صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
93. (93) باب ذكر الدليل على أن لا توقيت فى قدر الماء الذى يتوضأ به المرء، فيضيق على المتوضئ أن يزيد عليه أو ينقص منه،
اس بات کی دلیل کا بیان کہ وضو کرنے کے لیے پانی کی اسی مقدار مقرر نہیں ہے کہ جس سے کمی و بیشی کرتے ہوئے وضو کرنے والا تنگی اور حرج محسوس کرے
حدیث نمبر: 121
نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الصَّنْعَانِيُّ ، نا الْمُعْتَمِرُ ، قَالَ: سَمِعْتُ عُبَيْدَ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّهُ،" أَبْصَرَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ يَتَطَهَّرُونَ، وَالنِّسَاءُ مَعَهُمُ الرِّجَالُ وَالنِّسَاءُ مِنْ إِنَاءٍ وَاحِدٍ كُلُّهُمْ يَتَطَهَّرُ مِنْهُ"
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اپنی عورتوں سمیت (اکٹھّے) وضو کرتے ہوئے دیکھا، مرد و خواتین سب ایک ہی برتن سے وضو کر رہے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب ذكر الماء الذي لا ينجس، والذي ينجس إذا خالطته نجاسة/حدیث: 121]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 193، ومالك فى (الموطأ) برقم: 63، وابن الجارود فى "المنتقى"، 65، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 120، 121، 205، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1263، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 581، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 71، وأبو داود فى (سننه) برقم: 79، 80، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 381، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 925، 926، والدارقطني فى (سننه) برقم: 138، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4567»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 121 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 121
فوائد:
➊ وضو اور غسل کے لیے کوئی متعین مقدار مقرر نہیں کہ جس میں کمی بیشی ناجائز ہو بلکہ جس قدر میسر ہو، طہارت کے لیے پانی استعمال کرنا جائز ہے، البتہ پانی کا ضیاع اور اسراف مکروہ ہے۔
➋ وضو وغیرہ کے لیے مستعمل پانی سے طہارت حاصل کرنا جائز ہے اور استعمال شدہ پانی سے پاک کرنے کی صلاحیت سلب نہیں ہوئی ہے۔
➌ اجنبی مردوں اور عورتوں کا ایک جگہ ایک ساتھ وضو کرنا پردے کے احکام نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے کیونکہ پردے کے احکام کی رو سے یہ رخصت خود بخود ختم ہو جاتی ہے، البتہ محرم رشتہ داروں اور زن و شو کا ایک برتن میں ایک ساتھ وضو کرنا جائز ہے۔
➊ وضو اور غسل کے لیے کوئی متعین مقدار مقرر نہیں کہ جس میں کمی بیشی ناجائز ہو بلکہ جس قدر میسر ہو، طہارت کے لیے پانی استعمال کرنا جائز ہے، البتہ پانی کا ضیاع اور اسراف مکروہ ہے۔
➋ وضو وغیرہ کے لیے مستعمل پانی سے طہارت حاصل کرنا جائز ہے اور استعمال شدہ پانی سے پاک کرنے کی صلاحیت سلب نہیں ہوئی ہے۔
➌ اجنبی مردوں اور عورتوں کا ایک جگہ ایک ساتھ وضو کرنا پردے کے احکام نازل ہونے سے پہلے کا واقعہ ہے کیونکہ پردے کے احکام کی رو سے یہ رخصت خود بخود ختم ہو جاتی ہے، البتہ محرم رشتہ داروں اور زن و شو کا ایک برتن میں ایک ساتھ وضو کرنا جائز ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 121]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 121 in Urdu
نافع مولى ابن عمر ← عبد الله بن عمر العدوي