ ایک درھم یا اس سے کم قیمت کی چوری کرنے والے پر بھی لفظ چور کا اطلاق ہوتا ہے۔ لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا: ”چوتھائی دینار یا اس سے زیادہ قیمت کی چیز چوری کرنے پر چور کا ہاتھ کاٹا جائے گا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس فرمان سے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد گرامی «وَالسَّارِقُ وَالسَّارِقَةُ فَاقْطَعُوا أَيْدِيَهُمَا» [ سورة المائدة ] کی وضاحت فرمادی کہ اس سے مراد بعض چور ہیں (جو چوتھائی دینار تک کی چوری کریں) اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا «وَأَنزَلْنَا إِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَيْهِمْ» [ سورة النحل ] یہ ذکر (قرآن مجید) ہم نے آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی طرف اتارا ہے تا کہ لوگوں کی جانب جو نازل کیا گیا ہے آپ ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اسے کھول کھول کر بیان کردیں۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: الوضوء/حدیث: Q12]
حدیث نمبر: 12
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سُفْيَانَ . ح وَحَدَّثَنَا أَبُو مُوسَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَهْدِيٍّ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَتَوَضَّأُ عِنْدَ كُلِّ صَلاةٍ، فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْفَتْحِ، تَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، وَصَلَّى الصَّلَوَاتِ بِوُضُوءٍ وَاحِدٍ" ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّكَ فَعَلْتَ شَيْئًا لَمْ تَكُنْ تَفْعَلُهُ، قَالَ:" إِنِّي عَمْدًا فَعَلْتُهُ يَا عُمَرُ". هَذَا حَدِيثُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مَهْدِيٍّ
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر نماز کے وقت وضو کیا کرتے تھے۔ پھر جب فتح مکّہ کا دن آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا اور اپنے موزوں پر مسح کیا اور ایک ہی وضو سے کئی نمازیں ادا کیں۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی کہ اے اللہ کے رسول، (آج) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا عمل کیا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم پہلے نہیں کیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عمر، میں نے ایسا جان بوجھ کر کیا ہے۔“ (یہ بتانے کے لیے کہ وضو باقی ہو تو ہر نماز کے لیے دوبارہ وضو کرنا ضروری نہیں ہے۔) یہ عبدالرحمان بن مہدی کی روایت ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/كتاب: الوضوء/حدیث: 12]
تخریج الحدیث: «صحيح مسلم، كتاب الطهارة، باب جواز الصلوات كلها بوضوء واحد، رقم الحديث: 277، سنن ترمذي: 61، نسائي: 132، سنن ابي داود: 172، سنن ابن ماجه: 503، مسند احمد: 350/5، 351، 358، 41888، سنن الدارمي: 659»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥بريدة بن الحصيب الأسلمي، أبو سهل، أبو ساسان، أبو عبد الله، أبو الحصيب | صحابي | |
👤←👥سليمان بن بريدة الأسلمي سليمان بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي | ثقة | |
👤←👥علقمة بن مرثد الحضرمي، أبو الحارث علقمة بن مرثد الحضرمي ← سليمان بن بريدة الأسلمي | ثقة | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← علقمة بن مرثد الحضرمي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥عبد الرحمن بن مهدي العنبري، أبو سعيد عبد الرحمن بن مهدي العنبري ← سفيان الثوري | ثقة ثبت حافظ عارف بالرجال والحديث | |
👤←👥محمد بن المثنى العنزي، أبو موسى محمد بن المثنى العنزي ← عبد الرحمن بن مهدي العنبري | ثقة ثبت | |
👤←👥سفيان الثوري، أبو عبد الله سفيان الثوري ← محمد بن المثنى العنزي | ثقة حافظ فقيه إمام حجة وربما دلس | |
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد يحيى بن سعيد القطان ← سفيان الثوري | ثقة متقن حافظ إمام قدوة | |
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر محمد بن بشار العبدي ← يحيى بن سعيد القطان | ثقة حافظ |
تخريج الحديث:
کتاب | نمبر | مختصر عربی متن |
|---|---|---|
جامع الترمذي |
61
| لما كان عام الفتح صلى الصلوات كلها بوضوء واحد مسح على خفيه |
سنن أبي داود |
172
| صلى رسول الله يوم الفتح خمس صلوات بوضوء واحد مسح على خفيه |
صحيح مسلم |
642
| صلى الصلوات يوم الفتح بوضوء واحد مسح على خفيه |
سنن النسائى الصغرى |
133
| يتوضأ لكل صلاة لما كان يوم الفتح صلى الصلوات بوضوء واحد |
سنن الدارمي |
682
| يتوضأ لكل صلاة يوم فتح مكة صلى الصلوات بوضوء واحد مسح على خفيه |
صحيح ابن خزيمة |
13
| يتوضأ لكل صلاة يوم فتح مكة فإنه شغل فجمع بين الظهر والعصر بوضوء واحد |
صحيح ابن خزيمة |
12
| يتوضأ عند كل صلاة لما كان يوم الفتح توضأ مسح على خفيه صلى الصلوات بوضوء واحد |
صحيح ابن خزيمة |
14
| يتوضأ لكل صلاة لما كان يوم فتح مكة صلى الصلوات كلها بوضوء واحد |
سنن ابن ماجه |
510
| يتوضأ لكل صلاة لما كان يوم فتح مكة صلى الصلوات كلها بوضوء واحد |
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 12 in Urdu
سليمان بن بريدة الأسلمي ← بريدة بن الحصيب الأسلمي