🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
778. (545) باب صلاة الضحى عند القدوم من السفر
سفر سے واپسی پر نماز چاشت پڑھنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1230
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ ، عَنْ خَالِدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ وَهُوَ ابْنُ شَقِيقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" يُصَلِّي الضُّحَى قَطُّ إِلا أَنْ يَقْدَمَ مِنْ سَفَرٍ فَيُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: خَبَرُ ابْنُ عُمَرَ مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَعْلَمْتُ فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا أَنَّ الْمُخْبِرَ وَالشَّاهِدَ الَّذِي يَجِبُ قَبُولُ خَبَرِهِ وَشَهَادَتِهِ مَنْ يُخْبِرُ بِرُؤْيَةِ الشَّيْءِ وَسَمَاعِهِ وَكَوْنِهِ، لا مَنْ يَنْفِي الشَّيْءَ، وَإِنَّمَا يَقُولُ الْعُلَمَاءُ: لَمْ يَفْعَلْ فُلانٌ كَذَا، وَلَمْ يَكُنْ كَذَا عَلَى الْمُسَامَحَةِ وَالْمُسَاهَلَةِ فِي الْكَلامِ، وَإِنَّمَا يُرِيدُونَ أَنَّ فُلانًا لَمْ يَفْعَلْ كَذَا عِلْمِي، وَإِنَّ كَذَا لَمْ يَكُنْ عِلْمِي، وَابْنُ عُمَرَ إِنَّمَا أَرَادَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَكُنْ يُصَلِّي الضُّحَى إِلا أَنْ يَقْدَمَ مِنْ غَيْبَةٍ أَيْ لَمْ أَرَهُ صَلَّى، وَلَمْ يُخْبِرْنِي ثِقَةٌ أَنَّهُ كَانَ يُصَلِّي الضُّحَى إِلا أَنْ يَقْدَمَ مِنْ غَيْبَةٍ وَهَكَذَا خَبَرُ عَائِشَةَ، رَوَاهُ كَهْمَسُ بْنُ الْحَسَنِ، وَالْجُرَيْرِيُّ جَمِيعًا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الضُّحَى؟ قَالَتْ:" لا إِلا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبِهِ" . حَدَّثَنَاهُ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، نَا كَهْمَسٌ ، ح وَحَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ كَهْمَسٍ ، ح وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا سَالِمُ بْنُ نُوحٍ ، نَا الْجُرَيْرِيُّ ، ح وَحَدَّثَنَا يَعْقُوبُ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَهَذِهِ اللَّفْظَةُ الَّتِي فِي خَبَرِ كَهْمَسٍ، وَالْجُرَيْرِيِّ مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي أَعْلَمْتُ أَنَّهَا تَكَلَّمَتْ بِهَا عَلَى الْمُسَامَحَةِ وَالْمُسَاهَلَةِ، وَإِنَّمَا مَعْنَاهَا مَا قَالُوا فِي خَبَرِ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ: مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي، وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّةِ مَا تَأَوَّلَتْ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ صَلَّى صَلاةَ الضُّحَى فِي غَيْرِ الْيَوْمِ الَّذِي كَانَ يَقْدَمُ فِيهِ مِنَ الْغَيْبَةِ، سَأَذْكُرُ هَذِهِ الأَخْبَارَ فِي مَوْضِعَهَا مِنْ هَذَا الْكِتَابِ إِنَّ شَاءَ اللَّهُ، فَالْخَبَرُ الَّذِي يَجِبُ قَبُولُهُ، وَيُحْكَمُ بِهِ هُوَ خَبَرُ مَنْ أَعْلَمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الضُّحَى لا خَبَرُ مَنْ، قَالَ: إِنَّهُ لَمْ يُصَلِّ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی نماز چاشت پڑھتے ہوئے نہیں دیکھا، مگر یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپس تشریف لاتے تو دو رکعات ادا فرماتے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت اسی جنس اور قسم سے تعلق رکھتی ہے جسے میں اپنی کتابوں میں کئی جگہ بیان کرچکا ہوں کہ وہ مخبر اور شاہد جس کی خبر اور شہادت قبول کرنا واجب ہے کہ وہ، وہ ہے جو کسی چیز کو دیکھنے، اُسے سننے یا اُس کے واقع ہونے کی خبر و شہادت دیتا ہے، اس سے مراد وہ مخبر یا شاہد نہیں جو کسی چیز کی نفی کرتا ہے (کہ وہ واقع نہیں ہوئی) بیشک علمائے کرام کہہ دیتے ہیں کہ فلاں شخص نے یہ کام نہیں کیا، اور یہ کام اس طرح نہیں ہوا، وہ یہ بات چشم پوشی کرتے اور تساہل برتتے ہوئے کہہ دیتے ہیں - اور بلاشبہ ان کی مراد یہ ہوتی ہے کہ میرے علم کے مطابق فلاں شخص نے یہ کام نہیں کیا اور میرے علم کے مطابق فلاں کام نہیں ہوا۔ اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ کہنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صرف سفر سے واپسی ہی پر نماز چاشت پڑھتے تھے تو اس سے اُن کی مراد یہ ہے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ نماز پڑھتے نہیں دیکھا اور نہ مجھے کسی ثقہ آدمی نے بتایا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے واپسی کے علاوہ بھی نماز چاشت پڑھتے تھے۔ اور اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث ہے۔ اس روایت کو کہمس بن حسن اور جریری نے عبداللہ بن شقیق سے روایت کیا ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا، کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز چاشت پڑھتے تھے؟ اُنہوں نے فرمایا کہ نہیں الّا یہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر سے (واپس) تشریف لاتے (تو ادا کرتے) امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ کہمس اور جریری کی روایت کے یہ الفاظ اسی طرح ہیں جسے میں نے بیان کیا ہے کہ سیدنا عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات تسامح اور تساہل کرتے ہوئے فرمائی ہے۔ اور ان الفاظ کا معنی وہی ہے جیسا کہ خالد الحذا کی روایت میں ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو نماز پڑھتے نہیں دیکھا اور ان کی اس تاویل کے صحیح ہونے کی دلیل یہ ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر سے واپسی کے دن کے علاوہ دن میں بھی نماز چاشت ادا کی ہے۔ میں عنقریب یہ روایات اس کتاب میں ان کے مقام پر بیان کروں گا۔ ان شاء اللہ۔ لہٰذا وہ روایت جسے قبول کرنا اور اس کے مطابق فیصلہ کرنا واجب ہے وہ اس شخص کی روایت ہے جس نے بیان کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز چاشت ادا کی ہے۔ نہ کہ اس شخص کی روایت جو کہ کہتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز نہیں پڑھی۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة الضحى/حدیث: 1230]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1128، 1177، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 718، ومالك فى (الموطأ) برقم: 519، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1230، 2104، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 312، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 482، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1293، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4989، 4991، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24659»
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥سعيد بن إياس الجريري، أبو مسعودثقة
👤←👥إسماعيل بن علية الأسدي، أبو بشر
Newإسماعيل بن علية الأسدي ← سعيد بن إياس الجريري
ثقة حجة حافظ
👤←👥يعقوب بن إبراهيم العبدي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم العبدي ← إسماعيل بن علية الأسدي
ثقة
👤←👥سعيد بن إياس الجريري، أبو مسعود
Newسعيد بن إياس الجريري ← يعقوب بن إبراهيم العبدي
ثقة
👤←👥سالم بن نوح البصري، أبو سعيد
Newسالم بن نوح البصري ← سعيد بن إياس الجريري
صدوق حسن الحديث
👤←👥محمد بن بشار العبدي، أبو بكر
Newمحمد بن بشار العبدي ← سالم بن نوح البصري
ثقة حافظ
👤←👥كهمس بن الحسن التيمي، أبو الحسن
Newكهمس بن الحسن التيمي ← محمد بن بشار العبدي
ثقة
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان
Newوكيع بن الجراح الرؤاسي ← كهمس بن الحسن التيمي
ثقة حافظ إمام
👤←👥سلم بن جنادة السوائي، أبو السائب
Newسلم بن جنادة السوائي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي
ثقة
👤←👥كهمس بن الحسن التيمي، أبو الحسن
Newكهمس بن الحسن التيمي ← سلم بن جنادة السوائي
ثقة
👤←👥عثمان بن عمر العبدي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عدي
Newعثمان بن عمر العبدي ← كهمس بن الحسن التيمي
ثقة
👤←👥يعقوب بن إبراهيم العبدي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم العبدي ← عثمان بن عمر العبدي
ثقة
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله
Newعائشة بنت أبي بكر الصديق ← يعقوب بن إبراهيم العبدي
صحابي
👤←👥عبد الله بن شقيق العقيلي، أبو محمد، أبو عبد الرحمن، أبو عامر
Newعبد الله بن شقيق العقيلي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فيه نصب
👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله
Newعائشة بنت أبي بكر الصديق ← عبد الله بن شقيق العقيلي
صحابي
👤←👥عبد الله بن شقيق العقيلي، أبو محمد، أبو عبد الرحمن، أبو عامر
Newعبد الله بن شقيق العقيلي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق
ثقة فيه نصب
👤←👥خالد الحذاء، أبو المنازل، أبو عبد الله
Newخالد الحذاء ← عبد الله بن شقيق العقيلي
ثقة
👤←👥معتمر بن سليمان التيمي، أبو محمد
Newمعتمر بن سليمان التيمي ← خالد الحذاء
ثقة
👤←👥يعقوب بن إبراهيم العبدي، أبو يوسف
Newيعقوب بن إبراهيم العبدي ← معتمر بن سليمان التيمي
ثقة
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1230 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1230
فوائد:
➊ یہ احادیث دلیل ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز چاشت پر مداومت نہیں کرتے تھے۔
البتہ سفر سے واپسی پر اس کا اہتمام کرتے تھے۔
➋ آپ نماز چاشت پر عدم مواظبت اس خطرے کے پیش نظر کرتے تھے، کہ کہیں یہ نماز امت پر فرض نہ ہو جائے۔
لیکن اب چونکہ یہ خدشہ نہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز چاشت کے اہتمام کی تاکید و ترغیب بھی بیان فرمائی ہے، لہٰذا اس کا اہتمام و مداومت مستحب فعل ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1230]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1230 in Urdu