صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
876. (643) باب تطويل القراءة فى القيام الأول والتقصير فى القراءة فى القيام الثاني عن الأول
پہلے قیام میں طویل قراءت کرنے اور دوسرے قیام میں پہلے سے مختصر قراءت کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1378
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْمَخْزُومِيُّ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَمْرَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " رَكِبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْكَبًا لَهُ قَرِيبًا، فَلَمْ يَأْتِ حَتَّى كَسَفَتِ الشَّمْسُ، فَخَرَجْتُ فِي نِسْوَةٍ فَكُنَّا بَيْنَ يَدَيِ الْحُجْرَةِ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَرْكَبِهِ سَرِيعًا، وَقَامَ مَقَامَهُ الَّذِي كَانَ يُصَلِّي، وَقَامَ النَّاسُ وَرَاءَهُ، فَكَبَّرَ، وَقَامَ قِيَامًا طَوِيلا، ثُمَّ رَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلا، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ فَأَطَالَ السُّجُودِ، ثُمَّ رَفَعَ، ثُمَّ سَجَدَ سُجُودًا دُونَ السُّجُودِ الأَوَّلِ، ثُمَّ قَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ فَأَطَالَ الْقِيَامَ، وَهُوَ دُونَ الْقِيَامِ الأَوَّلِ، ثُمَّ رَكَعَ فَأَطَالَ الرُّكُوعَ، وَهُوَ دُونَ الرُّكُوعِ الأَوَّلِ، ثُمَّ سَجَدَ، وَانْصَرَفَ، فَكَانَتْ صَلاتُهُ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ، فَجَلَسَ، وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ" . نَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ مِثْلَهُ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر سوار ہوکر ایک قریبی جگہ پر تشریف لے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے واپس آنے سے پہلے ہی سورج کو گرہن لگ گیا، میں چند عورتوں کے ساتھ باہر نکلی، (ابھی) ہم حجرے کے سامنے ہی تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری سے (اُتر کر) تیزی کے ساتھ تشریف لائے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز پڑھانے والی جگہ پرکھڑے ہو گئے۔ لوگ بھی آپ کے پیچھے کھڑے ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اللهُ أَكْبَرُ» کہا (اور نماز شروع کر دی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑا طویل قیام کیا، پھر ایک طویل رکوع کیا، پھر سراُٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر ایک طویل قیام کیا جو پہلے قیام سے مختصر تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو طویل رکوع کیا مگر پہلے رکوع سے مختصر تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اُٹھایا پھر آپ نے سجدہ کیا تو بڑا طویل سجدہ کیا، پھر سجدے سے سر اُٹھایا، پھر پہلے سجدے سے مختصر سجدہ کیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طویل قیام کیا جو پہلے قیام سے چھوٹا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا طویل رکوع کیا اور ہو پہلے رکوع سے مختصر تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر مبارک اُٹھایا اور لمبا قیام کیا مگر وہ پہلے قیام سے چھوٹا تھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا تو لمبا رکوع کیا مگر وہ پہلے رکوع سے چھوٹا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سجدے کیے اور، نماز مکمّل کردی، اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز میں چار رکوع اور چار سجدے ہوئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور سورج (اس وقت تک) روشن ہوچکا تھا۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة الكسوف/حدیث: 1378]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1044، 1046، 1047، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 901، ومالك فى (الموطأ) برقم: 639، وابن الجارود فى "المنتقى"، 276، 277، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 851، 1378، 1379، 1382، 1383، 1387، 1390، 1391، 1395، 1398، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2830، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1238، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1464، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1177، والترمذي فى (جامعه) برقم: 561، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1263، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3486، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1786، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24679»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1378 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1378
فوائد:
➊ نماز کسوف میں ہر رکعت میں دو رکوع اور دو قیام مسنون ہیں، پہلا قیام طویل تر، پھر دوسرا اس سے کچھ کم ہو، پھر دوسری رکعت کا پہلا قیام پہلی رکعت کے دوسرے قیام سے کچھ مختصر اور دوسری رکعت کا آخری قیام، پہلے قیام سے مختصر ہونا چاہیے۔
➋ نماز کسوف میں طویل تر تلاوت کرنا مشروع ہے اور رکوع و سجود کی طوالت قیام کی طوالت کے مطابق ہونی چاہیے۔
➊ نماز کسوف میں ہر رکعت میں دو رکوع اور دو قیام مسنون ہیں، پہلا قیام طویل تر، پھر دوسرا اس سے کچھ کم ہو، پھر دوسری رکعت کا پہلا قیام پہلی رکعت کے دوسرے قیام سے کچھ مختصر اور دوسری رکعت کا آخری قیام، پہلے قیام سے مختصر ہونا چاہیے۔
➋ نماز کسوف میں طویل تر تلاوت کرنا مشروع ہے اور رکوع و سجود کی طوالت قیام کی طوالت کے مطابق ہونی چاہیے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1378]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1378 in Urdu
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق