صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
865. (632) باب الرخصة فى القتال والكلام فى صلاة الخوف، قبل إتمام الصلاة، إذا خافوا غلبة العدو
نماز خوف کے دوران نماز کی تکمیل سے پہلے لڑائی اور گفتگو کرنے کی رخصت ہے جبکہ دشمن کے غلبے کا ڈر پیدا ہوجائے
حدیث نمبر: 1365
نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ ، أَخْبَرَنَا إِسْرَائِيلُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ سُلَيْمِ بْنِ عَبْدٍ السَّلُولِيِّ ، قَالَ: كُنَّا مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِطَبَرِسْتَانَ، وَكَانَ مَعَهُ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُمْ: أَيُّكُمْ شَهِدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْخَوْفِ؟ فَقَالَ حُذَيْفَةُ: أَنَا، مُرْ أَصْحَابَكَ" فَيَقُومُوا طَائِفَتَيْنِ، طَائِفَةٌ مِنْهُمْ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، وَطَائِفَةٌ مِنْهُمْ خَلَّفَكَ، فَتُكَبِّرُ وَيُكَبِّرُونَ جَمِيعًا، ثُمَّ تَرْكَعُ وَيَرْكَعُونَ جَمِيعًا، ثُمَّ تَرْفَعُ فَيَرْفَعُونَ جَمِيعًا، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَسْجُدُ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيكَ، وَتَقُومُ الطَّائِفَةُ الأُخْرَى بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ قَامَ الَّذِينَ يَلُونَكَ وَخَرَّ الآخَرُونَ سُجَّدًا، ثُمَّ تَرْكَعُ فَيَرْكَعُونَ جَمِيعًا، ثُمَّ تَسْجُدُ فَتَسْجُدُ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيكَ، وَالطَّائِفَةُ الأُخْرَى قَائِمَةٌ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، فَإِذَا رَفَعْتَ رَأْسَكَ مِنَ السُّجُودِ سَجَدَ الَّذِينَ بِإِزَاءِ الْعَدُوِّ، ثُمَّ تُسَلِّمُ عَلَيْهِمْ، وَتَأْمُرُ أَصْحَابَكَ إِنْ هَاجَمَهُمْ هَيْجٌ، فَقَدْ حَلَّ لَهُمُ الْقِتَالُ وَالْكَلامُ"
جناب سلیم بن عبدالسلوالی بیان کرتے ہیں کہ ہم سیدنا سعید بن عاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ طبرستان میں تھے اور اُن کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ کرام بھی موجود تھے۔ اُنہوں نے دیگر صحابہ سے پو چھا، آپ میں سے کسی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز خوف پڑھی ہے؟ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے، پھر نماز خوف کا طریقہ بتا تے ہوئے کہا کہ اپنے ساتھیوں کو حُکم دیں کہ وہ دو گرہوں میں کھڑے ہو جائیں ایک گروہ دشمن کے سامنے صف آراء ہو جائے اور دوسرا گروہ آپ کے پیچھے صف بنالے۔ پھر تم تکبیر کہو تو وہ سب بھی تکبیر کہہ کر نماز شروع کر دیں۔ پھر تم رکوع کرو تو وہ بھی رکوع کریں، پھر تم سر اُٹھاؤ تو وہ سب بھی سراُٹھائیں پھر تم سجدہ کرو تو تمہارے قریب والا گروہ سجدہ کرلے۔ اور دوسرا وہ دشمن کے سامنے کھڑا رہے۔ پھر جب سجدے سے سر اُٹھا لو تو تمہارے قریب والے لوگ کھڑے ہو جائیں اور دوسرے گروہ والے سجدہ کرلیں۔ پھر تم رکوع کرو تو وہ سب بھی رکوع کرلیں۔ پھر تم سجدے کروتو تمہارے قریب والا گروہ بھی سجدے کرلے جبکہ دوسرا گروہ دشمن کے سامنے کھڑا رہے۔ پھر جب تم اپنا سر سجدوں سے اُٹھا لو تو دشمن کے سامنے کھڑے ہونے والے سجدہ کرلیں، پھر تم اُن کے ساتھ مل کر سلام پھیر دو، اور تم اپنے ساتھیوں کو حُکم دو کہ اگر اُن پر زوردار حملہ ہو جائے تو اُن کے لئے جنگ کرنا اور بات چیت کرنا حلال ہو جائے گا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة الخوف/حدیث: 1365]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1343، 1365، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1452، 2425، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1249، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1528، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1246، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 2506، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6087، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23740»
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1365 in Urdu
أبو إسحاق السبيعي ← سليم بن عبد السلولي