صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
792. (559) باب تقصير أجر صلاة المضطجع عن أجر صلاة القاعد
لیٹ کے نماز پڑھنے والے کے اجر و ثواب میں بیٹھ کر نماز پڑھنے والے کے اجر و ثواب سے کمی کا بیان
حدیث نمبر: 1249
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلاءِ بْنِ كُرَيْبٍ ، وَأَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ ، قَالا: نَا أَبُو خَالِدٍ ، نَا حُسَيْنٌ الْمُكْتِبُ ، وَحَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ حُسَيْنٍ ، ح وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْمِقْدَامِ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " صَلاةُ النَّائِمِ عَلَى نِصْفِ صَلاةِ الْقَاعِدِ" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: قَدْ كُنْتُ أَعْلَمْتُ قَبْلُ أَنَّ الْعَرَبَ تُوقِعُ اسْمَ النَّائِمِ عَلَى الْمُضْطَجِعِ وَعَلَى النَّائِمِ الزَّائِلِ الْعَقْلِ بِالنَّوْمِ، وَإِنَّمَا أَرَادَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِهِ" وَصَلاةُ النَّائِمِ" الْمُضْطَجِعَ لا زَائِلَ الْعَقْلِ بِالنَّوْمِ، إِذْ زَائِلُ الْعَقْلِ بِالنَّوْمِ لا يَعْقِلُ الصَّلاةَ فِي وَقْتِ زَوَالِ الْعَقْلِ
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” لیٹ کر نماز پڑھنے والے کا اجر و ثواب بیٹھ کر نماز پڑھنے والے سے آدھا ہے۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ میں یہ بات بیان کر چکا ہوں کہ عرب نائم (سونے والا) کا اطلاق لیٹنے والے شخص پر بھی کرتے ہیں اور اس سونے والے پر بھی کرتے ہیں جس کی عقل و شعور نیند کی وجہ سے زائل ہو چکی ہو۔ بیشک مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کہ ”سونے والے کی نماز“ میں مراد لیٹنے والا ہے نہ کہ جس کی عقل و شعور نیند کی وجہ سے ختم ہو چکی ہو۔ کیونکہ نیند کی وجہ سے جس شخص کی عقل ختم ہو چکی ہو وہ اس حالت میں نماز کو نہیں سمجھتا (تو پھر اسے ادا کیسے کرے گا۔) [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع قاعدا/حدیث: 1249]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1115، 1116، 1117، وابن الجارود فى "المنتقى"، 254، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 979، 1236، 1249، 1250، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2513، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1190، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1659، وأبو داود فى (سننه) برقم: 951، 952، والترمذي فى (جامعه) برقم: 371، 372، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1223، 1231، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3719، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1425، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20133»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1249 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1249
فوائد:
نفل نماز کے بارے میں نمازی کو اختیار ہے کہ وہ نوافل کھڑے ہو کر، بیٹھ کر یا لیٹ کر ادا کرے۔
پھر کھڑے ہو کر نوافل پڑھنا افضل ہے۔
بیٹھ کر نوافل پڑھنے سے قیام کے نصف کے برابر اجر ملتا ہے اور لیٹ کر نوافل پڑھنے سے نصف النصف ثواب حاصل ہوتا ہے۔
نفل نماز کے بارے میں نمازی کو اختیار ہے کہ وہ نوافل کھڑے ہو کر، بیٹھ کر یا لیٹ کر ادا کرے۔
پھر کھڑے ہو کر نوافل پڑھنا افضل ہے۔
بیٹھ کر نوافل پڑھنے سے قیام کے نصف کے برابر اجر ملتا ہے اور لیٹ کر نوافل پڑھنے سے نصف النصف ثواب حاصل ہوتا ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1249]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1249 in Urdu
عبد الله بن بريدة الأسلمي ← عمران بن حصين الأزدي