صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
818. (585) باب تطييب المساجد
مساجد کو خوشبو سے معطر کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1296
نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا عَائِذُ بْنُ حَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَاحْمَرَّ وَجْهُهُ فَجَاءَتْهُ امْرَأَةٌ مِنَ الأَنْصَارِ فَحَكَّتْهَا، فَجَعَلَتْ مَكَانَهَا خَلُوقًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا أَحْسَنَ هَذَا" . قَالَ أَبُو بَكْرٍ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کے قبلہ رخ ناک کی ریزش لگی دیکھی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ مبارک (غصّے کی وجہ سے) سرخ ہوگیا، تو ایک انصاری عورت آئی، اُس نے اس گندگی کو کھرچ کر صاف کردیا، اور اس کی جگہ پر زعفران سے بنی خوشبو لگا دی۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کتنا بہترین کام ہے۔“ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ یہ حدیث نہایت غریب ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضائل المساجد وبنائها وتعظيمها/حدیث: 1296]
تخریج الحدیث: «اسناده جيد، أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 405، 412، 413، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 551، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1296، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2267، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 727، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 762، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1221، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12245»
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥حميد بن أبي حميد الطويل، أبو عبيدة حميد بن أبي حميد الطويل ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة مدلس | |
👤←👥عائذ بن حبيب العبسي، أبو أحمد، أبو هشام عائذ بن حبيب العبسي ← حميد بن أبي حميد الطويل | صدوق رمي بالتشيع | |
👤←👥يوسف بن موسى الرازي، أبو يعقوب يوسف بن موسى الرازي ← عائذ بن حبيب العبسي | صدوق حسن الحديث |
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1296 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1296
فوائد:
➊ مساجد کو پاک صاف رکھنے اور خوشبو وغیرہ سے معطر رکھنے کا حکم ہے۔
اس سے نمازی حضرات شاداں و فرحاں رہتے اور طبیعتوں میں انبساط پیدا ہوتا ہے اور لوگ یکسوئی سے عبادت بجا لاتے ہیں۔
➋ مساجد میں تھوکنا، رینٹ پھینکنا اور گندگی بکھیرنا گناہ ہے اور جہاں رینٹ یا آلائش لگی ہو، اس حصہ کو صاف کر کے وہاں خوشبو لگانا مستحب فعل ہے۔
گزشتہ حدیث میں ہے کہ گندگی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے صاف کیا، جبکہ اس حدیث میں ہے کہ انصاری عورت نے اس گندگی کو صاف کیا۔
اس سے معلوم ہوا کہ یہ دو مختلف واقعات ہیں۔
لہذا یہ دونوں احادیث ایک دوسری کی مخالف نہیں ہیں۔
➊ مساجد کو پاک صاف رکھنے اور خوشبو وغیرہ سے معطر رکھنے کا حکم ہے۔
اس سے نمازی حضرات شاداں و فرحاں رہتے اور طبیعتوں میں انبساط پیدا ہوتا ہے اور لوگ یکسوئی سے عبادت بجا لاتے ہیں۔
➋ مساجد میں تھوکنا، رینٹ پھینکنا اور گندگی بکھیرنا گناہ ہے اور جہاں رینٹ یا آلائش لگی ہو، اس حصہ کو صاف کر کے وہاں خوشبو لگانا مستحب فعل ہے۔
گزشتہ حدیث میں ہے کہ گندگی کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے صاف کیا، جبکہ اس حدیث میں ہے کہ انصاری عورت نے اس گندگی کو صاف کیا۔
اس سے معلوم ہوا کہ یہ دو مختلف واقعات ہیں۔
لہذا یہ دونوں احادیث ایک دوسری کی مخالف نہیں ہیں۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1296]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1296 in Urdu
حميد بن أبي حميد الطويل ← أنس بن مالك الأنصاري