صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
791. (558) باب ذكر خبر روي عن النبى صلى الله عليه وسلم فى صفة صلاته جالسا حسب بعض العلماء أنه خلاف هذا الخبر الذى ذكرناه
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹھ کر نماز پڑھنے کی کیفیت کے متعلق مروی اس حدیث کا بیان جس کے بارے میں بعض علمائے کرام کا خیال ہے کہ وہ حدیث ہماری ذکر کردہ حدیث کے خلاف ہے
حدیث نمبر: 1248
حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ الْعُقَيْلِيِّ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي قَائِمًا وَقَاعِدًا، فَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ قَائِمًا رَكَعَ قَائِمًا، وَإِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ قَاعِدًا رَكَعَ قَاعِدًا" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَهَذَا الْخَبَرُ يُبَيِّنُ هَذِهِ الأَخْبَارَ كُلَّهَا، فَعَلَى هَذَا الْخَبَرِ إِذَا افْتَتَحَ الصَّلاةَ قَائِمًا ثُمَّ قَعَدَ وَقَرَأَ انْبَغَى لَهُ أَنْ يَقُومَ فَيَقْرَأُ بَعْضَ قِرَاءَتِهِ، ثُمَّ يَرْكَعُ وَهُوَ قَائِمٌ، فَإِذَا افْتَتَحَ صَلاتَهُ قَاعِدًا قَرَأَ جَمِيعَ قِرَاءَتِهِ وَهُوَ قَاعِدٌ، ثُمَّ رَكَعَ وَهُوَ قَاعِدٌ اتِّبَاعًا لِفِعْلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
جناب ابن سیرین، عبداللہ بن شقیق کے واسطے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ اُنہوں نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (نفل نماز) کھڑے ہوکر اور بیٹھ کر بھی پڑھا کرتے تھے۔ تو جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر نماز کی ابتدا کرتے تو رکوع بھی کھڑے ہوکر کرتے، نماز کی ابتدا بیٹھ کر کرتے تو رکوع بھی بیٹھ کر کرتے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ روایت گزشتہ تمام روایات کو کھول کر بیان کرتی ہے۔ چنانچہ اس روایت کے مطابق جب نمازی، نماز کی ابتدا کھڑے ہوکر کرے، پھر بیٹھ جائے اور قراءت کرے تو اُس کے لئے مناسب اور لائق بات یہ ہے کہ وہ کھڑے ہو کر کچھ قراءت کرے اور پھر کھڑے کھڑے رکوع کرلے۔ اور جب وہ اپنی نماز کی ابتداء بیٹھ کر کرے اور ساری قراءت بیٹھ کر کرے تو پھر اسے رکوع بھی بیٹھ کر کرنا چاہیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فعل کی اتباع اور پیروی کرتے ہوئے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع قاعدا/حدیث: 1248]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 730، وابن الجارود فى "المنتقى"، 306، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1114، 1167، 1199، 1245، 1246، 1247، 1248، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 356، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1027، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1645، وأبو داود فى (سننه) برقم: 955، 1251، والترمذي فى (جامعه) برقم: 375، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1150، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4549، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24653»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عائشة بنت أبي بكر الصديق، أم عبد الله | صحابي | |
👤←👥عبد الله بن شقيق العقيلي، أبو محمد، أبو عبد الرحمن، أبو عامر عبد الله بن شقيق العقيلي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق | ثقة فيه نصب | |
👤←👥محمد بن سيرين الأنصاري، أبو بكر محمد بن سيرين الأنصاري ← عبد الله بن شقيق العقيلي | ثقة ثبت كبير القدر لا يرى الرواية بالمعنى | |
👤←👥يزيد بن إبراهيم التستري، أبو سعيد يزيد بن إبراهيم التستري ← محمد بن سيرين الأنصاري | ثقة ثبت إلا في روايته عن قتادة ففيها لين | |
👤←👥وكيع بن الجراح الرؤاسي، أبو سفيان وكيع بن الجراح الرؤاسي ← يزيد بن إبراهيم التستري | ثقة حافظ إمام | |
👤←👥سلم بن جنادة السوائي، أبو السائب سلم بن جنادة السوائي ← وكيع بن الجراح الرؤاسي | ثقة |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1248 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1248
فوائد:
➊ کسی شرعی عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نوافل ادا کرنا جائز ہیں اور بیٹھ کر نوافل پڑھنے کی صورت میں بیٹھ کر رکوع وسجود مسنون ہیں۔
حالت قیام میں نماز پڑھنے کی صورت میں کھڑے ہونے کی حالت میں رکوع و سجود کے مسنون طریقے کے مطابق رکوع و سجود مسنون ہیں۔
➊ کسی شرعی عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نوافل ادا کرنا جائز ہیں اور بیٹھ کر نوافل پڑھنے کی صورت میں بیٹھ کر رکوع وسجود مسنون ہیں۔
حالت قیام میں نماز پڑھنے کی صورت میں کھڑے ہونے کی حالت میں رکوع و سجود کے مسنون طریقے کے مطابق رکوع و سجود مسنون ہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1248]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1248 in Urdu
عبد الله بن شقيق العقيلي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق