صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
881. (648) باب الدعاء والتكبير فى القيام بعد رفع الرأس من الركوع وبعد قول سمع الله لمن حمده فى صلاة الكسوف
نماز کسوف میں رکوع سے سر اٹھانے کے بعد اور «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہنے کے بعد قیام کی حالت میں دعا مانگنے اور «اللهُ أَكْبَر» کہنے کا بیان
حدیث نمبر: 1388
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ الْحُرِّ ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ ، عَنْ رَجُلٍ يُدْعَى الْحَنَشَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، وَيُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، قَالا: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ الْحُرِّ ، حَدَّثَنِي الْحَكَمُ ، عَنْ رَجُلٍ يُدْعَى حَنَشًا ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، وَهَذَا حَدِيثُ أَحْمَدَ، قَالَ: " كَسَفَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى عَلِيٌّ بِالنَّاسِ، بَدَأَ فَقَرَأَ بِـ: يس أَوْ نَحْوِهَا، ثُمَّ رَكَعَ نَحْوًا مِنْ قَدْرِ السُّورَةِ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ قَامَ قَدْرَ السُّورَةِ يَدْعُو، وَيُكَبِّرُ، ثُمَّ رَكَعَ قَدْرَ قِرَاءَتِهِ أَيْضًا، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ: ثُمَّ قَامَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ، فَفَعَلَ كَفِعْلِهِ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى ، ثُمَّ حَدَّثَهُمْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ كَذَلِكَ يَفْعَلُ". قَالَ أَبُو بَكْرٍ فِي هَذَا الْخَبَرِ: إِنَّهُ رَكَعَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ مِثْلُ خَبَرِ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سورج گرہن لگا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز کسوف پڑھائی اُنہوں نے نماز شروع کی تو سورة «يٰس» یا اس جیسی کوئی سورت پڑھی، پھر اُنہوں نے سورت کی مقدار کے برابر لمبا رکوع کیا، پھر رکوع سے سر اُٹھایا تو «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» کہا پھر سورت کی مقدار برابر کھڑے ہوکر دعا کرتے رہے اور تکبیر کہتے رہے۔ پھر اپنی قراءت کے برابر لمبا رکوع کیا۔ پھر بقیہ حدیث بیان کی اور فرمایا، پھر وہ دوسری رکعت کے لئے کھڑے ہوئے تو پہلی رکعت کی طرح تمام کام کیے۔ پھر حاضرین کو بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی طرح کرتے تھے۔ امام ابوبکر رحمه الله فرماتے ہیں کہ اس روایت میں مذکور ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ہر رکعت میں چار رکوع کیے تھے۔ جیسا کہ طاؤس کی سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت میں ذکر ہوا ہے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب صلاة الكسوف/حدیث: 1388]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1388، 1394، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6418، 6419، 6420، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1232، والبزار فى (مسنده) برقم: 628، 639، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 8392، والطحاوي فى (شرح معاني الآثار) برقم: 1923»
الرواة الحديث:
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 1388 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 1388
فوائد:
➊ نمازِ کسوف کے ہر قیام کے بعد رکوع میں جاتے وقت تکبیر کہنا اور ہر رکوع سے اٹھتے وقت «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» کہنا مشروع ہے۔
➋ نمازِ کسوف کے قیامِ ثانی میں قیامِ اول کی مثل تلاوت کی جائے گی، البتہ قیامِ ثانی میں دعا اور تکبیرات کا اہتمام کرنا بھی مشروع ہے۔
➊ نمازِ کسوف کے ہر قیام کے بعد رکوع میں جاتے وقت تکبیر کہنا اور ہر رکوع سے اٹھتے وقت «سَمِعَ اللهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ» کہنا مشروع ہے۔
➋ نمازِ کسوف کے قیامِ ثانی میں قیامِ اول کی مثل تلاوت کی جائے گی، البتہ قیامِ ثانی میں دعا اور تکبیرات کا اہتمام کرنا بھی مشروع ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 1388]
Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 1388 in Urdu
حنش بن المعتمر الكناني ← علي بن أبي طالب الهاشمي