🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
840. (607) باب صفة بناء مسجد النبى صلى الله عليه وسلم الذى كان على عهده
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیر کی کیفیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1324
أنا أنا أبو طاهر، نا أبو بكر، نا محمد بن يحيى، نا يعقوب بن إبراهيم بن سعد، ح وثنا علي بن سعيد النسوي، نا يعقوب، - يعني ابن إبراهيم، ثنا أبي، عن صالح، أخبرنا نافع، أن عبد الله أخبره: أن المسجد كان على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم مبنيا باللبن وسقفه الجريد وعمده خشب النخل، فلم يزد فيه أبو بكر شيئا وزاد فيه عمر، وبناه على بنيانه في عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم باللبن والجريد، وأعاد عمده خشبا، ثم غيره عثمان، فزاد فيه زيادة كثيرة، وبنى جداره بالحجارة المنقوشة والقصة، وجعل عمده حجارة منقوشة، وسقفه بالساج . قال محمد بن يحيى: وعمده خشب النخل، ولم يذكر القصة.
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مسجد نبوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں اینٹوں سے بنی ہوئی تھی، اس کی چھت کھجور کی ٹہنیوں سے ڈالی گئی تھی اور اس کے ستون کھجور کی لکڑی کے تھے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے (اپنے عہد میں) اس میں کچھ اضافہ نہیں کیا۔ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس میں اضافہ (کرکے اسے کشادہ اور وسیع) کیا۔ اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک کی بنیادوں پر اینٹوں اور کھجور کی شاخوں سے تعمیر کیا اور اس کے ستون لکڑی سے دوبارہ بنوائے پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس میں تبدیلی کی اور کافی اضافہ کیا۔ اُنہوں نے اس کی دیواریں منقّش پتھروں اور چونے سے بنوائیں، اور اس کے ستون بھی منقّش پتھروں سے تعمیر کرائے، اور اس کی چھت ساگوان کی عمدہ لکڑی سے ڈالی۔ محمد بن یحییٰ کی روایت میں الفاظ اس طرح ہیں کہ اور اس کے ستون کھجور کی لکڑی کے بنوائے۔ اور اُنہوں نے چونے کا ذ کر نہیں کیا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب فضائل المساجد وبنائها وتعظيمها/حدیث: 1324]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 446، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1324، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1601، وأبو داود فى (سننه) برقم: 451، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4362، وأحمد فى (مسنده) برقم: 6248، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 5129»
 
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1324 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1324
فوائد:
◈ ابن بطال رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ مسجد کی تعمیر میں مسنون طریقہ میانہ روی اختیار کرنا اور اس کی زیبائش کی تحسین میں غلو ترک کرنا ہے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور میں کثرت فتوحات اور مالی وسعت کے باوجود انہوں نے مسجد نبوی کو تبدیل نہ کیا اور مسجد کی تجدید کی ضرورت تب پیش آئی جب کھجور کے تنے بوسیدہ ہو گئے۔
پھر عثمان رضی اللہ عنہ کا دور آیا اور مال کی بہتات کے باوجود انہوں نے مسجد کو خوبصورت بنایا، لیکن اس حسن میں تزئین و آرائش اور تحسین میں غلو نہیں تھا اور اس پر بھی بعض صحابہ نے ان کے اس کام پر نکتہ چینی کی۔
اور سب سے پہلے جس شخص نے مساجد کی تزئین و آرائش کی وہ ولید بن عبدالملک بن مروان تھے، یہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا آخری دور تھا اور اکثر اہل علم فتنہ کے ڈر کی وجہ سے خاموش رہے اور سنت کے خلاف اس کام کی مخالفت نہ کی۔ [فتح الباري: 699/1]
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1324]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1324 in Urdu