صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
795. (562) بَابُ صَلَاةِ التَّطَوُّعِ فِي السَّفَرِ قَبْلَ صَلَاةِ الْمَكْتُوبَةِ
سفر میں فرض نماز سے پہلے نفل نماز پڑھنے کا بیان
حدیث نمبر: 1259
وَحَدَّثَنَا وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ ، أَخْبَرَنَا شُعَيْبٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، أَخْبَرَنِي عَاصِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ حَفْصَ بْنَ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَنْ تَرْكِهِ السُّبْحَةَ فِي السَّفَرِ، فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللَّهِ:" لَوْ سَبَّحْتُ مَا بَالَيْتُ أَنْ أُتِمَّ الصَّلاةَ" ، قَالَ الزُّهْرِيُّ: فَقُلْتُ لِسَالِمٍ: هَلْ سَأَلْتَ أَنْتَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ عَمَّا سَأَلَهُ عَنْهُ حَفْصُ بْنُ عَاصِمٍ؟ قَالَ سَالِمٌ: لا، إِنَّا كُنَّا نَهَابُهُ عَنْ بَعْضِ الْمَسْأَلَةِ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ: فَخَبَرُ سَالِمٍ، وَحَفْصٍ يَدُلانِ عَلَى أَنَّ خَبَرَ عَطِيَّةَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ وَهْمٌ. وَابْنُ أَبِي لَيْلَى وَاهِمٌ فِي جَمْعِهِ بَيْنَ نَافِعٍ، وَعَطِيَّةَ فِي خَبَرِ ابْنِ عُمَرَ فِي التَّطَوُّعِ فِي السَّفَرِ، إِلا أَنَّ هَذَا مِنَ الْجِنْسِ الَّذِي نَقُولُ إِنَّهُ لا يَجُوزُ أَنْ يُحْتَجَّ بِالإِنْكَارِ عَلَى الإِثْبَاتِ. وَابْنُ عُمَرَ رَحِمَهُ اللَّهُ، وَإِنْ لَمْ يَرَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُتَطَوِّعًا فِي السَّفَرِ، فَقَدْ رَآهُ غَيْرُهُ يُصَلِّي مُتَطَوِّعًا فِي السَّفَرِ، وَالْحُكْمُ لِمَنْ يُخْبِرُ بِرُؤْيَةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لا لِمَنْ لَمْ يَرَهُ، هَذِهِ مَسْأَلَةٌ قَدْ بَيَّنْتُهَا فِي غَيْرِ مَوْضِعٍ مِنْ كُتُبِنَا
جناب حفص بن عاصم بن عمر بن خطاب رحمه الله بیان کرتے ہیں کہ اُنہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سفر میں ان کے نفل نماز نہ پڑھنے کے بارے میں پوچھا تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے اسے جواب دیا، اگر میں نے نفل ہی پڑھنے تھے تو میں اپنی فرض نماز ہی مکمّل کر لیتا۔ امام زہری کہتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم سے کہا، کیا آپ نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے وہی مسئلہ پوچھا تھا جو حضرت حفص بن عاصم نے اُن سے پوچھا تھا؟ تو حضرت سالم نے فرمایا کہ نہیں، بیشک ہم اُن سے بعض مسائل پوچھتے ہوئے ڈرتے تھے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ حضرت سالم اور حفص کی روایات دلالت کرتی ہیں کہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عطیہ بن سعد کی روایت وہم ہے۔ اور ابن ابی لیلیٰ سفر میں نفل نماز کے متعلق سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کرنے میں نافع اور عطیہ کو جمع کر نے میں وہم ہوا ہے۔ مگر یہ مسئلہ اسی جنس سے تعلق رکھتا ہے جس کے متعلق ہم بیان کر چکے ہیں کہ (کسی راوی کے کسی چیز کے) انکار سے اس کے اثبات کے خلاف دلیل نہیں لی جا سکتی۔ اگر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما، نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر میں نفل نماز پڑھتے نہیں دیکھا تو ان کے علاوہ صحابہ کرام نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر میں نفل نماز پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔ لہٰذا ترجیح اس صحابی کی حدیث ہو گی جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو (نفل نماز ادا کرتے) دیکھا ہے، نہ کہ اس صحابی کی روایت کو جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (سفر میں نفل نماز پڑھتے) نہیں دیکھا۔ اس مسئلہ کو میں اپنی کتابوں میں کئی مقامات پر بیان کو چکا ہوں۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة التطوع فى السفر/حدیث: 1259]
تخریج الحدیث: «تقدم۔۔۔، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1101، 1102، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 689، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 947، 1255، 1256، 1257، 1259، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2753، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1457، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1223، والترمذي فى (جامعه) برقم: 544، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1071، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5591، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4766»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمن | صحابي | |
👤←👥حفص بن عاصم العدوي حفص بن عاصم العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي | ثقة | |
👤←👥محمد بن شهاب الزهري، أبو بكر محمد بن شهاب الزهري ← حفص بن عاصم العدوي | الفقيه الحافظ متفق على جلالته وإتقانه | |
👤←👥شعيب بن أبي حمزة الأموي، أبو بشر شعيب بن أبي حمزة الأموي ← محمد بن شهاب الزهري | ثقة حافظ متقن | |
👤←👥الحكم بن نافع البهراني، أبو اليمان الحكم بن نافع البهراني ← شعيب بن أبي حمزة الأموي | ثقة ثبت | |
👤←👥محمد بن يحيى الذهلي، أبو عبد الله محمد بن يحيى الذهلي ← الحكم بن نافع البهراني | ثقة حافظ جليل |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1259 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1259
فوائد:
➊ سفر میں فجر کی سنتوں کے سوا باقی موکدہ سنتوں کا اہتمام مکروہ ہے۔ اور سفر میں موکدہ سنتوں کا اہتمام نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں، لہٰذا سفر میں سنن و نوافل کا عدم اہتمام اولیٰ وافضل ہے۔
➋ دورانِ سفر نمازِ وتر کا اہتمام مستحب فعل ہے، لہٰذا حضر میں جتنی رات کی نماز معمول ہے اس کے مطابق سفر میں بھی اس معمول کا اہتمام درست ہے۔
➌ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم کا معمول یہ تھا کہ یہ حضرات دورانِ سفر فقط قصر نماز یعنی دو رکعت فرض نماز کا اہتمام کرتے تھے، فرض نماز سے قبل یا بعد میں نوافل و سنن کا اہتمام نہیں کرتے تھے اور یہی طریقہ افضل ہے۔
➊ سفر میں فجر کی سنتوں کے سوا باقی موکدہ سنتوں کا اہتمام مکروہ ہے۔ اور سفر میں موکدہ سنتوں کا اہتمام نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں، لہٰذا سفر میں سنن و نوافل کا عدم اہتمام اولیٰ وافضل ہے۔
➋ دورانِ سفر نمازِ وتر کا اہتمام مستحب فعل ہے، لہٰذا حضر میں جتنی رات کی نماز معمول ہے اس کے مطابق سفر میں بھی اس معمول کا اہتمام درست ہے۔
➌ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ، ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم کا معمول یہ تھا کہ یہ حضرات دورانِ سفر فقط قصر نماز یعنی دو رکعت فرض نماز کا اہتمام کرتے تھے، فرض نماز سے قبل یا بعد میں نوافل و سنن کا اہتمام نہیں کرتے تھے اور یہی طریقہ افضل ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1259]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1259 in Urdu
حفص بن عاصم العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي