🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
851. (618) باب ذكر صلاة الوسطى التى أمر الله عز وجل بالمحافظة عليها على التكرار والتأكيد بعد دخولها فى جملة الصلوات التى أمر الله بالمحافظة عليها،
اس درمیانی نماز کا بیان جس کی حفاظت و نگہداشت کا حُکم اللہ تعالی نے ان جملہ نمازوں کی حفاظت کے حُکم کے بعد دوبارہ تاکید کے ساتھ دیا ہے جن میں یہ بھی شامل تھی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1338
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الصَّلاةُ الْوُسْطَى صَلاةُ الْعَصْرِ"
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: درمیانی نماز، نماز عصرہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب الأفعال المباحة فى المسجد غير الصلاة وذكر الله/حدیث: 1338]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1338، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 395، 396، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2199، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 8714»
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو هريرة الدوسيصحابي
👤←👥أبو صالح السمان، أبو صالح
Newأبو صالح السمان ← أبو هريرة الدوسي
ثقة ثبت
👤←👥سليمان بن طرخان التيمي، أبو المعتمر
Newسليمان بن طرخان التيمي ← أبو صالح السمان
ثقة
👤←👥عبد الوهاب بن عطاء الخفاف، أبو نصر
Newعبد الوهاب بن عطاء الخفاف ← سليمان بن طرخان التيمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥أحمد بن منيع البغوي، أبو عبد الله، أبو جعفر
Newأحمد بن منيع البغوي ← عبد الوهاب بن عطاء الخفاف
ثقة حافظ
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1338 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1338
فوائد:
➊ یہ احادیث اس بات کی دلیل ہیں کہ صلاۃِ وسطیٰ (درمیانی نماز) نمازِ عصر ہے اور اس کے اہتمام کی قرآن میں خاص تاکید وارد ہوئی ہے۔
لہٰذا صلاۃِ وسطیٰ کی تعیین میں دیگر مختلف اقوال درست نہیں ہیں اور صلاۃِ وسطیٰ نمازِ عصر ہے، یہی قول راجح ہے۔
➋ نمازِ عصر میں بلا عذر تاخیر اور ضیاع باعثِ گناہ ہے اور اس بارے میں سخت وعید ہے، لیکن کسی واقعی عذر کی وجہ سے نمازِ عصر رہ جائے تو گناہ نہیں ہے۔
➌ جن کفار و مشرکین کی وجہ سے نمازِ عصر چھوٹ جائے ان پر لعنت کرنا اور ان کی ہلاکت کی دعا کرنا جائز ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1338]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1338 in Urdu