🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح ابن خزيمه سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح ابن خزیمہ میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (3080)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
109. ‏(‏108‏)‏ باب صفة استياك النبى صلى الله عليه وسلم
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مسواک کرنے کی کیفیت کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 141
نا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدَةَ الضَّبِّيُّ ، أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ زَيْدٍ ، عَنْ غَيْلانَ بْنَ جَرِيرٍ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ:" دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَسْتَنُّ وَطَرَفُ السِّوَاكِ عَلَى لِسَانِهِ، وَهُوَ يَقُولُ: عَا عَا"
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کر رہے تھے اور مسواک کا کنارہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک پر تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم عا عا کی آواز نکال رہے تھے۔ [صحيح ابن خزيمه/جماع أبواب سنن السواك وفضائله/حدیث: 141]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 244، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 254، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 141، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1073، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 3، وأبو داود فى (سننه) برقم: 49، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 142، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20051»
 
الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن قيس الأشعري، أبو موسىصحابي
👤←👥أبو بردة بن أبي موسى الأشعري، أبو بردة
Newأبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري
ثقة
👤←👥غيلان بن جرير المعولي
Newغيلان بن جرير المعولي ← أبو بردة بن أبي موسى الأشعري
ثقة
👤←👥حماد بن زيد الأزدي، أبو إسماعيل
Newحماد بن زيد الأزدي ← غيلان بن جرير المعولي
ثقة ثبت فقيه إمام كبير مشهور
👤←👥أحمد بن عبدة الضبي، أبو عبد الله
Newأحمد بن عبدة الضبي ← حماد بن زيد الأزدي
ثقة
صحیح ابن خزیمہ کی حدیث نمبر 141 کے فوائد و مسائل
الشيخ محمد فاروق رفیع حفظہ اللہ، فوائد و مسائل، صحیح ابن خزیمہ ح : 141
فوائد:
نیند سے بیداری کے وقت منہ بدبودار ہو چکا ہوتا ہے اور منہ کا ذائقہ متغیر ہو چکا ہوتا ہے۔
لہذا اس وقت منہ کی خوب صفائی کے لیے مسواک کا کنارہ زبان پر پھیرنا اور اسے حلق تک لے جانا بہتر ہے۔
اور اس صورت میں (قے) کرنے کی طرح حلق سے آواز نکلتی ہے، یہ مسواک میں مبالغہ اور منہ کی خوب طہارت کے سبب ہوتا ہے۔
[صحیح ابن خزیمہ شرح از محمد فاروق رفیع، حدیث/صفحہ نمبر: 141]

Sahih Ibn Khuzaymah Hadith 141 in Urdu